اسلام دین ِ معاملات ہے(6)۔۔۔شمس جیلانی

0
1383

ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہنچے تھے کہ بہت سے جوڑے جو میاں بیوی کے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں مگر ان میں سے بھی اکثر کویہ معلوم نہیں کہ ان کے ایک دوسرے پر حقوق کیا ہیں؟حالانکہ شوہر کو خطبہ نکاح کے دوران نکاح خواں وہ سب کچھ بتا دیتے ہیں جو کہ قرآن میں آیتوں کی صورت میں آیا ہے کہ شوہر کے اوپرذمہ داری یہ ہے کہ وہ خود اپنا نان اور نفقہ کماکر لا ئے جیسا خود کھائے وہی بال بچوں کو بھی کھلائے، مگر رزق ِحلال ہونا چا ہیئے؟ تو سب سے زیادہ ثواب با ل بچوں پر خرچ کرنے کا ہے ان کا پیٹ بھر نے کے مقابلہ میں کو ئی اور مد چا ہیں وہ کتنی مقدس کیوں نہ ہووہ ان پر سبقت نہیں لے سکتی؟ ان کے بعد اللہ سبحانہ نے خرچ کرنے کی ایک ترتیب آیت نمبر177 سورہ بقرمیں دیدی ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ تمام بھلائی اس میں نہیں ہے کہ منہ تم نے مشرق کی طرف کرلیا یا مغرب کی طرف کرلیا بھلائی اس میں ہے بلکہ حقیقتاً بھلا شخص وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر ،قیامت کے دن پر، فرشتوںّ پر نبیوںّ پر ایمان رکھتا ہو اور اللہ کی محبت میں اپنا مال خرچ کرتا ہو ،قرابتداروں پر، یتیموں پر مساکین پر۔ مسافروں پر اور سوال کرنے والوں اور غلاموں کی گردن چھڑانے پر، نماز کی پابندی کرے زکاۃ ادا کرے، جب وعدہ کرے تو پورا کرے تنگ د ستی اور لڑائی وقت صبر کرے۔ یہ ہی سچے لوگ ہیں اور یہ ہی پرہیز گار ہیں“ اس پر بطور شوہر خود عمل کرنا ہے کیونکہ وہ گھر کا بڑا ہے؟ باقی اسے دوسرے اہلِ خانہ کو تلقین بھی کرنا ہے یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس پر گھر میں عمل ہورہا ہے یانہیں؟ جبکہ بیوی کی صرف اتنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بچوں کو پرورش کرے، دودھ تیس ماہ پلا ئے اور اس کے ناموس کی حفاطت کرے۔ اور صرف انہیں لوگوں کو گھر میں آنے کی اجازت دے جنہیں کہ اسکا شوہر پسند کرتا ہو۔ ان میں شوہر اگر کہیں بھی کوتا ہی کریگا تو وہ ذمہ دار ہونے کی وجہ گنا ہ گار ہوگا؟ باقی جو بیوی کے فرائض زوجگی ہیں وہ بخوبی ادا کرے؟ اگر اس کوئی ہنر آتا ہے اور اس سے کچھ کمارہی تو اس پر شوہر کا کوئی حق نہیں ہے نہ بال بچوں کا حق ہے؟یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ جہاں چا ہے وہاں خرچ کرے۔ ہاں! اگر وہ اپنی مرضی سے گھر پر یا بچوں پر خرچ کریگی تو اس کا درجہ ایک محسنہ کا ہوگا اور اس کو اس پردہرا ثواب بھی ملے گا ایک راہ خدا میں خرچ کرنے کا اور دوسراصلہ رحمی کا یعنی اپنوں پر خرچ کرنے کا؟ جو کہ حضورﷺ نے اپنے ایک فیصلہ میں حکم صادر فرمایا ہے یہ معاملہ دو بہت بڑوں کے درمیان تھا وہ تھے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت زینبؓ بن ابی ماویہ ۔ جس کا فیصلہ ہم گزشتہ ہفتہ اپنے مضمون نمبر (5)میں تحریر کرچکے ہیں۔ جن کو دلچسپی ہووہ وہاں جا کر پڑھ لیں؟
اب اس کے بعد نمبر آتا ہے۔ بچوں کی پرورش کا چونکہ باپ گھر کا بڑا ہے لہذا اولاد کی پرورش اوراس تربیت اسی کے ذمہ ہے۔
اولاد کے حقوق۔۔۔نبی کریم ﷺ کے ارشادات ہیں کہ(۱) کہ مسلمانوں اللہ چاہتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے ساتھ برتاؤ کرنے میں انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دو(طبرانی)
(۲)جو مسلمان اپنی لڑکی کی عمدہ تر بیت کرے اور اس کو عمدہ تعلیم دے اور اس کی پرورش کرنے میں (وقت اور مال صرف کرے)وہ دوزخ کی آگ سے محفوظ رہے گا(طبرانی)
(۳) مسلمانوں!اپنی اولا کی د تربیت اچھی طرح کیا کرو (طبرانی)
(۴)حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دے سکتا اس میں سب سے بہتر عطیہ اولاد کی اچھی تعلیم اور تربیت ہے(مشکوٰۃ شریف)
(۵)اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کی تلقین کرو جب وہ سات سال کے ہوجا ئیں نہ مانیں توسزا دو؟ اور جب دس سال کے ہو جائیں تو ان کے بستر الگ کردو (یعنی کمرہ الگ کردو) (مشکٰواۃ شریف) واضح رہے یہ حکم مسلمان ملکوں میں تو باآسانی عمل میں لا یا جا سکتا ہے لیکن غیر مسلم ممالک میں بچوں کو سزا دینے کے معاملے میں قوانیں سخت ہیں اور اس پر والدین کو سزا ہوسکتی ہے؟ لہذا اس پر معذوری کا اسلامی قانون ان پر لاگو ہوگا جیسے کہ حلال گوشت میسر نہ ہو اور گوشت کھانا ڈاکٹرنے ضروری قرار دیدے تو اجازت ہے جن بچوں میں آئرن کی کمی ہوانہیں ڈاکٹر بڑا گوشت کھانے کی شفارش کرتے ہیں (شمس)
(6)داؤد میں ایک حدیث آئی ہے جس کا اردو ترجمہ مترجم نے یہ کیا ہے۔لوگو! تم قیامت کے دن باپوں کے نام سے پکارے جاؤگے پس تم اپنا نام اچھا رکھا کرو؟ جبکہ دوسری جگہ یہ ذمہ داری والد ین کی رکھی ہے۔
(7) جبکہ صحیح بخاری میں جو حدیث کے ذریعہ حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جس نام میں عبدیت ہو اور اللہ کی تعریف کا ظہور ہوتا ہووہ اللہ کو بہت پسند ہیں۔(جیسے عبد اللہ، عبد الرحمٰن عبد الکریم وغیرہ) ایک حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ تم پیغمبروںؑ کے نام پر بچوں کا نام پرکھا کرو؟لیکن میں جو نے جو اپر حدیث پیش جس میں بچوں کو اپنا نام خود رکھنے ذمہ داری ہے اس مقصد یہ ہوسکتا ہئے (کہ تم قیامت باپ کے نام سے پکارے جاؤگے لہذا کوئی ایساکام نہ کرو جو اس د ن باپ کی ذلت کا باعث ہو) وللہ عالم
(8لڑکیوں کی پرورش۔طبرانی میں بہت سے حوالہ جات کے ساتھ یہ حدیث بیان ہو ئی ہے کہ جب کسی یہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کے گھر فرشتے بھیجتا ہے۔جو آکر کہتے ہیں اے گھر والو!تم پر سلامتی ہو اور اسے وہ اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر یہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں یہ کمزور جان ہے جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو اس بچی کی پرورش کریگا اس کے ساتھ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مدد شامل ِحال رہے گی۔
ایک اور حدیث مشکٰواۃ شریف میں آئی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بھی لڑکی کی پیدائش کے ذریعہ آزمایا جا ئے اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کر کے آزما ئش میں کامیاب ہو تو یہ لڑکیااس کے لیئے قیامت کے روز جہنم کی آگ سے ڈھال بن جا ئینگی۔ جبکہ ہم یہ سب ہی جانتے ہیں لیکن اس پر عمل اسی طرح نہی نہیں کرتے جس طرح بقیہ اسلامی قوانین پر نہیں کرتے ہیں! کہ حضرت فاطمہ سلام علیہا جب حضورﷺ کے گھر تشریف لاتی تھیں تو وہؑ ان کاگرم جوشی سے استقبال کر تے تھے اور جب واپس تشریف لے جاتی تھیں تو دروازے تک چھوڑنے کے لیئے تشریف لے جاتے تھے۔اس طرح حضور ﷺ نے عمل فرما کر یہ ہمیں جتایا ہے کہ اسلام میں لڑکی کا مقام کیا اور امت کووہی طریقہ اپنانا چا ہیئے تھا جو حضور ﷺ نے اپنا یا اس لیئے کہ انﷺ کے عمل میں ہما رے لیئےایک نمونہ ہے اور ڈھیروں ثواب حاصل کر نے کا ذریعہ بھی جو بغیر کچھ خرچ کیئے مفت میں مل جا تا ہے اور ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں بڑھتی رہتی ہیں۔ جبکہ لوگ اس پر عمل اس لیئے نہیں کرتے ہیں کہ لوگ ہنسیں گے۔ اس کا تقاضہ ہے کہ آپ ہنسنے والوں کو اورہنسنے کا موقع دیں اور زیادہ ثواب کما ئیں۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺکے نقش پا چلنے کی ہمیں تو فیق عطا فرما ئے۔(آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY