گیارہویں قسط
ابن زیاد نے
امام حسین عليہ السلام کی پیش قدمی روکنے کے لیے
ایک اور اہتمام کیا
حر بن یزید تمیمی کو ان کی طرف روانہ کیا
ذمی حشم کے مقام پر
حر بن یزید تمیمی کی آپ ع سے ملاقات ہوئی
امام حسین عليہ السلام نے
اسے کوفیوں کے خطوط کے دو تھیلے منگوا کر دکھائے
حق و باطل کو سامنے رکھا اور اپنے آنے کی وجہ بتائی
اور ۔۔۔ فرمایا
’’اب آپ لوگوں کی رائے بدل گئی ہے تو میں واپس جانے کے لیے تیار ہوں‘‘
لیکن حر نے کہا
“ آپ واپس نہیں جا سکتے
ہمیں تو آپ کو گرفتار کرنے کا حکم ہے“
اور خاموشی سے امام ع کے ساتھ ساتھ چلتا رہا
یہ وہ مقام تھا
جب حر کے سینے میں
حقانیت کی روشنی پھوٹنے کا بیج پڑ گیا
وہ اپنی کیفیت سے بے خبر تھا
لیکن امام وقت باخبر تھے
آنے والے آٹھ دنوں میں
یہ بیج ثمربار درخت کی صورت ہو جائے گا
عشق رسول ۔۔ آل رسول کے عشق میں
یہ چراغ اس وقت چہار جانب روشن ہو جائے گا
جب شب عاشور کی وہ رات آئے گی
جس کی مہلت امام حسین ع نے فوج یزید سے مانگی تھی
تاریخ لکھتی ہے
یہ مہلت دراصل حر کے آنے کا انتظار تھا
امام حسین عليہ السلام نے اپنا سفر کوفہ جاری رکھا
مقام بیضہ پر آپ ع نے خطبہ دیا
جاری ہے













