میں نے اپنی اس طویل زندگی میں یہ خبر پہلی دفعہ پڑھی کہ کسی سعادتمند بیٹے نے اپنی بیوی کی مدد سے اپنی والدہ کی جان لے لی ہو۔ جوکہ کسی دیہات میں نہیں،پہاڑی علاقے میں نہیں رہتا تھا افریقہ یا آسٹریلیا کے کسی دشوار گزار جنگل کا رہنے والا بھی نہیں تھا۔بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دار الحکومت سے جڑواں شہر راولپنڈی کے محلہ صادق آباد کا رہنے والا ہے۔ جس طرح علماء اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں جتنے آئندہ قتل ہونگے وہ حضرت آدمؑ کے اس بیٹے کی طرح جس نے اپنے سگے بھائی کوقتل کیا تھا اُس کے بھی نام لکھے جا ئیں گے، یہاں بھی ان صاحبزادے کے کھا تے میں بھی ضرور لکھے جا ئیں گے۔ وہاں تو بھائی کا معاملہ تھا یہاں ماں کا معاملہ ہے جس کےقدموں میں جنت ہے جس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کا بیٹا اگر مسلمان ہو تو وہ اس کے سامنے اف بھی نہ کرے ،قتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے چاہیں ماں کیسی بھی ہو۔ اگر وہ اسی حالت میں انتقال کرگئی تو بیٹے کی بخشش کی کوئی گنجا ئش نہیں ہے کیونکہ وہ ان تین افراد میں شامل ہے جن سے اللہ سبحانہ تعالیٰ روزِ قیامت نہ تو کلام فرما ئیں گے، نہ انہیں معاف کریں گے اورانہیں ہمیشہ کے لیئے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم قرار دیدیا جا ئے گا۔ یہاں بھی اور وہاں بھی کیونکہ یہاں جو اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنا جو سالانہ در بار شبِ قدر میں منعقد فرماتا ہے جس میں کہ وہ بندو ں کے سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے سوائے حقوق العباد کے، اس دن بھی اسے معاف نہیں کیا جا ئے گا جس سے کہ اسکے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں نا راض دنیا سے گئے ہوں۔رہا یہ بیٹا تو یہ کسی “ شریف “خاندان سے معلوم ہو تا جسے سات خون ہی نہیں بلکہ چودہ خون تک معاف ہیں، کہ اسے قبل از گرفتاری اس کی عبوری ضمانت حاصل ہوگئی؟ کوئی اچھا وکیل مل گیا ہوگا۔جوکہ اتنے بڑے ظالم کی ضمانت کے لئے کھڑا ہوا ہوگا اسی سے اپنے معاشرہ کا معیار اخذ فرما لیجئے۔کیونکہ مسلمان کے لیئے تو یہ ہدایت ہے کہ جو بھی کسی ظالم کی کسی طرح مدد کریگا وہ انہیں میں سے سمجھا جا ئے گا۔ اگر اللہ کے اسی ایک قانون پر قوم عمل کر لیتی تو سارے جھوٹے مقدنے ختم ہو جا تے کیونکہ پھر کوئی وکیل جھوٹا مقدمہ لیتا ہی نہیں، گواہ جھوٹے ملتے ہی نہیں جوکہ تھانوں مں بیٹھے ملتے ہیں لوئر کورٹس با ہر کھڑے دکھا ئی دیتے ہیں وکیلوں کے دفتر کے باہر مل جاتے ہیں۔ جیسے کہ کبھی کبھی وہاں بھی مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی بڑے آدمی کے خلاف تمام وکیل مقدمہ لڑنے سے انکار کردیتے ہیں، گواہ گواہی نہیں دیتے لہذا مقدمہ ختم ہو جاتا ہے۔
آئیے بات ابتدا ء سے شروع کر تے ہیں۔ پہلے تمام والدین خود سے سوال کریں کہ کیا وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو حاضر اور نا ظر مانتے ہیں۔ اگر مانتے ہیں۔ تو پھر دنیا بھر کے گنا ہ وہ کیسے کرلیتے ہیں؟ انہیں یہ خوف کیوں نہیں ہوتا کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اگر ڈر نہیں لگ رہا ہے برا کام کرتے ہوئے۔ تو ماننا کس چیز کا نام ہے؟ یہ سوال بچوں کے والدین پر چھوڑتا ہو ں کیونکہ یہ برائی کی جڑ ہے۔ بچہ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ اپنے والدین کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر بچے بچپن سے ہی اپنے والدین کو برا ئی کر تے ہوئے دیکھ رہے ہوتے ہیں َ۔البتہ
؟ اسے کبھی کبھی اللہ سے بھی ڈراتے ہیں جبکہ وہ خود نہیں ڈرتے؟ سوچئے یہ آپ کیا سکھا رہے ہیں اس سے آگے چل کر نتا ئج کیا مرتب ہو نگے؟ اور آپ آگے چل کر اس سے خود محفوظ نہیں رہ سکیں گے جوکہ وہ آپ کی دو عملی دیکھ کر سیکھے گا۔ یہ مشہور محاورہ تقریبا ً سب نے سنا ہو گا کہ “ جیسی کرنی ویسی بھرنی “جب ہماری نگا ہو ں سے یہ خبر گزری، تو ہمیں ایک خاتون کا تبصرہ نظر آیا کے ہم ایسا ظلم کر تے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے اور پھر ہم شکا یت بھی کرتے ہیں کہ ہمارے اوپر ظالم حکمراں مسلط کر دیئے جا تے ہیں “ لیکن یہ کلیہ عام نہیں ایسا جبھی ہوتا ہے جبکہ تمام بندے نا فرمان ہو جا ئیں تو وہ سزا کے لیئے بطور عذاب ایسے حکمراں مسلط کردیتا ہے۔ لیکن عام طور پر یہ ہی ہو تا ہے کہ جیسے عوام ہوں ویسے ہی حکمراں ہو تے ہیں؟ اگر میں اس پر بات کرونگا تو مضمون بہت طویل ہو جا ئے گا؟ لہذا بجا ئے میں تفصیل جا نے کہ اس کا حل پیش کرتا ہوں۔
پہلا کام تو یہ کیجئے کہ بچوں کی اگر صحیح تربیت کرنا ہے تو خود دین پر عامل ہو جا ئیے اور ہر معاملہ میں اللہ کی بات مانیے۔ جوکہ قرآن کی شکل میں موجود ہے۔ اسی میں یہ لکھا ہوا ہے۔ لا الہ کے ساتھ محمد ﷺ رسول اللہ کو بھی مانو! جب آپ حضور ﷺ کوما نیں گے تو پھر کسی اور کی آپ کو ضرورت نہیں پڑیگی؟ کیو ں کہ انہیں ﷺ نے احکمامات پر عمل فرماکر کے دنیا کو دکھا یا ہے۔یہاں بھی قرآن سے ہی ہدایت لیجئے وہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ“ تمہارے لیئے تمہارے نبی ﷺکے اسوہ حسنہ میں بہتریں نمونہ ہے “ ان کی سیرت کو پڑھئے اور اس پر عامل ہو جا ئے۔ پھراسی راہ پر اپنی اولاد کو بھی چلا ئیے تو پھر دیکھئے کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق آپ کو نوازتا ہے یا نہیں۔ جب بچے اس طرح پرورش پا ئیں گے۔تو نہ وہ اپنے حقوق چھوڑیں گے نہ دوسروں کے حقوق کو چھیڑیں گے۔ بلکہ ان کی کوشش یہ ہوگی کہ دن بھر جھوٹ بولنے،جھوٹی قسمیں کھانے کے بجائے سچ پولیں۔ چونکہ وہ سب کے حقوق پہچا نیں گے اور ادا کرنے کے کی کوشش بھی کر یں گے تو صحابہ کرامؓ کی طرح وہ اللہ سے ڈریں گے بھی۔ پھر نہ ساس بہو ؤں کی لڑائیا ں ہو نگی، نہ بھائی، بھائیوں میں لڑا ئی ہو گی۔ تب اولاد آپکے لیئے وہی دعا مانگا کریگی جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اولاد کو سکھا ئی ہے۔ کہ اے اللہ ہمارے والدین پررحم فرما جیسا کہ ہمارے بچپن میں انہوں نے ہماری پرورش فرمائی۔ آمین













