قسط تریسٹھ
لشکر اشقیاء کے بعض افراد ایک دوسرے کی سر زنش کرنے لگے
اور ۔۔ کہنے لگے
کہ
کیا ہو جائے گا
اگر ہم اس بچے کو پانی دے دیں؟
بچے تو بچے ہوتے ہیں بچوں کا کیا قصور ہے
لشکر کے درمیان ایک ہلچل سی مچ گئی
عمر بن سعد نے جب یہ دیکھا
قریب ہے
کہ
لشکر بغاوت کر دے
تو اس نے
حرملہ بن کاہل اسدی سے تیر چلانے کو کہا
حرملہ گھوڑے پر ایک بلند مقام پہ آیا
اور ۔۔
گھوڑے سے نیچے اتر کر بچے کی طرف تیر چلایا
تاریخ بتاتی ہے
کہ
یہ تین منہہ کا تیر تھا
جو اس وقت
عرب میں اونٹوں کو زبح کرنے کے لئے چلایا جاتا تھا
وہ تین منہہ کا تیر
شہزادہ علی اصغر کے گلوئے اقدس سے نکل کر
امام حسین علیہ السلام کے بازو میں پیوست میں ہو گیا
جناب علی اصغر مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہید ہو گئے
امام عالی مقام نے
اپنے ہاتھوں کو بچے کی گردن سے ٹپکتے ہوئے خون سے بھرا
اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمان کی طرف پھینکنا چاہا
تو ۔۔ آسمان سے صدا آئی
اگر یہ خون ناحق میری طرف اچھالا گیا
تو قیامت تک
بارش کا ایک قطرہ نہیں ہوگا
امام حسین ع نے وہی خون زمین پر پھینکنا چاہا
توزمین سے صدا آئی
اگر یہ خؤن مجھ پر پھینکا گیا
تو حشر تک
ایک دانہ اناج کا پیدا نہیں ہوگا
امام حسین علیہ السلام نے وہ خون
اپنے چہرے پر مل لیا
اور فرمایا
کہ
میں اس حالت میں
اپنے نانا ص کے سامنے جاؤں گا
امام عالی مقام
جناب علی اصغر کو سینے سے لگائے خیام حسینی کی طرف چلے
گلوئے اقدس کا خون آپ کے سینہ مبارک پر بہہ رہا تھا
امام حسین علیہ السلام نے معصوم کی میت خیمے میں لے جانی چاہیئے
پھر یہ سوچ کر رک گئے
کہ
اس کی ماں کا جگر پھٹ جائے گا
امام عالی مقام نے
جناب علی اصغر کی میت کو ہاتھوں میں اٹھا کر
تین مرتبہ آگے بڑھتے ہوئے
تین مرتبہ پیچھے جاتے ہوئے
انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا
پھر خیام حسینی کے عقب میں
اپنی تلوار سے
ننھی سی قبر کھودی
اکیلے نماز پڑھی اور خود دفن کر دیا
تاریخ اب بھی سوچ رہی ہے
کہ
امام عالی مقام نے صرف شہزادہ علی اصغر ہی کو کیوں خود دفن کیا
کچھ کہتے ہیں
ممکن ہے
کہ
تنہائی کی وجہ سے بچے کو سپرد خاک کر دیا ہو
کچھ کہتے ہیں
اس لئے خود دفن کیا
کہ
دوسرے شہیدوں کی طرح بچے کا سر بدن سے جدا نہ ہو
ایک اور خیال ہے
کہ
اس لئے دفن کر دیا
کہ
دوسرے شہداء کی طرح، تین روز تک زمین پر برہنہ و عریاں نہ پڑے رہیں
شاید اس لیئے
کہ
گھوڑوں کے سموں کے نیچے پامال نہ ہو
سب سے بڑھ کر
کہ
امام علیہ السلام اور اہل حرم تاب نہیں رکھتے تھے
کہ
اپنے بچے کے بدن کو دوسری بار اس حالت میں دیکھیں
باب الحوائج شہزادہ علی اصغر علیہ السلام نے
دس 10 رجب 60 ہجری کو
مدینہ طیبہ میں اس عالم کائنات کو نور تابناک سے منور فرمایا
آپ کی مادر گرامی ام رباب سلام اللہ علہیا تھیں
آپ کا نام علی اور لقب اصغر تھا
کیا ہی نسبتیں لے کر جہاں میں ظہور ہوئے تھے
دادا حضرت علی علیہ السلام اور دادی جگر گوشہ رسول سیدہ فاطمہ سلام اللہ علہیا تھیں
بہن سکینہ تو بھائی علی اکبر تھے
چچا امام حسن علیہ السلام اور ابوالفضل عباس علمدار تھے
نو محرم کو جناب علی اصغرع کی عمر چھ ماہ سے ایک دن کم تھی
امام حسین علیہ السلام کی
ابن سعد سے ایک رات کی مہلت مانگنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی
کہ
جہادمیں شامل ہونے کے لیے شرط ہے
عمر چھ ماہ سے کم نہ ہو
حدیث قدسی ہے
کہ
اگر بوڑھے رکوع کرنے والے
شیرخوار بچے
چرنے والے چوپائے
خشوع کرنے والے جوان نہ ہوتے
تو
میں تم پر
آسمان کو لوہا
زمین کو تانبہ بنا دیتا
نہ تم تک ایک قطرہ پانی نازل کرتا
نہ تمہارے لیے زمین سے ایک دانہ اگاتا
بلکہ تم پر عذاب انڈیل دیتا
جب تک
علی اصغر ع زندہ رہے
دوسرے معصوموں کی طرح
دفع عذاب کے اسباب میں ایک فرد بن کر شریک رہے
بعد شہادت
امام حسین ع نے
انکا خون اپنی حکمت عملی سے آسمان و زمین پر گرنے نہ دیا
پھر امام ع نے انکو دفن کرکے
اہل زمین کو دردناک عذاب سے بچا لیا
حضرت نوح علیہ اسلام نے
نو سو پچاس برس کی تبلیغ میں صرف چند نفوس کے دلوں میں گھر کیا
شہزادہ علی اصغر ع کی
چند منٹ کی خاموش تبلیغ نے
یزید کی فوج میں تلاطم برپا کر دیا
انکی بے زبان مظلومیت کا اثر کائنات سے ابد تک نہ جائے گا
سلام شہزدہ علی اصغر ع
سلام آپ کے اجداد پر
صلوات درود فرزند امام حسین علیہ السلام علی اصغر ع
آپ وہ معصوم طفل ہیں
جن کی شہادت
بہت سنگین اور دردناک ہے

صلوات درود فرزند امام حسین علیہ السلام علی اصغر ع
السلام علي عبدالله بنالحسين، الطفل الرضيع، المرمي الصريع، المشحط دما،
المصعد دمه في السماء، المذبوح بالسهم في حجر ابيه، لعن الله راميه حرملة بن کاهل الاسدي۔
أَلسَّلامُ عَلَی الرَّضیعِ الصَّغیرِ
سلام ہو اس چھوٹے شیرخوار پر
جاری ہے













