وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے ایک صحافی کے سوال پر ریڈیو پاکستان کے 4500 پینشنرز کو تین ماہ سے پینشن کی عدم ادائیگی سے متعلق غیر ذمہ دارانہ جواب پر ریڈیو پاکستان کے پینشنرز نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان پینشنرز ایکشن کمیٹی نے کہا کہ وزیر خزانہ کا یہ بیان سینئر سٹیزنز کی دل آزاری کا سبب بنا ہےایکشن کمیٹی نے کہاکہ ریڈیو پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کو 1947 سے پینشن کی ادائیگی حکومت پاکستان ہی کررہی ہے اور تقسیم ہند سے قبل آل انڈیا ریڈیو کے ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن اس وقت کی برطانوی حکومت ادا کرتی تھی۔ 1973 میں اس وقت کی پارلیمنٹ نے ایک ایکٹ کے ذریعے ریڈیو پاکستان کو پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن بنادیا اور ایک اسٹیچوٹری باڈی قرار دیا جس کے تمام تر انتظامی اختیارات حکومت کو حاصل ہیں اور یہ مکمل طور وزارت اطلاعات و نشریات کا ذیلی ادارہ ہے جسے 1973 سے قبل اور کارپوریشن بننے کے بعد بھی مالی وسائل گرانٹ ان ایڈ کی مد میں حکومت پاکستان فراہم کرتی ہے ریڈیو پاکستان کے کارپوریشن بننے کے بعد مسلم لیگ ن کی تین حکومتوں میں بھی اسحاق ڈار وزیر خزانہ رہے ہیں اور وزارت خزانہ وزارت اطلاعات و نشریات کے توسط سے ریڈیو پاکستان کو تنخواہ پینشن اور دیگر اخراجات کی مد میں فنڈز فراہم کرتی رہی ہے اور حال ہی میں پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے ملازمین کو کارپوریشن کے بنیادی تنخواہوں کے گروپ اسکیل کو حکومت پاکستان کے تنخواہوں کے اسکیل سے تبدیل بھی کیا جاچکا ہے لہذا وزیر خزانہ کا ریڈیو پاکستان کو کمرشیل کارپوریشن قرار دینا صریحاً حقائق کو جھٹلانا ہے۔
ریڈیو پاکستان ہمہ وقت حکومتِ وقت اور ریاست کا ترجمان رہتا ہے اور اس کے سربراہ کا تقرر عمومی طور ہر وزارت اطلاعات کے افسران میں سے کیاجاتا ہے جبکہ کمرشیل کارپوریشن کے سربراہان کا نجی شعبے یا تاجر برادری کے معروف افراد بھی کیا جاتا رہا ہے۔ ایکشن کمیٹی نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب سے اپیل کی کہ ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ کو ہدایت کریں کہ وہ پینشن کی ادائیگی کرکے 4500 سینئر سٹیزنز اور ان کے اہلِ خانہ کو بھوک افلاس اور بیماریوں سے بچانےکے اقدامات کرے














حکمرانوں کو اللہ عقل دے