چند روز کی ہوس عشق عذاب مستقل
رہ گئے آنکھوں میں اب چند خواب مستقل
حالت جاں تباہ سہی لیکن سدھر ہی جائے گی
بستی مگر یہ دل کی ہے خانہ خراب مستقل
عمر بھر ہوئیں نہ ختم بے یقیں مسافتیں
رستے تمام عارضی صحرا سراب مستقل
بحث حسن و عشق کی کیا کوئی سنے بھلا
عشق کے سوال میں سارے جواب مستقل
حرف حرف پڑھاتے ہو ورق ورق جلاتے ہو
علی کھُلے ہیں سارے باب بند کتاب مستقل
محمد عثمان علی













