اسلام کبھی ایک آسان مذہب تھا اور اب ؟ شمس جیلانی

0
728

ہم نے اپنے گزشتہ مضمون میں لکھا تھا کہ اسلام ایک انتہائی آسان مذہب تھا مگر اب؟ اور وعدہ کیا تھا ہم اس سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے مزید تفصیلات پیش کریں گے تاکہ لوگ ان تمام آسانیوں سے مستفید ہوسکیں؟ اور شاید تعالیٰ نے ہمیں جواتنا زندہ رکھا کہ جو کہ طویل عمری میں شامل ہوتا ہے اس عمر میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جو کہ بوڑھوں کو عطا فر ما ئی ہیں؟مگر حضور ﷺ نے اس دور سے پناہ مانگی ہے اللہ تعالیٰ سے اور اس کے لیئے ایک دعا بھی عطا فرمائی ہے جو ہم آگے پیش کرنے جا رہے ہیں۔
جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں؟
آیت نمبر 68 تا 83
یہ تفسیر سورہ یاسین اور سورہ النحل کی آیت 70 سےجلالین لی ہے۔ اوردوترجمہ یہ ہے کہ:” اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قرائت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قرائت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ شعرگوئی آپ کی شایان شان ہے جس۔ کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے والا قرآن ہے، تاکہ اس شخص کو قرآن کے ذریعہ جو زندہ ہو متنبہ کرے یعنی جو اس سے کہا جائے اسے سمجھتا ہو اور وہ اہل ایمان ہیں، اور کافروں پر عذاب کا وعدہ ثابت ہوجائے، اور کافر ؐمردوں کے مانند ہیں (اس لئے کہ (جو بات ان سے کہی جاتی ہے اس کو نہیں سمجھتے کیا یہ لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ ہم نے اپنے دست قدرت سے بلا شریک و معین کے پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے منجملہ دیگر لوگوں کے ان کے لئے جانور وہ اونٹ گائے اور بکریاں ہیں پیدا کئے جن کے وہ مالک بنے ہوئے ہیں قابو میں کردیا ان میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں اور بعض کو ان میں سے کھاتے ہیں اور ان کے لئے ان میں اور منافع بھی ہیں، جیسا کہ ان کی صوف، رواں اور ان کے بال اور پینے کی چیزیں ہیں، (مثلاً) ان کا دودھ یا دودھ کا محل (تھن) مشارب مشرَبٌ کی جمع ہے بمعنی شُربٌ کیا لوگ اپنے اوپر جانوروں کے ذریعہ احسان کرنے والے کا شکر ادا نہیں کرتے کہ ایمان لے آئیں، یعنی انہوں نے ایسا نہیں کیا اور انہوں نے غیر اللہ (یعنی) بتوں کو معبود بنالیا ہے کہ ان کی بندگی کرتے ہیں کہ شاہد ان کی طرف سے ان کو مدد پہنچے، کہ اللہ کے عذاب سے ان کے اعتقاد کے مطابق ان (بتوں) کی سفارش سے (عذاب سے) محفوظ رہ سکیں (مگر) ان کے معبود ان کی ہرگز مدد نہیں کرسکتے ان معبودوں کو ذوی العقول کے درجہ میں اتار لیا گیا ہے وہ یعنی ان کے ضمی معبود جن سے مدد کی توقع رکھنے کی وجہ سے ان کے لشکر میں ان (عابدین) کے ساتھ جہنم میں حاضر کئے جائیں گے، تو آپ کے بارے میں ان کا قول لَسْتَ وغیرہ آپ کو رنجیدہ نہ کرے بیشک ہم اس بات کو اور اس کے علاوہ کو خوب جانتے ہیں جن باتوں کو یہ چھپاتے ہیں اور جن کو ظاہر کرتے ہیں، ہم ان کو اس کا بدلہ دیں گے کیا انسان کو یہ معلوم نہیں اور وہ عاص بن وائل ہے کہ ہم نے اس کو نطفہ منی سے پیدا کیا حتی کہ ہم نے اس کو قوی اور مضبوط کردیا پھر اس نے بعث کا انکار کرکے خصومت کو ظاہر کردیا اعلانیہ اعتراض کرنے لگا یعنی ہم سے سخت مخاصمت کرنے لگا، اور اس نے اس بارے میں ہماری شان میں ایک عجیب بات کہی اور اپنی اصل (حقیقت) کو بھول گیا کہ وہ نطفہ منی سے پیدا شدہ ہے اور وہ اس کی بیان کردہ عجیب بات سے زیادہ عجیب ہے کہتا ہے ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں کون زندہ کرسکتا ہے؟ رمیم بمعنی بالیۃٌ (بوسیدہ) رَمیمۃ ۃ کے ساتھ نہیں کہا (جیسا کہ قیاس کا تقاضا تھا) اس لئے کہ رمیم اسم ہے نہ کہ صفت، روایت کیا گیا کہ عاص بن وائل نے ایک بوسیدہ ہڈی لی، اور اس کو ریزہ ریزہ کردیا، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ہڈی کو بعد اس کے کہ وہ کہنہ اور بوسیدہ ہوگئی زندہ کرسکتا ہے؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواباً ارشاد فرمایا: ہاں کیوں نہیں، اور تجھ کو دوزخ میں داخل کرے گا آپ جواب دیجئے کہ ان کو وہ ذات زندہ کرے گی جس نے ان کو اول بار پیدا کیا اور وہ اپنی تمام مخلوق کے بارے میں پیدا کرنے سے پہلے اور پیدا کرنے کے بعد مجملاً ومفصلاً جانتا ہے، اور وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے لئے منجملہ دیگر لوگوں کے مرخ اور عفار یا ہر سبز درخت سے سوائے عناب کے آگ پیدا کی پھر تم اس سے آگ سلگالیتے ہو، اور یہ بعث (بعدالموت) پر قادر ہونے کی دلیل ہے، اس لئے کہ اس نے اس میں پانی اور آگ اور لکڑی (متضاد چیزیں) جمع کردیں، پانی آگ کو نہیں بجھاتا اور نہ آگ لکڑی کو جلاتی ہے، جس نے آسمان اور زمین جیسی چیزیں پیدا فرمائیں کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان جیسے کو دبارہ زندہ کر سکے۔

SHARE

LEAVE A REPLY