اسلام دینِ معاملت ہے(۱۸) ۔ ۔ ۔ شمس جیلانی

0
1115

گزشتہ ہفتے میں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں یہ بتا ونگا کہ اس زمانے کے حکمراں کیسے تھےان کی پہلی خوبی تو یہ تھی کہ وہ امید وار کبھی خود نہیں بنتے تھے ،نہ کنوینسنگ کر تے تھے نہ اربوں روپیہ آج کی طرح انتخابات پرخرچ کرتے تھے;2 کیونکہ وہ ہمارے طرح کے مسلمان نہیں تھے اور ان کے سامنے وہ حدیث رہتی تھی کہ جس میں حضور ﷺ کا وہ ارشاد ِ عالی تھا کہ عہدوں کی خواہش کرنے والا خائن ہے ؟ کئی صحابہ کو حضور ﷺ نے ان کے تقویٰ اور صصلاحیتوں خوﷺدعہدہ دینا چاہا مگر انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر مگر میں خود میں اتنا بڑا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں پاتا اور حضور ﷺ نے ان کی معذرت قبول فرمالی کیونکہ وہ لوگ اسے ایک بہت بڑا بوجھ سمجھتے تھے ۔ اس لیئے کہ وہ ان سب باتوں پر یقین ِکامل رکھتے جن پر ایمان لا ئے تھے۔ خوفِ خدا سے بے انتہا خائف رہتے تھے تاریخ شاہد ہے کہ کئی صحابی اللہ کے خوف سے للہ کو پارے ہوگئے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ انہیں پائی پائی اور رتی رتی کا حشر کے دن جواب دینا ہے ۔ لوگ جب انہیں بہت مجبور کرتے تھے تو بھی وہ ان سے ادھر ادھر چھپتے پھر تے تھے جب مجبور ہو جا تے تھے تو بھی کہتے تھے کہ تین دن خلافت اور کھلی رکھواگر کوئی اور راضی ہو جا ئے تو اسے خلیفہ بنادو پھر بھی جب کوئی نہیں ملتا تو اپنی زبان کا پاس رکھتے ہوئے طوعاً کر ہاً قبول فرماتے جس کی مثال حضرت علی کرم وجہہ تھے کہ جب کوئی یہ ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں تو مجبوراً انہیں اٹھانی پڑی ۔ حضرت ابوبکر)رض) قبول کرنے کے بعد بھی فر ماتے رہے کہ کاش اس ذمہ داری کواٹھانے سے پہلے میں مرجاتا یا کوئی اوردرمیان میں آجاتا تو میری جان چھٹ جاتی ۔ آج کے دور میں اگر ان میں سے کوئی بھی ہوتا تو وہ نہ اس اسمبلی میں بیٹھتا نہ ذمہ داری لےتا کیونکہ وہ ترمیمات چھلنی دستور پر کام کرنے کے لیئے کبھی تیار نہ ہوتے ۔ اس کی مثال بھی حضرت علی کرم وجہہ نے قائم کہ اسلامی تاریخ میں پہلی دفعہ انتخابات میں اکثر یت سے حضرت عثمان کے مقابلے میں کامیاب ہو ئے اور حضرت عبد الرحمٰن )رض )بن عو ف انہیں مسجد نبوی میں لے بھی آئے ان کی خلافت کا اعلان کرنے کے لئے مگر جب ان کا ہاتھ انہوں نے اپنے ہاتھ میں لیکر پوچھا کیا آپ اللہ و رسولﷺ اور شیخین کا اتباع کریں گےتو انہوں نے فرمایا کہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کا تو اتباع کرونگا، ان کے سوا کسی اورکااتباع نہیں کرونگا ۔ انہوں نے ان کا ہاتھ چھوڑدیا اور پوچھا کہ اگر حضرت عثما ن اس شرط پر تیار ہو جائیں تو آپ ان کا اتباع کریں گے تو انہوں نے فرمایا ہاں! ۔ چونکہ دورسرے امیدوار حضرت عثمان(رض) تھے جنہوں نے انتخاب میں حصہ لیا تھا وہ خلیفہ ہوگئے;
اسمبلی میں وراثت میں نشتیں ملنے اور نسلاً در نسلاً منتخب ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو تا; اس کی مثال حضرت عمر(رض) تھے کہ جب ضعیف ہو گئے تو وہ ایک دن کنکر یاں بچھا کر ان پر لیٹ گئے اور اللہ تعالیٰ سے فرمانے لگے کہ یا اللہ میں اب ضعیف ہوگیا ہوں اور اسلامی سلطنت بہت پھیل گئی ہے اب یہ کام کسی اور کے سپرد فرما دیجئے ۔ جب وہاں سے کوئی جواب نہ ملا تو انہوں نے فرمایا میں پوری ریاست کا خود دورہ کرونگا کیونکہ میں عوام کی پہنچ سے باہر ہوں میرے عمال ان کی مجھے پوری خبر نہیں دیتے ہیں ابھی وہ صرف شام کاورہ کر پائے تھے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس بلا لیا جانے سے پہلے وہ چھ حضرات کا ایک بورڈ بنا گئے جس میں اپنے فرزند حضرت عبد اللہ(رض)٠کو بھی شامل کیا مگر ان کو امید وار بننے کی جازت نہ تھی، وہ صرف مشاورت میں حصہ لے سکتے تھے امید وار نہیں بن سکتے تھے ۔ باقی جوپانچ بچے تھے ان میں سے حضرت عبد الر حمٰن (رض) نے خلافت سے معذرت کرلی ۔ لہذا بقیہ لوگوں نے انہیں کو الیکشن کمشنر بنا دیا۔ اب رہے چار حضرات ان میں سے ایک حضرت علی کرم وجہہ کے حق میں اوردوسرے ح حضرت عثمان کے حق میں تھے۔ لہذا الیکشن ناگزیر ہوگیا اس میں پہلی دفعہ مسلم خواتین کی رائے بھی لی گئی اس کا نتیجہ میں اوپر تحریر کر چکا ہوں ۔ حضرت عمر (رض) کے اس فیصلہ پر لوگوں نے کہا کہ آپ ان کے ساتھ کیوں یہ پابندی لگا رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ ایک عمر ہی کافی ہے یوم قیامت میں جواب دہی ہے کے لیئے میں اپنے خاندان میں سے کسی کو خلیفہ بنا کر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا، میں یوم حشر میں خلافت کا بوجھ اٹھانے کے لیئے بہت ہوں اوپر جو میں نے تحریر کیا ہے یہ تاریخ ان سب نے حضورﷺ کے وصال کے بعد رقم کی ہے ۔ کیونکہ حضور ﷺ کےزمانے تک تو یہ سب بیفکر تھے ۔ جہاں جو ہونا ہوتا تھا ۔ ورنہ تصیح کے لیئے وحی آجاتی تھی ۔ اسی بات طرف حضرت ابو بکر(رض) نے خلیفہ بنتے ہی اپنے پہلے خطبہ میں یہ چیز واضح کردی تھی کہ مجھ سے وہ توقع مت رکھنا جو حضور ﷺ سے رکھتے، اس لیئے کہ ان کے اوپر تو وحی آتی تھی میں اگر راہ راست پر چلوں تو میراتباع کرنا اگر غلطی کروں تو مجھے ٹوکدینا انکی احتیاط کا عالم کا عالم یہ تھا نہ انہوں نے اہنی خلافت میں خودکاروبار نہ اپنے بچوں کرنے دیاان کا خیال یہ تھا اگر تم کارو بار کروگے تو خلیفہ کے بیٹے ہونے کی وجہ سے لوگ تم سے چیزیں خریدیں گے دوسرے لوگوں کے کاروبار کو نقصان پہنچے گا ۔ بلکہ ایک صاحب نے یہاں تک کیا کہ اپنے ایک صاحبزادے کہ جانور بیت المال میں کرادیئے کہ اوروں کے مقابلے میں تمہارے جانور اتنے فربہ کیوں ہیں ۔ لوگوںنے ان کی خاطر تواضع زیادہ کی ہوگی ۔ اور سب نے پڑھا ہوگا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جب خلیفہ بنے تو ایک دوست ان سے ملنے آئے اس وقت وہ حساب کتاب لکھ رہے انہوں نے پہلے چراغ گل کیا پھر ان سے بات کی کیونکہ اس میں سر کاری تیل جل رہا تھا ۔ اور پانی میں سوکھی روٹی بھگو کر وہ کھایا کرتے تھے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY