عالم اسلام میں مساجد بند ہوگئیں ، پاکستان میں علماء مساجد کھولنے پر بضد۔ اسلام آباد کی لال مسجد سمیت متعدد مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات بھی ہوتے ہیں اور نماز پنگانہ بھی باجماعت ادا کی جاتی ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا بلوچستان اور پنجاب میں ایوان صدر میں طے پانے والے 20 نکاتی اعلامیہ کے اندر متفقہ طور پر منظور کردہ نقات پر عملدرآمد کرنے کی شرط پر مساجد میں نماز ترااویح پڑھیں جائیں گی۔ سندھ حکومت نے ڈاکٹرز کے مشورہ پر صوبے بھر میں مساجد نماز تراویح پڑھنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
وزیر اعظم بھی علمائے کرام پر واضح کرچکے ہیں کہ اگر مساجد میں 20 نکاتی اعلامیہ کی خلاف ورزی کرنے والی مساجد کو بند کردیا جائے گا۔ دنیا بھر کے ماہرین طب اور سربراہان مملکت چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ آئندہ پندرہ بیس دن بہت اہم ہیں ان دنوں میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے امکانات ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ بھی کہہ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے کورونا کے متاثرین میں اضافہ کرسکتی ہے۔ مگر پاکستان میں وہ صوبے جہاں پاکستان تحریک انصاف کی اپنی حکومت ہے یا اتحادی برسراقتدار ہیں ان میں لاک ڈاؤن کے نام پر مذاق کیا جا رہا ہے، بازاروں مین چہل پہل دیکھی جا سکتی ہے دوکانیں بھی کھلی ہیں ہیں۔
پاکستان میں کورونا سے ہلاکتوں میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے باوجود اسلام آباد کی شہرہ آفاق ”لال مسجد“ کے عالمی شہرت کے حامل مولانا عبدالعزیر کی اقتداء مین نماز جمعہ اور نماز پنگانہ کے اجتماعات ہورہے ہیں۔ بی بی سی اردو کی سحر بلوچ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مولاناعبدالعزیز برملا کہتے ہیں کہ ”ہم باقاعدہ نماز جمعہ کے اجتماعات کررہے ہیں “ اس کے علاو ہ وہ لوگوں سے ” ہاتھ بھی ملا تے ہیں اور بغلگیر بھی ہوتے ہیں۔
جامعہ مسجد کے مولانا نے بھی کہا کہ مساجد اور باجماعت نماز کی ادائیگی مسلمانوں کی طاقت ہے اگر باجماعت نماز نہ پڑھی جائے اور مساجد کو بند کردیا جائے تو اس سے مسلمانوں کی کمزوری ظاہر ہوگی۔ ایک اور مولانا کہتے ہیں کہ ”ملک بھر میں بنک کام کررہے ہیں،سرکاری دفاتر کھلے ہوئے ہیں“۔ مولانا موصوف نے سوال کیاکہ ”کیا کورونا وائرس صرف مساجد دشمن وائرس ہے؟مولانا صاحب نے ارباب اقتدار سے اپیل کی کہ وہ اپنی سوچ میں وسعت لائیں“
اسلام آبد کی لال مسجد اور دیگر مساجد میں حکومت کورونا قوانین اور رمضان المبار ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کروا سکتی تو اسکے اثرات ملک بھر کی مساجد تک جائیں گے۔ وفاقی حکومت، اسلام آباد کی انتظامیہ اور پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں بلا کسی تقسیم و تفریق کے لاگی کیے گئے قوانین پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ہمارے عوام اور علمائے جرام دیوار پر لکھے ہوئے خطرات کو کیوں نہیں پڑھ رہے؟ چلیں تھوڑی دیر کے لیے تصور کرلیں کہ ہمارے عوام کی اکثریت حالات سے باخبر نہیں اور نہ ہی خواندہ ہے میرے علمائے کرام تو صاحبان علم ہیں، شافعی محشر رحمت العالمین حضور نبی کریم کی حدیث کو کیوں نظر انداز کررہے ہیں جس میں حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جہاں کوئی آفت آئے تو جو لوگ وہاں موجود ہوں وہ وہاں سے باہر نہ نکلیں اور جو باہر ہیں وہ اس شہر میں داخل نہ ہوں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں حکومت لاک ڈاؤن پر کیسے عمل درآمد کرپائے گی؟ اگر ایسا نہیں ہوتا تو نتائج کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ یہ سوال بہت اہم ہیں حکومت اور علمائے دین کو بھی جواب دہ ہونا پڑے گا۔













