بوجھ ۔۔! بشری احمد

0
1125

توبہ توبہ جان عذاب کی ہوئی تھی بڑھیا نے کھانس کھانس کر، اوپر سے نخرے بےحساب محترمہ کو تازہ کھانا چاہیے. ورنہ طبیعت خراب ہو جاتی ہے. بتاؤ ذرا گھر میں کتنے کام ہوتے ہیں. اسکول سے پڑھا کر تھکی ہاری آتی ہوں. بچے اور میاں تو صبر شکر سے جو بنادو کھا لیتے ہیں. لیکن ساسو ماں کو تینوں وقت پراپر کھانا چاہیے. ورنہ ہائے ہائے شروع، میں نے تو صاف صاف ان سے کہدیا. اماں کو دیور جی کی طرف چھوڑ دو. لو بھئ خدمت کے لیے ہم ہی رہ گئے ہیں. باقی اولاد کا بھی تو فرض ہے. منہ تو بہت بنا لیکن میں نے بھی ایسی سنائیں کہ چپ کر کے کل ہی اماں کو چھوڑ آئے. پڑوسن کی نان سٹاپ تقریر جاری تھی میں حیران پریشان انکی داستان الم سنتی رہی پھر دخل در نامعقولات کرتے ہوئے ان سے پوچھ ہی لیا. اچھا تو پھر اب تو آپ خوش ہیں نا . ساسو ماں سے جان چھوٹ گئی آپ کی.
ہاں بہن اللہ کا شکر ہے. بس اب کل اپنی امی کی طرف جاوں گی. ویک اینڈ وہی گزاروں گی.
پڑوسن کا موڈ ایکدم اچھا ہوگیا پھر نہ جانے کیا یاد آیا. تھوڑا منہ بنا کر بولیں. بس جی خدمت تو بیٹیاں ہی کرتیں ہیں دو دو بھائی ہیں لیکن کسی کام کے نہیں، بس بیویوں کی جی حضوری میں لگے ہیں. امی بیچاری اکیلی اپنے پورشن میں پڑی رہتی ہیں. بھائی بھابھی پلٹ کر نہیں جھانکتے. میں اب جاؤں گی تو انکی پسند کیے کھانے بناؤنگی. انکی خدمت کرونگی. توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے. خیر میں بھی چھوڑنے والی نہیں، ایسی طبیعت صاف کروں گی بھائیوں کی، یاد رکھیں گے زن مرید کہیں کے.
پڑوسن تو اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر کے چل دیں. لیکن مجھ پر بوجھ سا آ پڑا ہے ۔۔!

بشری احمد

SHARE

LEAVE A REPLY