عالمی اخبار کے لیئے روما رضوی کی خصوصی تحریر، سوز خوانی کی روایت اور خواتین

3
2698

نوحہ ، سلام مرثیہ و سوز خوانی ۔مکتب تشیع میں مصائب آل نبی اور  واقعہ کربلا کو بیان کرنے کے لئے ادبی ذوق رکھنے والے حلقوں میں انتہائی احترام و خلوص نیت سے پڑھے جاتے ہیں ۔۔ یوں تو بادشاہوں کے قصیدے لکھنا اور دربار میں پیش کرنا ایک عام روایت رہی ہے مگر سردار الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کے خانوادے اور خصوصیت سے انکے نواسے حسین علیہ السلام کی مدحت انکی شجاعت ، قربانی اور شہادت کا بیان ایامِ عزا یعنی محرم و صفر کے اسلامی مہینوں میں سالہا سال سے کیا جاتا ہے۔
1400 سال قبل ہونے والا واقعۂ کربلا جو سرزمینِ عراق پر سن اکسٹھ ہجری میں پیش آیا جس میں امام حسینؓ کی شہادت ہوئی۔ اسی واقعہ کی یاد ہر سال دنیا بھر میں انسانیت کے علمبردار جوش و خروش سے مناتے ہیں ۔۔عرب کے اس خطہ میں بھی واقعہ کربلا سے متعلق رثائی نظمیں لکھی گئیں۔ روایتیں بیان کرتی ہیں کہ امام عالی مقام کی عزاداری کی ابتدا کوفہ میں انکی بہن جناب ذینب سلام اللہ علیہ نے کی تھی اور ان سے چھوٹی ہمشیرہ معظمہ جنابِ کلثوم نے سب سے پہلا مرثیہ لکھا تھا جس کا پہلا مصرع یہ تھا:
“مدینۃ جدنا لاتعتبلنا۔۔”
“اے میرے جد کے شہر مدینہ ہمارا تنہا پلٹنا نہ قبول کر”
واقعہ کربلا کے بعد امام زین العابدین کے اصحاب و رفقاء  بھی پرسے کی نشتوں کا اہتمام کرتے تھے جس میں فرزدق نام کے شاعر نے جب واقعہ کربلا کو نظم کیا اور امام کو سنایا تو امام سجاد نے بہت گریہ کیا اور اسے انعام و اکرام سے نوازہ۔۔اور یوں شاعری کی صورت یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔۔۔۔ عرب سے ایران اور ایران سے ہند تک سوگوارانِ امام  تا زندگی کربلا سے متصل رہتے ہیں جو ایک طرح ان کے لئے رہنمائی کا سبب بھی بن جاتا ہے۔۔ نہ صرف ایامِ عزا بلکہ اپنے مرحومین کو بھی انہی کے توسط سے یاد کرتے ہیں ۔۔اور آل نبی  کے مصائب پر کئے گئے گریہ کی صورت محبت کے اظہار کو اپنے مرحومین کو  بھی ہدیہ کرتے ہیں۔۔ اپنے غم پر آل نبی کے غم کو فوقیت دیتے ہیں۔۔
حسینی شاعری کے لئے سیرت النبی اور تاریخ اسلام کا مطالعہ بھی از حد ضروری ہے ۔۔تا کہ پڑھنے والا اس پیغام کی اصل روح تک خود بھی پہنچ سکے۔۔ اور سامعین کو بھی درست انداز سے اس فکر کی ترسیل کر سکتا ہو۔۔
برصغیر میں انیسویں صدی دراصل رثائی ادب کی تخلیق کا دور کہا جاسکتا ہے جب زیادہ تر سوز و سلام و مرثیئے تصنیف کئے گئے۔۔سوز خوانی سلام یا مرثیہ کربلا کی کہانی بیان کرنے کا وہ طریقہ کار ہے کہ جس میں شاعری کو المیہ یا بینیہ طرزوں میں ڈھال کر بصورت نوحہ برائے رقت پڑھا جاتا ہے۔۔ امام حسین اور ان کے اصحاب پر لکھی یہ شاعری تمام انسانیت کو متاثر کرتی ہے۔۔ جس میں بلا امتیاز ہر مسلم و غیر مسلم بھی شامل ہیں۔۔ سوگواری کے یہ اشعار انسانی رشتوں دکھ و الم میں گزارے وقت اور امام و انکے اعزاء  کے صبر و استقامت پر لکھے جاتے ہیں کہ کس طرح امام ، انکے اصحاب و عزیزوں نے سچ پر قائم رہتے ہوئے اپنے اصول و ضوابط اور نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئے عہد پر اپنے گھر بار اور جان و مال  قربان کرنے کی عظیم مثال قائم کی   ۔۔۔ ان واقعات کو سامعین تک پہنچانے کے لئے مختلف نشستیں رکھی جاتی ہیں جن میں عزاداران امام آغاز میں آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلتوں اور درجات کا ذکر نہایت عقیدت و  احترام سے کرتے ہیں جس دوران درود و سلام ہدیہ کیا جاتا ہے ۔۔ پھر امام کی مدینے سے روانگی تا کربلا قیام اور شہادت جیسے مصائب کے تزکرے ہوتے اور سامعین ان حالات پر گریہ کرتے ہوئے آل نبی سے عشق کا اظہار کرتے ہیں۔۔
ان نشستوں کو مجلس کا نام دیا گیا اور باقاعدہ انکی تنظیم کا خیال رکھا جانے لگا۔۔تلاوت سے آغاز ہوتا اور پھر پیش خوان شاعری کی صورت لحن میں سوز و سلام پڑھتے جس میں آئمہ طاہرین کے معجزات و منصب کا تزکرہ ہوتا ان کو  درود و سلام ہدیہ کیا جاتا ۔۔ مرثیئے پر اس حصے کا اختتام ہوتا۔۔ جو عموما” میر انیس مرزا دبیر میر مونس و دیگر قابل شعراء کا کئی بند کا طویل نظمیہ ہوتا ہے ۔۔
پھر  مقرر یا حدیث خوان ذاکر  قرآن و حدیث کی روشنی میں فلسفہ شہادت بیان کرتے ہیں اور اس حصے کا اختتام مصائبِ آل محمد یا  کسی شہید کی شہادت کے ذکر پر ہوتا ہے ۔۔ نوحہ و ماتم مجلس کا آخری حصہ ہے جس میں تمام حاضرین بھی شامل ہوتے ہیں ۔۔ زیارتِ امام حسین بھی ایک طرح کا قصیدہ ہے جو پڑھا جاتا ہے ۔۔دعا پر ان نشستوں کا اختتام ہوتا ہے۔ یہ اجتماعات علمی و ادبی اور صوتی فنون سے بھرپور سرگرمیاں ہیں۔۔جو ہر صورت ایک بڑی تعداد کو اصلاح اور تربیت کے عمل میں مصروف رکھتی ہیں ۔۔
مجالس کے آغاز میں پڑھے جانے والے سوز بطور خاص کچھ راگوں میں ترتیب دیئے جاتے ہیں اور ظاہر ہے سوز خوانی میں ُسروں کو گائیکی سے یکسر مختلف رکھنے کے لئے عزاداری کے تقدس و مقاصد کو اچھی طرح جانتا بھی ہر سوز خوان و مسند عزا پر بیٹھنے والے کے لئے لازم ہے محض موسیقی سے آگاہی رکھنے والا مومن عزادار کی طرح متوازن و مودب ہوکر سوز خوانی کا حق ادا نہیں کرسکتا ۔۔۔ سوز خوانی میں ایک سے زائد افراد ایک انجمن کی صورت آواز سے آواز ملا کر اس ہم آہنگی سے سوز و سلام مرثئیے کو پڑھتے ہیں جو ساز کی سی لے اور آواز پیدا کرتی ہے۔۔ بھارت کا شہر لکھنو اپنی عزاداری و روایات کی پاسداری کے لئے اس سلسلے میں برصغیر بھر میں سند سمجھا جاتا ہے۔۔سوز خوانی کے سلسلے بعض گھرانوں میں سینہ با سینہ یعنی نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں جنہیں بستہ بھی کہا جاتا ہے۔ موسیقی یا راگ کی خاطر خواہ سمجھ ہر سوز خوان کو نہ بھی ہو مگر آواز کو ساتھیوں سے ملانا اور درست دھن کو پکڑنا بھی ہنر سمجھا جاتا ہے ۔۔
جنوبی ہندوستان میں مجالس و مصائب حسین بیان کرنے کی یہ روایت دکن کی شیعہ ریاستوں میں زیادہ منظم رہی اور برصغیر کا پہلا عاشور خانہ (آج کل کی اصطلاح میں امام بارگاہ) بھی وہیں قائم ہوا – مغلیہ دور کی کئی حکومتوں میں محرم کی عزاداری کا بہت سے سیاحوں نے اپنے سفرناموں میں بھی کچھ اس طرح ذکر کیا ہے۔ 
“سوز و سلام اور مرثیہ پڑھنے والے افراد اپنے بین سے سننے والوں کے دل میں رقت و جوش گریہ کو پیدا کردیتے ہیں”
ہر گھر میں ان مجالس کا انعقاد ہوتا جو باعث خیر و برکت سمجھا جاتا ہے۔۔ گھر کے بڑے حصے میں فرشی نشست کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔۔ساتھ پڑھنے والوں کے لئے چوکی یا تخت سیاہ پوش موجود ہوتا ہے تاکہ پڑھنے والے بلند نشست پر ہوں اور تمام حاضرین باآسانی انہیں دیکھ اور سن سکیں ۔۔ذاکر کے لئے منبر یا کرسی موجود ہوتی ہے اگر اجتماع میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہو تو مائک کا استعمال سماعت میں آسانی کے لئے کیا جاتا ہے محفل میں آگر بتی و لوبان کی خوشبو ماحول کو پاکیزہ بناتی ہے۔۔ بچپنے سے ہی ہم سب کو مجالس کے فرش پر خاموش و با ادب بیٹھنے کی تاکید کی جاتی ہے ۔۔۔ مرد و خواتین ان ایام میں بچوں کو مجالس میں ضرور لے جاتے ہیں تاکہ اس روایت کا حصہ بن سکیں اور یہ آداب ان میں منتقل ہوسکیں ۔۔
یوں تو مردانہ مجالس ہی زور شور سے برپا ہوتی ہیں مگر خواتین اپنی روز مرہ کے معمولات کو جلد مکمل کر کے صبح سے شام تک کئی محافل میں شامل ہوتی ہیں روایات میں ہے کہ خواتین کی مجالس کا آغاز ہندوستان میں ہوا مختلف شہروں یعنی آگرہ،  امروہہ ، حیدر آباد دکن اور دیگر علاقوں کی خواتین کی طرح آج بھی اردو بولنے والے گھرانوں میں انہیں پرانی طرزوں پر ہی سوزخوانی کی جارہی ہے۔۔ جن میں بظاہر زیادہ تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔۔کجن بیگم کا نام سوز خوانی میں اولین حثیت رکھتا۔۔ اسی طرح ایک زمانے میں صابرہ کاظمی کا نام سامنے آیا ۔ خواتین سوز خوانوں میں شہری سطح پر شہرت کا معاملہ یہ یے کہ زیادہ تر خواتین اپنے اپنے علاقوں میں ہی مشہور ہوتی ہیں ۔ دوسرا معاملہ یہ رہا کہ طرزیں سب پرانی ہیں اس لئے جس کا گلا ذرا سا اچھا ہوا اسے زیادہ پڑھنے کا موقع دیا جانے لگا۔۔
دیگر خواتین میں کجن بیگم کی بہن کلو بیگم ( رضویہ) ،  شاہین باجی (دختران آباد نقوی) ( امروہہ) ، فرزانہ فتح یاب( سچے مرحوم کی سالی ) ۔ دختران عظیم المحسن ۔  بیگم زاپد فتح پوری و دختران۔۔ دختران مقصود مرزا صاحب اور استاد معشوق علی خان صاحب کی نواسی برجیس باجی کو بھی میں نے اپنے بچپن سے عزا کی محافل میں سوز خوانی و نوحہ خوانی کرتے سنا ہے ۔۔ کوکب رضوی و شیرین رضوی بھی عرصے سے سوز خوان خواتین میں اپنا مقام بنا چکی ہیں۔۔ ستر کی دہائی میں رضویہ سوسائٹی میں بیگم مصطفی اور انکی ہمشیرگان اپنی بلند اور پرسوز آوازوں کے باعث بہت شوق سے سنی جاتی تھیں ۔۔


اس زمانے میں مشہور مرد سوزخوان ، ذاکرین اور نوحہ خوانوں کے گھر کی خواتین ہی خاندانی بستوں سے بینیہ کلام پڑھا کرتی تھیں لیکن اب یہ سلسلہ نہیں ہے ۔ بلکہ بزرگ خواتین کے بجائے نوعمر لڑکیاں مسند عزا پر نظر آنے لگی ہیں ۔۔۔
 نوے کی دہائی میں شادی کے بعد جب میرا شہر لاہور آنا ہوا تو اس روایتی سوز خوانی کو عام مجالس میں کم ہی سنا خوش قسمتی سے میرے سسرال میں سوز خوانی کا رواج تھا ۔ گھرانے کے جد امجد میر سید اسد علی متین کی بیاض سے مقبول نوحہ سوز و سلام کو آج تک پڑھا جاتا ہے۔۔ (وہ بیاض محترمہ سعیدہ بانو اور شمسہ بانو نے بہت تگ و دو کے بعد دوبارہ سن دوہزار چھ میں چھپوائی)
میر متین کے پوتے سید اصغر عباس کی صاحبزادی محترمہ شمس الزہراء بھی لاہور میں اپنی پرسوز آواز اور روایتی سوز خوانی کے انداز کی وجہ سے مقبول ذاکرین میں شمار ہوتی رہی ہیں اب ان کی صابزادی طلعت زیدی صاحبہ اور خواہران اسی بستے سے مجالس میں پیش خوانی کرتی ہیں۔۔گھر میں مجالس برپا کرنے کا سلسلہ جس قدر قدیم ہے اتنی ہی پیش خوانی کی روایت برسہا برس پرانی ہے۔۔


دیکھا جائے تو بیشتر مذاہب میں مذہبی گیت  لحن یا تلاوت  سے گروہ کی صورت میں شاعری کو تبلیغ کی خاطر مختلف طرزوں سے پڑھا جاتا ہے جو سننے والوں پر وجد کی کیفیت طاری کردیتی ہے ۔۔اور وہ پیغام جس کو باصورت تقریر پہنچانا آسان نہیں ہوتا شاعری کی صورت سننے والوں پر زیادہ اثر کرتا ہے اور ذہن کے کسی گوشے میں یقینا” محفوظ رہ جاتا ہے ۔۔
نوحہ و گریہ داخلی کیفیات پر مرہم کا کام کرتا ہے ۔۔ اور سوز و گداز کی مخصوص  بندش صرف سوز خوانی میں ہی پائی جاتی ہے۔

روما رضوی

SHARE

3 COMMENTS

  1. بہت معلوماتی اور دلسوز تحریر ھے روما رضوی صاحبہ مولا علی علیہ السلام کی امان ہو آمین

  2. بہت عمدہ اور خوبصورت انداز میں مرثیہ خوانی اور سوز خوانی کی تاریخ مجالس اور وابستہ شخصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے

  3. روما رضوی صاحبہ نے ایک اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ مضمون معلوماتی ہے اور کچھ ایسے ناموں سے تعارف حاصل کرنے کا سبب ہے جن سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہوں گے۔

    سیدہ زہرہ صاحبہ نے تبصرہ فرمایا ہے کہ کالو بیگم نامی، کجن بیگم صاحبہ کی کوئی بہن نہیں ہیں۔ میرے ناقص علم میں کجن بیگم صاحبہ کی ہمشیرگان کے تین نام ہیں یعنی عشرت جہاں، کوکب جہاں، اور تنویر جہاں۔

    کراچی کی ایک سینیئر، معروف، اور مشاق سوزخواں محترمہ صابرہ کاظمی کا نام صرفِ نظر ہو گیا ہے جس کو آئندہ اشاعت میں شامل کیا جانا چاہیے۔

    روما رضوی صاحبہ بہرحال اس تحریر کے لیے تحسین کی مستحق ہیں۔

LEAVE A REPLY