حُسین شناسی کا سفر۔24۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
770

قسط چوبسیویں

کرب و بلا تک کا یہ پر آشوب سفر
کوئی
کچھ ماہ
چند برس نہیں
بلکہ
برسوں برس پر محیط
خم غدیر سے کربلا تک کا سفر ہے
تاریخ کے اوراق پلٹ‌کر تو دیکھئے
خدارا مسلکی عینک اتار کر تو پڑھیئے
دل پر ہاتھ رکھ کرایکبار تو سوچئے
کہ
آخر ایسا کیا ہوا تھا ؟
جو
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
وصال کے پچاس برس بعد ہی
اسلامی دنیا میں
بغض و عناد کی وبایئں پھوٹ ‌پڑیں
گہری سازشیں رچائی گیئں
یوں لگا ۔۔ جیسے
خم غدیر پر
خطبہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کونظر انداز کرنا
گویا
تفرقات کے تسلسل
اور
مسلکی جنگوں کے خطرات کو نظرانداز کرنا تھا
کچھ بھی تو یاد نہ رکھا گیا
آئمہ علیہ السلام فرماتے ہیں
“ غدیر کا دن
بہت عظیم الشان دن ہے
آج کے دن کو
وسعت حاصل ہے
رتبہ بلند ہوا
خدا کی دلیلیں روشن ہوئیں
آج کا دن
دین کے کامل ہونے اور عہد و پیمان کا دن ہے ”
وہ دن
جمعرات 18 ذی الحجہ 21 مارچ نوروز کا دن تھا
جب
رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے
ہجرت کے دسویں سال
ایک لاکھ بیس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ حج فرمایا
حجتہ الوداع کے بعد
واپس جاتے ہوئے یہ قافلہ جحفہ پہنچا
جحفہ مکہ سے 13 میل کے فاصلے پر ہے
یہ وہ مقام ہے
جہاں
شام کے راستے سے حج کے لیے مکہ آنے والے لوگ احرام باندھتے ہیں
اس کو میقات اہل شام (سوریہ) بھی کہتے ہیں
اور ۔۔ مکہ سے واپسی پر
مدینہ منورہ، مصر، شام اور عراق والوں کے راستے الگ ہو جاتے ہیں
اس کے قریب
کوئی ڈیڑھ دو میل کی مسافت پر
ایک تالاب ہے
عربی میں تالاب کو غدیر کہتے ہیں
اسی مقام پر
یعنی غدیر خم کے مقام پر
نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم
حکم خداوندی سے توقف فرمایا
اور تمام ایک لاکھ بیس ہزار صحابہ سے خطبہ ارشاد فرمایا
امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کو اپنا جانشین مقرر فرمایا
اور ۔۔ ارشاد فرمایا
”من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ “
جس جس کا میں مولا ہوں
اس اس کے علی مولا ہیں
اے خدا
تو اس کو دوست رکھ جو علی ع کو دوست رکھے
اور اس کو دشمن رکھ جو علی ع کو دشمن رکھے
اے لوگوں!
حاضرین یہ پیغام غائبین تک پہنچایئں
جو مجھ پر ایمان لایا اور جس نے میری تصدیق کی
اس کو میں علی ع کی ولایت کی تلقین کرتا ہوں
آگاہ ہوجاؤ
علی ع کی ولایت میری ولایت ہے
اور میری ولایت خدا کی ولایت ہے
یہ پیغام
میرے اس خدا کی طرف سے ہے
جس نے
مجھے حکم دیاہے
کہ
میں تم تک یہ پیغام پہنچا دوں “
روز غدیر
قران کے الفاظ‌ میں
” کمال دین اور اتمام نعمت ہونے کا دن ہے ”
ادھر کفار یہ امید لگائے بیٹھے تھے
کہ
جب پیغمبر رحلت کریں گے
تو ان کی رحلت کے ساتھ ان کا لایا ہوا دین بھی مٹ جائے گا
اور اس طرح ان کی حکومت دوبارہ مستحکم ہو جائے گی
مگر ۔۔۔۔
قدرت کو کچھ اور منظور تھا
اللہ پاک نے
دین اسلام کو زندہ رکھنے کے لئے
مقام غدیر پر
ایک لاکھ بیس ہزار صحابہ کرام کے درمیان
پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
مولا متقیان حضرت علی ع کی امامت و ولایت کا اعلان کروایا
اس دن کفار کے ناپاک مقاصد و عزائم خاک میں مل گئے
اور ان لوگوں نے
یعنی کفار ، مشرکین ، منافقوں نے
اعلان غدیر کا بدلہ یوں لیا
مسلمانوں کو
جاہ مرتبہ ، دولت و زر کا لالچ دے کر
فتنہ و فساد کیا
تفرقات کی بنیاد رکھی
بغض عناد کا ساجھے دار بنایا
اور ۔۔۔ زیادہ تر مسلمان
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ فرمان مبارک تک بھول گئے
جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا
کہ
“ اپنے بعد
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ‌کر جا رہا ہوں
ایک قران
دوسری میرے اہل بیت
جب تک
تم ان کا دامن تھامے رہوگے، کبھی گمراہ نہیں ہوگے”
لیکن مسلمان
گمراہ ہو گئے
وہ بھو ل گئے
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا
اپنے خطبے میں
اپنی تبلیغ پر ، خداوند عالم کو گواہ بنانا
وہ بھو ل گئے
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
اپنے پیغام کو پہنچانے پر لوگوں کو گواہ بنانا
وہ بھو ل گئے
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
خطبے میں
اہل بیت کے لئے
قرآن کی آیتوں کو بطور شاہد پیش کرنا
وہ بھو ل گئے
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
اپنے بعد امامت کے مسئلہ پر تاکید کرنا
وہ بھو ل گئے
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان کرنا
وہ بھو ل گئے
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
حلال و حرام کے تبدیل نہ ہونے پر تاکید کرنا
وہ بھو ل گئے
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
نماز، روزہ ، زکات، حج کا بیان اور تلقین کرنا
وہ یہ بھی بھو ل گئے
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
منافقین کے گذشتہ اور آئندہ اقدامات کی طرف اشارہ کرنا
اور یوں ہوا
منافقین اپنا کام کرتے رہے
مسلمان تفرقوں میں بٹتے رہے
رحلت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد
امیرالمومنین علی علیہ السلام کی زندگی کے سخت اور دشوار ایام شروع ہوگئے

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY