ارے بھائی! ھم خود آپ کے پاس آئیں گے, ڈاکٹر مبشر حسن جو آج ھم سب سے ہمیشہ کے لیۓ رخصت ھو گئے اُنکا یہ مربیانہ اور مشفیقانہ جُملہ مجھے کبھی نہیں بھُولے گا. یہ میری خوش بختی تھی کہ زمانہِ طالبِعلمی کے دوران اُنکی خدمت میں تواتر کیساتھ حاضری کا موقعہ نصیب ھوتا رھا اور وہ لمحات یقینا” زندگی کا سرمایہ ھیں. مجھے ڈاکٹر صاحب کے اندازِ گفتگو سے عشق تھا. 30 سال پہلے پاکستان سے امریکہ منتقل ھونے کے بعد اٌن کی رہنمائی اور شخصیت سے براہِ راست اِکتساب کرنے کا سلسلہ قدرے معدوم ھو گیا لیکن 15 سال پہلے ایک تقریب میں جب اُنکی قدم بوسی کا موقعہ ملا تو اِانتہائ محبت سے فرمانے لگے, کب آے ھو میاں واشنگٹن سے؟ میں نے جواباً عرض کیا حضور کل رات پہنچا ھوں اور آپ کے پاس حاضر ھونا چاھتا ھوں اگر کچھ وقت عطا کر دیں تو, ابھی میرا یہ فِقرہ پوری طرح مکمل بھی نہیں ھوا تھا کے ڈاکٹر صاحب نے فرمایا “ارے بھائی , ھم خود آپ کے پاس آئیں گے, بتاو کل شام ٹھیک رھے گا”.
اُنکے اس جواب نے مجھے استعجاب اور حیرت میں ڈال دیا اور میں سوچ رھا تھا کہ اِتنا بڑا انسان بھی کوئی ھو سکتا ھے کہ جو پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا شریک بانی, سیکرٹری جنرل, مُلک کا وزیرِ خزانہ, ذوالفقار علی بھٹو شہید کا انتہائی معتمد ساتھی, سیاسی اور سماجی اعتبار سے بے مثال حیثیت کا حامل فرد, شاندار درجے کا انجینئر اور پروفیسر, اھم موضوعات پر لکھی گئی کئی کتابوں کا مصنف, پاکستان کے جوھری پروگرام اور کہوٹہ پروجیکٹ کی معاشی پلاننگ کا مکمل نگران, سوشلسٹ نظام کا داعی اور مولانا الطاف حسین حالی کے گھرانے کا فرد اور جسے دُنیا ڈاکٹر مبشر حسن کے نام سے جانتی ھے وہ کس قدر بلند انسان ھے.
اگلے روز ڈاکٹر صاحب گھڑی کی سویوں کے ساتھ , عطا کردہ اور معین وقت کے مطابق ٹھیک 4 بجے اپنی بہت پرانی محبوب گاڑی فوکس ویگن کو از خود ڈرائیو کرتے ھوے میرے غریب خانہ پر تشریف لاے. یہ کار مجھے یقین ھے آج اُنکے گیراج میں خالی کھڑی پاکستان کے عظیم ترین انسان کے اُس پروقار سفر کی داستان سنا رھی ھو گی جو اُس نے, اُس پر طے کیا. ڈاکٹر صاحب پاکستان کے فاسد سماجی نظام کو تو تبدیل نہ کر سکے لیکن لاکھوں انسانوں کی سوچ کو جنمیں میں بھی شامل ھوں تبدیل کرنے میں کامیاب ھوے …. ڈاکٹر مبشر حسن آپکا شکریہ. یقیناً آج جنت میں جنابِ ابوزر آپکے منتظر ھوں گے. وہ جو اسلامی سوشلزم کے اولین داعی اور اتکازِ زر کے شدید ترین مخالف تھے.
ڈاکٹر ذوالفقارعلی کاظمی, واشنگٹن ڈی.سی













