فیسبک پر ایک میسج وائرل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں ایک شخص کا نام درج ہے اور وہ خود کو نواز شریف کا ورکر اور ووٹر و سپورٹر کہنے کے بعد کہ رہا ہے کہ مری میں پاک فوج کی عوامی خدمت سے پہلے میں پاک فوج کو گالیاں دیتا تھا اور اگر فوج نہ ہوتی تو میرے بچے اور فیملی آج بحفاظت برف سے نہ نکالے جاتے۔ اور اب وہ اس پر ن لیگ سے برات کا اظہار کررہا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ جو بندہ کل تک پاک فوج کو گالیاں دیتا تھا وہ آج بھی معتبر نہیں ہو سکتا کیونکہ سقراط سے کسی نے کہا فلاں معتبر آدمی آپ کا گلہ کر رہا تھا جس پر سقراط نے کہا کسی کا گلہ کرنے والا معتبر کیسے ہوگیا !؟
پاکستان کی سو فی صد عوام تمام اداروں کا احترام کرتی ہے۔ اور پاک فوج کا تو عقیدت کی حد تک۔ فوج کیخلاف پہلے بھی کوئی نہیں ھے، اور نہ ھو سکتا ھے۔ مری میں سیکورٹی اداروں سمیت مختلف سرکاری محکموں، رضا کاروں، جماعت اسلامی، اہلحدیث یوتھ فورس اور مدارس والوں سب نے اچھا کام کیا ھے۔
سب کو سیلوٹ ۔۔۔ لیکن درج بالا مذکورہ خط کے راوی کو عرض ھے کہ محترم اپنے فوجیوں، پولیس والوں، موٹر وے پولیس والوں، نادرا والوں کسی بھی محکمہ والوں حتی کہ واپڈا والوں کیخلاف کون دل میں مخالفت رکھتا ھے ؟؟؟
یقیننا” کوئی بھی نہیں ۔۔۔
یہاں یہ مینشن کرنا کہ نواز شریف کا کارکن ھوں اور آئندہ فلاں محکمہ کی مخالفت نہیں کرونگا، ایک شرارت ھے۔ اور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ کچھ جذباتی لوگ جو انتہائی پڑھے لکھے ہیں انہوں نے بھی اپنی وال پر وہ خط لگا دیا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ نواز شریف سمیت ھر پاکستانی اپنے ھر سرکاری و پرائیویٹ ملازم اور ہر شہری کا احترام کرتا ھے۔کسی بھی ادارے کے کسی ایک یا چند افراد کا غلط قدم انکا ذاتی فعل ھے، جسکے ذمہ دار صرف وھی افراد ہیں نہ کہ سارا ادارہ۔ اور عمومی طور پر لوگ کسی بھی جنرل، جج یا صحافی و ڈاکٹر سے اختلاف کرکے تنقید کرتے ہیں نہ کہ ادارے کو گالی دیتے ہیں ۔
ہر پاکستانی ادارے کی حرمت سر آنکھوں پر ۔۔۔ لیکن ھر ادارہ ھر ملازم جو پاکستان کے ٹیکسوں سے چلتا ھےاسے اگر اچھے کام پر شاباش اچھی لگتی ھے تو غلط کام پر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ھونا چاھئے۔
کوئی ایک اچھا کام کسی غیر آئینی کام کا لائسینس نہیں بن جاتا ۔۔۔ اندھی تنقید اور اندھی تلقید دونوں غلط ھیں۔ ملک کا دفاع، عوام کی حفاظت اس ادارے کی ڈیوٹی ھے، یہ فخر والی بات ھے، عزت والی بات ھے ۔۔ لیکن یہ کوئی احسان جتانے والی بات نہیں ھے ۔
یورپ امریکہ آسٹریلیا، عرب ممالک میں سب ادارے اپنے اپنے شہریوں کا بھرپور خیال رکھتے ھیں لیکن وھاں اسکی تشہیر نئی کرائی جاتی ۔۔ اپنے ملک اپنی فیملی کا خیال رکھنا اپنی ڈیوٹی دینا قابل تعریف ھے ، احسان نہیں۔













