کیا عوام دوست کوئی حکومت پاکستان کو نصیب ہو گی؟ شاہین اشرف علی

0
1042

پاکستان کے عوام کی قسمت کے بارے میں اکثر سوچتی ہوں کہ سات عشرے سے زیادہ مدت آزادی کو گزر جانے کے بعد بھی میں اکثر سوچتی ہوں کہ کیا پاکستان کے عوام کو کوئی عوام دوست حکومت میسر آئے گی؟ اب تک جو بھی حاکم آئے انہوں نے بس ذاتی فائدے اٹھائے جس کے نتیجے میں حکمران امیر سے امیر تر اور عوام کی غالب اکثریت غریب سے غریب تر ہوتی چلی گئی اور اب کبھی سوچیں کہ آبادی کا کتنا بڑا تناسب غربت کی لکیر سے نیچے رہتا ہے

عمران خان کی موجودہ حکومت سے بہت سے لوگوں نے بہتری کی امید لگا رکھی تھی روزانہ عوام پر مہنگائی کے ایسے میزائل گر رہے ہیں کہ جینا حرام ہو رہا ہے

اب اسی تناظر میں یہ جانکاہ خبر بھی دیکھ لیجے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت نے عوام پر گیس بم گرانے کی تیاری کر لی، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے گیس کے نرخوں میں 235 فیصد تک اضافے کی سفارش کر دی، گیس صارفین پر اضافی 175 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

گھریلو صارفین کیلئے ماہانہ 50 کیوبک میٹر استعمال پر 248، 100 کیوبک میٹر تک استعمال پر 242 جبکہ 200 کیوبک میٹر تک گیس استعمال پر 289 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ ہوگا۔ ماہانہ 300 تا 400 کیوبک میٹر استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 326 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافی دینا ہوں گے۔ ماہانہ 400 کیوبک میٹر سے زائد گیس استعمال کرنے والے امیر صارفین کے لیے 354 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کمی کی سفارش کی گئی ہے۔

خصوصی کمرشل صارفین کے لیے گیس 235 فیصد تک مہنگی ہونے سے ٹیرف میں 518 روپے تک فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی سفارش کی گئی ہے، کمرشل صارفین کیلئے 30 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیرف میں 303 روپے تک فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ ہوگا۔ روٹی تنور کے خصوصی کمرشل صارفین کے لیے 235 فیصد تک گیس مہنگی کرنے کی تجویز کر دی گئی۔

زیرو ریٹڈ صنعتی، کیپٹو صارفین، سیمنٹ فیکٹریز، پاور اسٹیشنز، سی این جی سیکٹر، آئی پی پیز کے لیے گیس نرخوں میں 30 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بعد سی این جی اسٹیشنز کے لیے ٹیرف میں 303 روپے تک فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ ہو گا۔ سیمنٹ فیکٹریز کے لیے 301 روپے، پاور سٹیشنز کے لیے 194 روپے تک فی ایم ایم بی ٹی یو بڑھ جائے گی۔

کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے 241 روپے، آئی پی پیز کے لیے 194 روپے تک فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ ہو جائے گا، گیس نرخ بڑھنے سے سوئی نادرن گیس صارفین پر 100 ارب جبکہ سوئی سدرن گیس صارفین پر 75 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

شاہین اشرف علی

SHARE

LEAVE A REPLY