ایک مجلس میں والد صاحب اپنے دوستو کو فخریہ بتا رہے تھے کہ مولا علی علیہ السلام نے فرمایا “ سوال آدھا علم ہے “ ۔۔۔ ۔۔ وہیں اس محفل میں ان کے اپنے سات سالہ صاحبزادے بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس نے جھٹ پوچھا “ بابا اللہ اوپر بور ہو جاتے ہونگے انہیں اپنے گھر نا بلا لیں “ والد صاحب پہلے چونکے پھر گھور کر بیٹے کو دیکھا ۔۔اور کہا “ ایسی باتیں نہیں کرتے بیٹا “ پر بیٹے کو کچھ سمجھ نا آیا اور اپنی خواہش کو سوال کی طرح دہرایا “ بابا مجھے اللہ کو اپنے گھر بلانا ہے ، کیسے بلاؤں ؟ ۔ اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا ۔۔۔ بیوی کو آواز دی کہ بیٹے کو کمرے سے باہر لے جائے بیکار سوالوں سے مجلس ڈسٹرب کر رہا ہے ۔۔ سات سالہ بچہ اپنے سوال کو دہراتا ہوا پردے کے پیچھے سے کھینچ لیا گیا ۔۔۔ خدا کو گھر میں مہمان کرنے کی خواہش سوال بن کر خالی ہاتھ لوٹ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اپنے بچپن کے ساتھ کئی اور بچپن بھی یاد آگئے جو ایسے ہی سوالوں سے بھرے پڑے تھے ۔۔۔ ۔اور ان کے خالی ہاتھ رہ جانے والے سوال شکوہ کرتے رہتے تھے ۔۔
کالا رنگ سفید کیوں نہیں ہو سکتا ۔۔۔ ؟
آسمان نیلا ہی کیوں ہے ۔؟
سمندر الٹتا کیوں نہیں ہے ۔۔؟
انسان کہاں سے آیا ۔۔کیسے آیا ۔۔۔ پھر آدمی کیسے بن گیا ؟
خدا نے دنیا کیوں بنائی تھی ؟
جب سات زمینیں اور سات آسمان ہیں تو کہاں ہیں ؟ کون رہتے ہیں وہاں ؟
خدا کو مہمان کیسے کروں ؟
خدا سے محبت کروں کہ ڈر کر رہوں ؟
مجھے مرنا کیوں ضروری ہے؟
آواگان کیا ہے اور سب اس پر متفق کیوں نہیں ہوتے ۔۔؟
سوال اپنی عمر کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں پر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔۔۔ پر جواب ان کا مقدر بڑے مقدر سے بن پاتے تھے ۔۔
میں اکثر سوچتی ہوں جواب دینے والے چاہے والد صاحب ہوں یا استاد محترم ۔۔ یا کوئی عالم دین یا کوئی اسکالر ۔۔۔ ہر اس سوال کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں جن کا جواب انہیں نہیں آتا ۔ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ لاعلم اساتذہ سوال کرنے والے شاگرد کے ساتھ مل کر جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں ۔۔شاید اسی لیئے زیادہ تر لوگ مولا علی علیہ السلام کا مکمل فرمان مبارک کم ہی جانتے ہیں ۔۔۔ جو یوں ہے کہ “ سوال آدھا علم ہے اور جواب کی لا علمی کا اقرار پورا علم ہے “ یعنی جسے جواب نہیں آتا ہوگا وہی تو اس سوال کا جواب ڈھونڈ کر اس کی بابت اپنے علم کوپورا کرےگا ۔۔!
لاعلمی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے مولا علی علیہ السلام نے فرمایا تھا “ جو نہیں جانتا ہے وہی یاد کرتا ہے اور انسان کی قیمت بھی وہی ہے جو وہ جانتا ہے “ ۔۔سبحان اللہ
ڈاکٹر نگہت نسیم













