کسی وقت بھی مجھے آپریشن تھیٹر لے جانے کے دو لوگ آ سکتے تھے ۔۔ لیکن مجھے بہت ساری دعائیں کرنی تھی ۔۔
شاید آخری شکریہ
شاید آخری دعا
فلسفہ دعا بھی تو یہی تھا جس کا طریقہ ہمیں ہمارے آئمہ نے سکھایا تھا ۔ حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی والدہ خاتون جنت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو آدھی رات کو اٹھ کر عبادت کرتے اور دعا کرتے پایا ۔ اکثر وہ بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے ۔ خاتون جنت سیدہ بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا دعاؤں میں سب سے پہلے ہمسایوں کے لیئے ان کی عزت ، ایمان کی سلامتی اور حفاطت کی دعائیں کرتیں پھر اپنے لیئے دعا مانگتیں ۔
میں نے ایک دن ان سے پوچھ ہی لیا کہ “ کیا آپ آدھی رات کواس لیئے اٹھتی ہیں کہ ہمسایوں کے لئے دعا کریں ۔۔ وہ مسکرا دیں ۔۔ فرمایا “ بیٹے پہلے ہمسائے پھر خود ۔۔ تو دعا بھی پہلے ان کے لیئے پھر اپنے لیئے “ ۔
حدیث مبارک ہے کہ نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہا
“ یا رسول اللہ میری کوئی دعا پوری ہی نہیں ہوتی ۔۔ کیا کروں ؟ “
آقائے کائینات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا
“ کیا تم اپنی دعا اپنےاحباب کے لیئے دعا سے شروع کرتے ہو “ ۔۔
اس نے کہا “ نہیں یا رسول اللہ “ ۔۔
نبی پاک فرماتے ہیں “ وہ دعا قبولیت نہیں پاتی جو دوسروں کی خیر خواہی کی دعا سے شروع نا ہو “ ۔
دعا میں بھی فلسفہ اخلاق سمجھا دیا کہ “ جو اپنے لیئے پسند کرو وہی دوسروں کے لیئے اور جو اپنے لیئے چاہتے ہو وہی دوسروں کے لیئے چاہو “ ۔
مجھے بھی آج سب کے لیئے بہت دعائیں کرنی ہیں ۔۔ اتنی دعائیں کرنی ہیں کہ کسی کو کہنا نہ پڑے “ دعاؤں میں یاد رکھئے گا “ بلکہ انہیں مجھ پر یقین ہو کہ وہ میری دعاؤں میں تھے تاکہ اللہ پاک ہماری دعاؤں کو قبول و منظور فرمالے ۔
میں نے سب کے حق میں اس کی دائمی صحت ، عزت ، ایمان اور خوشحالی کی دعا ئیںکیں۔۔۔ اپنی دوست فریحہ کی شکرگزار تھی کہ اس نے مجھے یہ موقع دیا تھا۔ ۔۔میرا یقین تھا اخلاص سے مانگی ہوئی دعا شرف قبولیت ضرور پاتی ہے ۔۔۔ میری پیاری دوست فریحہ تمہیںصحت سلامتی عطا ضرور ہو گی ۔۔ اور ان دعاؤںکے صدقے میںبھی صحت اور سلامتی پاؤںگی ۔۔۔
رَبَّہ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ
اے میرے خدا
میں بے بس ہوں
میری مدد فرما
آپ تیار ہے ڈاکٹر نسیم ۔۔ دو وارڈبوائے مجھے آپریشن تھیٹر لے جانے کے لئے آگئے تھے ۔
یس ڈیئر ۔۔ آئی ایم ریڈی

یس ڈیئر ۔۔ آئی ایم ریڈی
ایک نے میرا سامان اٹھایا اور نام کا ٹیگ لگا کر لاکر میں رکھنے چلے گیا ۔۔دوسرا میرے بیڈکو آپریشن تھیٹر کی طرف لئے چلا جا رہا تھا ۔۔ کئی موڑ۔۔ کئی راہداریاں آئیں ۔۔ پھر آپریشن تھیٹر پندرہ آگیا ۔۔۔ مجھے ایک نرس کے حوالے کر کے گڈ لک کہہ کر وہ چلاگیا ۔۔۔ مجھے بہت سردی لگ رہی تھی کہ آپریشن تھیٹر کا ٹمریچر نارمل ہوسپٹل کے درجہ حرارت سے کم ہوتا ہے ۔۔ نرس نے ایک اور کمبل مجھے اوڑھا دیا ۔۔
آر یو او کے ۔۔ نرس نے بڑی محبت سے پوچھا
یس ۔۔ میں نے سر ہلا دیا ۔۔ اتنے میں اینیستھزیا کی ڈاکٹر آگئی ۔۔۔ اپنے تعارف کرواتے ہوئے انیسیتھزیا کے سائیڈافیکٹ بتائے اور آخر میں پھر اسی موت کی اطلاع ۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے دستخط کر دیئے ۔ ۔۔ ڈاکٹر ڈرپ لگا کر جا چکی تھی ۔۔
میںنے آنکھیںبند کر لیں۔۔۔ روم روم ناد علی کاورد کر رہاتھا ۔۔ یہ وہی ورد تھا جو ابا جی نے مجھے اس وقت عطا کیاتھا جب میں فیصل آباد میڈکل کالج پڑھنے جا رہی تھی ۔۔۔ پھر مجھے یہی ورد جناب صفدر ہمدانی بھی ہر مشکل کودور کرنے کے لئے بتاتے تھے ۔۔ میں سراپا شکرگزار تھی ۔۔ خد اپاک نے مجھے کتنا خوش نصیب بنایا تھا ۔۔ قدم قدم پر دعا کرنے ۔۔دعا دینے والے ۔۔دعا سیکھانے والے ہمراہ رکھے تھے ۔۔
کیسی ہو نگہت ۔۔۔ مانوس سی آواز پر میں نے آنکھیںکھول دیں
سامنے ڈاکٹر رابعہ شیخ تھی ۔۔اس نے میرے سرد ہاتھوںپر اپنے ہاتھ رکھ دیئے اور آج اس کی مسکراہٹمیں دیکھ سکتی تھی جو سراپا تسلی تھی ۔۔ وہ کہہ رہی تھی ۔۔ اس وقت ڈیڑھ بج رہے ہیں ۔۔ ڈاکٹر برلنگ نے ابھی ابھی ایک آپریشن ختم کیا ہے ۔۔ جب تک وہ لنچ کرتے ہیںمیں وارڈ میں دوڑکر ایک مریضہ دیکھ آؤں ۔۔ پھر آپریشن شروع کرتے ہیں ۔۔ڈاکٹر رابعہ مجھے تسلی دے کر چلی گئیں۔۔ پھر ڈاکٹر برلنگ بھی آگئے ۔۔انہوں نے بھی مجھے تسلی دی ۔۔۔

مجھے یوںلگ رہا تھاجیسے پوری کائینات میں صرف میں ہی ایک اہم ہوں اور دعاؤںکے حصار میں ہوں ۔۔ تسلی بارشوں جیسی برس رہی تھی ۔ ۔۔ تجربے زندہ لمحوں کی کہانی ہوتے ہیں جوکبھی نہیں مرتے ۔۔ تجربے عمر کو بڑھاتے ہیں اور شخصیت کو سنوارتے ہیں اور دوسروں میں ممتاز رکھتے ہیں ۔۔۔سفر کیسا بھی ہو گا ۔۔تجربہ یادگار رہے گا۔ ۔۔ میںنے آنکھیںبند کر لیں
میرے پاک رب
مجھے یقین ہے
مرنے کے بعد
میں
ایسے جہاں کی طرف
عازم سفر ہو جاؤں گی
جس کا زکر
میں نے
اپنی کہانیوں
اور.. نظموں میں کیا ہے
میںجانتی ہوں
مہر و محبت کا
ایک جہاں
میرے انتظار میں ہے !
یہ کیسا یقین تھا جو مجھے ہر خوف سے آزاد کر رہاتھا ۔ ۔۔
مجھے لگتا تھا جیسے ہمارا سفر کسی نابینا کی سفید چھڑی جیسا ہے جو بھی زندگی کی تلخیوں کو اپنے یقین اور اعتبار سے ٹٹولتا جاتا ہے منزل مراد تک پہنچ جاتا ہے ۔۔ ہم اپنی زندگی کے دیپک خود ہیں ۔ زندگی میں جینا اور مرنا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ہمیں نہ جینا سکھایا جاتا ہے اور نہ مرنا ۔ ہم انسان ہر بچھڑنے والے کو مرنے جیسا سمجھ لیتے ہیں ۔ جبکہ بچھڑنا کشف کےدروازے کھولتا ہے اور موت دروازے بند کر دیتی ہے۔۔ جانے کیوں مجھے یقین تھا کہ میرا یہ تجرجہ کشف کے نئے دروازے کھولنے والا تھا۔
مجھے اس پر بھی پورا یقین تھا کہ دنیا میں جتنے بھی بیمار تھے ، سب اچھے ہو سکتے ہیں ۔۔ کم از کم اتنے تو ہو ہی سکتے ہیں کہ اپنی زندگی کو قدرے نارمل گزار سکیں ۔۔ لیکن ہم انسان جو ایک ڈی این اے میں دس نسلوں کی یاداشت لیئے پیدا ہوتے ہیں اپنے حصار نہیں توڑپاتے ۔۔۔ مایوس ہو کر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں ۔۔۔ حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ”خدا کی قسم! خدا، اپنے بندوں سے دو چیزوں کے علاوہ کچھ نھیں چاہتا، ایک تو اپنی نعمتوں کا اقرار، تاکہ ان میں اضافہ کرے، اوردوسرے گناہوں پر اعتراف، تاکہ وہ ان کو بخش دے “ ۔۔
میرے خدا مجھے جوڑے رکھنا ۔ میں ٹوٹنا نہیں چاہتی ۔۔۔ مایوسی اور ناشکری سے بڑی کوئی سزا نہیں ہوتی ۔۔۔ میرے پاک رب مجھے کبھی اپنی رحمت سے مایوس نہ کرنا ۔۔مجھے شکرگزاروںمیں رکھنا ۔۔
دو نرسیں مجھے آپریشن تھیٹر میں لے جا چکی تھیں ۔۔ سفید چادر سے ڈھکی ٹیبل پر لیٹتے ہوئے سامنے گھڑی پر نظر پڑی تو دو بج رہے تھے ۔۔ انیستھیزیا کی ٹیم حرکت میںآچکی تھی ۔۔۔ اور میری سانسیں مشینوںپر جانے ہی والی تھی ۔۔۔ ایک نامعلوم سی کیفیت جیسے میں کہیں گم ہورہی ہوں ۔۔ اندھیرا چھانے کو تھا۔۔ میرا دل دعاؤں پر جھول رہا تھا۔۔
میرے مالک
اے جہانوں کے معبود
اپنی
معبودیت کے صدقے
مجھے
دار القرار میں رکھنا
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم













