تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل کے خلاف سٹی مجسٹریٹ کی مدعیت میں درج بغاوت کے مقدمے کی تفصیل سامنے آگئی۔ تھانہ کوہسار میں اداروں کے خلاف مبینہ غداری سمیت سنگین نوعیت کے 10 مقدمات درج ہیں۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ شہباز گل نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ایجنڈے کی تکمیل کے لیے نجی ٹی وی چینل پر الفاظ کہے۔
مقدمے میں کہا گیا کہ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کی انتظامیہ اس معاملے میں شریک جرم ہے، جس نے ملزم کو دانستہ طور پر پورا موقع دیا۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ ٹی وی پر شہباز گل کا بیان اور تقریر کا مقصد فوج میں بغاوت پھیلانا اور سازش کرنا تھا، اُن کی کوشش تھی کہ فوج کے مختلف گروہ بن جائیں۔
مقدمے میں کہا گیا کہ شہباز گل کے بیان اور تقریر کا مقصد تھا کہ عوام میں پاک فوج کے خلاف سازش کے تحت نفرت پھیلائی جائے۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ پی ٹی آئی رہنما کے مقصد کا فوجی جوانوں کو اپنے افسران کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینا تھا۔
مقدمے میں کہا گیا کہ شہباز گل نے ملک میں انتشار پھیلانے اور فوج کو کمزور اور تقسیم کرنے کے لیے بیان دیا۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ شہباز گل نے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے بیان دیا، وہ ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کی مجرمانہ سازش کے مرتکب ہوئے ہیں۔
میں فوج سے محبت کرنے والا بند ہوں
عدالت آمد پر شہباز گل خوشگوار موڈ میں مسکراتے ہوئے نظر آئے۔ عدالتی احاطے میں موجود کچھ لوگوں نے ان کے حق میں اور کچھ نے ان کے خلاف نعرے لگائے۔ صحافیوں کی جانب سے جب شہباز گل سے ان کے دیئے گئے بیان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بیان فوج سے بہت کرنے والے کا بیان تھا۔
صحافیوں کی جانب سے شہباز گل سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو اپنے دیئے گئے بیان پر کوئی شرمندگی ہے؟ کیا وہ بیان آپ کا تھا یا پارٹی یا عمران خان کا؟، جس پر شہباز گل نے کہا کہ میرے بیان میں ایسا کچھ غلط نہیں کہ جس پر مجھے شرمندگی ہو۔ وہ ایک محب وطن کا بیان ہے، صحافی نے پھر ان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے عوام کو فوج کے خلاف اکسانے کی کوشش نہیں کی؟ جس پر شہباز گل نے کہا کہ میں نے عوام کو فوج کے خلاف اکسانے کی کوشش نہیں کی۔
مکمل صحت مند
اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہباز گل کو 11 اگست بروز جمعرات طبی معائنے کیلئے پمز اسپتال لایا گیا، جہاں طبّی بورڈ نے شہباز گل کو مکمل صحت مند قرار دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق شہباز گل کو صحت کا کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں۔ شہباز گل کا میڈیکل 3 رکنی بورڈ نے پمز اسپتال میں کیا۔
طبی رپورٹ کے مطابق شہبازگل کا بلڈ پریشر بھی نارمل ہے اور وہ مکمل تندرست ہیں، شہباز گل کسی بیماری کا شکار نہیں ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عدالت نے گزشتہ روز گرفتار رہ نما کے طبّی معائنے کی ہدایت کی تھی۔ شہباز گل کی جانب سے گزشتہ روز عدالت کے سامنے کہنا تھا کہ انہیں نے شہباز گل کے کپڑوں پر خون کے دھبے دیکھے ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ ان کا فوری طور پر طبی معائنہ کرایا جائے۔
دوران تفتیش شہباز گل کے انکشافات
تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل نے پولیس کی تحویل میں انکشاف کیا کہ ان کا موبائل ان کے ڈرائیور کے پاس ہے اور اس میں مقدمے کے حوالے سے بہت سا مواد موجود ہے۔
اسلام آباد پولیس کی تردید اور مؤقف
پولیس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس اس کیس سے جڑے تمام تر شواہد و ثبوت اکٹھے کررہی ہے، شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر چھاپے اور گرفتاری کا عمل قانونی ہے۔
پولیس حکام نے کہا کہ کیس کا دائرہ کار اسلام آباد کے علاوہ دیگر صوبوں تک بھی پھیلایا جاسکتا ہے، جہاں کہیں بھی قانونی کاروائی کی ضرورت پڑی پولیس اپنا کام کرے گی، اور جو لوگ غلط خبریں اور عوام میں اشتعال پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
شہبازگل کے انکشاف پر پولیس کا چھاپہ اور ایف آئی آر
پولیس نے شہباز گل کے ڈرائیور اظہاراللہ کے گھر تفتیشی ٹیم کے چھاپے کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔
شہباز گل کے اسسٹنٹ و اہلیہ سمیت 8 ملزمان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 353,382,186,506,147,149 کے تحت درج کی گئی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق شہباز گل نے دوران تفتیش بتایا کہ موبائل پرسنل اسسٹنٹ اظہار اللہ کو دے دیا تھا، اور ملزم نے تفتیش میں بتایا کہ موبائل میں مقدمہ سے متعلق کافی مواد موجود ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس پارٹی شہباز گل کے انکشاف پر ملزم کا موبائل برآمد کرنے گئی تھی، لیکن اظہار اللہ کے گھر پہنچنے پر ملزم و اہلیہ اور 6 نامعلوم افراد نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا۔
ايف آئی آر کے متن میں لکھا ہے کہ ملزمان نے کانسٹیبل سجاد شاہد کا موبائل، اےٹی ایم، سروس کارڈ اور 15ہزار روپے چھین لئے، اور ہاتھا پائی کے دوران کانسٹیبل سجاد شاہد کی یونیفارم کے بٹن توڑ دیئے۔
ایف آئی آر میں بتایا کہ موقع سے ایک ملزم نعمان اور اس کی اہلیہ سارہ مہرین کو گرفتار کرلیا گیا، جب کہ حزب اللہ، اظہار اللہ، سردار عمران، ظفر اقبال اور دیگر دو ملزمان موقع سے بھاگ گئے۔












