علی کھُلے ہیں سارے باب بند کتاب مستقل،محمد عثمان علی

0
640

چند روز کی ہوس عشق عذاب مستقل
رہ گئے آنکھوں میں اب چند خواب مستقل

حالت جاں تباہ سہی لیکن سدھر ہی جائے گی
بستی مگر یہ دل کی ہے خانہ خراب مستقل

عمر بھر ہوئیں نہ ختم بے یقیں مسافتیں
رستے تمام عارضی صحرا سراب مستقل

بحث حسن و عشق کی کیا کوئی سنے بھلا
عشق کے سوال میں سارے جواب مستقل

حرف حرف پڑھاتے ہو ورق ورق جلاتے ہو
علی کھُلے ہیں سارے باب بند کتاب مستقل

محمد عثمان علی

SHARE

LEAVE A REPLY