حُسین شناسی کا سفر۔40۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
996

قسط چالیس

امام حسین علیہ السلام کے 72 جانثاروں کے سامنے
لشکر یزید کی تعداد 30000 تھی
امام حسین علیہ السلام نے ان کی طرف دیکھا
اپنے گھوڑے “ مرتجز “ کی طرف بڑھے
مرتجز کو ذوالجناح بھی کہتے ہیں
جس کے معنی
“صاحبِ شہپر یا پروں والا” ہیں
یہ وہ راہوار پاک ہیں
جن پر
سوائے
امام حسین علیہ الصلواۃ والسلام کے
کبھی کوئی سوار نہیں ہو سکا
امیر المؤمنين علی علیہ الصلواۃ والسلام کو
یہ راہوار
اور ان راہوار کی والدہ جن کا اسم مبارک مجلّی تھا
یمن کے بادشاہ نے ہدیتاً پیش کیے تھے


مرتجز کی عظمت کی انتہا
اس بات سے معلوم ہوتی ہے
کہ
ان کو دخترِ رسولِ خدا ص سیدۂِ کائنات صلواۃ الل عليہا نے
اپنی ردائے تطہیر میں دانے کھلائے تھے
کیونکہ
یہ ان کے بہت پیارے فرزند
سلطان کربلا علیہ الصلواۃ والسلام کا ہم سفر تھا
جب آپ نے زینِ راہوار پر سوار ہونا ہوتا
تو
آپ فرماتے
” کوئی ہے جو مجھے میرے راہوار پر سوار کرائے “
اس وقت مرتجز بھی بچہ تھا
اور امام حسین علیہ السلام بھی بچے تھے
مرتجز اب
باذو رکھنے والوں جیسے بہادر اور وفادار ہو چکے تھے
امام حسین علیہ السلام
اپنے وفادار گھوڑے “ مرتجز“ پر سوار ہوئے
اور چند ساتھیوں کے ساتھ دشمن کی لشکر کی جانب بڑھے
کوفے کے مشہور قاری
بُرَیر بن خُضَیر ہمدانی امام حسین ع کے آگے تھے
امام ع نے ان سے کہا
“اے بریر ان کی نصیحت کرو”
بریر دشمن کی فوج کو واعظ و نصیحت کرنے لگے
پھر امام حسین علیہ السلام
دشمن کے سامنے آئے
بلند آواز سے
عمر بن سعد کی فوج سے مخاطب ہوئے
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
” اے لوگو !
میری باتوں کو سنو اور جنگ کے لئے جلدی مت کرو
تاکہ
مجھ پر پر جو تمہارا حق ہے
میں ہدایت دے سکوں
اور اپنے یہاں آنے کا مقصد تم لوگوں تک پہنچا سکوں
اگر انصاف سے کام لو گے تو سعادتمند ہو جاؤگے
اور اگر
انصاف سے کام نہ لو گے
تو کم از کم
حسن ظن رکھو
تاکہ
تمہارا کام تمہیں کوئی غم و اندوہ نہ پہنچا سکے
اس کے بعد
میرے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر لینا
میرا مولا وہ خدا ہے جس نے قرآن نازل کیا
اور وہ تمام نیک اور پرہیز گاروں کا مولا و مددگار ہے
ان لوگوں کا
جو خدا کی حمد و ثنا بجا لاتے ہیں
خدا کو نیکی کے ساتھ یاد کرتے ہیں
اور پیغمبر اکرم ، ملائکہ اور انبیاء پر درود بھیجتے ہیں “
اس کے بعد آپ فرماتے ہیں
” پس میرے حسب و نسب پر غور کرو
اور دیکھو
میں کون ہوں
اس کے بعد اپنے آپ سے رجوع کرو
اور اپنے آپ کو ملامت کرو
اور دیکھو کہ آیا مجھے قتل کر دینا
اور میری حرمت پامال کر دینا تمہارے لئے سزاوار ہے؟
کیا میں
تمہارے نیی کی بیٹی اور اس کے وصی کا لخت جگر نہیں ہوں؟
میرے بابا وہ ہیں
جو رسول ص کے چچا زاد بھائی تھے
جنہوں نے سب سے پہلے رسول خدا پر ایمان لائے
جو کچھ آپ ص نے خدا کی طرف سے پہنچایا ، ایمان لائے
کیا حمزہ سیدالشہداء میرے چچا نہیں ہیں ؟
کیا جعفر بن ابی‌طالب جو بہشت میں
دو پروں کے ساتھ پرواز کر گئے میرے چچا نہیں ہیں؟
کیا تم لوگوں تک نہیں پہنچا
جو کچھ رسول خدا نے
میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا
کہ
“ یہ دونوں بہشت کے جوانوں کے سردار ہیں “
اگر میری باتوں کی تصدیق کرو گے
تو
حق وہی ہے
خدا کی قسم!
جب سے مجھے معلوم ہوا ہے
کہ
جھوٹ بولنے والا خدا کا دشمن ہوتا ہے، جھوٹ نہیں بولا
پھر بھی
اگر میری طرف جھوٹ کی نسبت دیتے ہو
تو
اب بھی
تمہارے درمیان بعض ایسے لوگ ہیں
ان سے پوچھو
جو ان باتوں کی تمہیں خبر دیں گے جو میں نے کہا ہے
جابر بن عبداللَّہ انصاری، اباسعید خدری
ہل بن سعد ساعدی، زید بن ارقم اور انس بن مالک سے پوچھو
تاکہ
وہ تمہیں بتا دیں
کہ
انہوں نے یہ باتیں
میرے اور میرے بھائی کے بارے میں پیغمبر اکرم ص سے سنی ہیں
کیا رسول خدا کی یہ باتیں
میرے خون سے
اپنے ہاتھوں کو رنگنے سے تمہیں باز نہیں رکھتیں ؟”
شمر بن ذی‌الجوشن نے کہا
” میں خدا کی کلمے کے ساتھ عبادت کرتا ہوں
ای حسین
تم کیا کہہ رہے ہو
میری سمجھ میں نہیں آرہا “
اس پر
حبیب ابن مظاہر نے شمر بن ذی‌الجوشن سے کہا
“خدا کی قسم !
میں دیکھ رہا ہوں
اور میں
گواہی دیتا ہوں کہ تم سچ کہہ رہے ہو
کہ
تم حسین ع کی باتوں کو نہیں سمجھ رہے ہو
کہ
وہ کیا کہہ رہا ہے
خدا نے
تیرے دل پر
حق کو نہ سمجھنے کی مہر لگا دی ہے”
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
” اگر ان باتوں میں کوئی شک و تردید ہے
تو
کیا
اس میں بھی کوئی شک و تردید ہے
کہ
میں تمہارے پیغمبر ص کی بیٹی کا فرزند ہوں؟
خدا کی قسم !
مشرق و مغرب کے درمیان
پیغمبر ص کی بیٹی کا فرزند میرے علاوہ کوئی نہیں ہے
چہ تمہارے درمیان
چہ کہیں اور!
افسوس ہو تم پر
کیا میں نے تمہارے کسی فرد کو قتل کیا ہے
جس کے
خون کا بدلہ مجھ سے لے رہے ہو؟
یا
میں نے کسی کا مال اٹھایا ہے؟
یا کسی
زخم کی قصاص مجھ سے چاہتے ہو؟”
اس کے بعد
امام حسین علیہ السلام نے با آواز بلند فرمایا
‌اے شبث بن ربعی، اے حجار بن ابجر
اے قیس بن اشعث اور اے یزید بن حارث
کیا تم لوگوں نے مجھے خط نہیں لکھے تھے
کہ
میوے پک چکے ہیں اور باغ‌ سرسبز ہو چکے ہیں
اور آپ
ایک ایسے لشکر سے روبرو ہونگے
جو آپ کی نصرت کے لئے آمادہ ہیں؟“
قیس بن اشعث نے کہا
” ہمیں سمجھ نہیں آرہی ہے
کہ آپ کیا فرما رہے ہیں
بس ۔۔۔ یوں کریں
اپنے چچا زاد بھائی (عبیداللَّہ) کے حکم پر سر تسلم خم کردے
کیونکہ
جو کچھ آپ کو پسند ہے
اس کے علاوہ
آپ سے کوئی اور معاملہ نہیں کرے گا “
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
” خدا کی قسم !
ایسا ہرگز نہیں ہو گا
کہ
میں ذلت کا ہاتھ تھاموں
اور نہ ایسا ہو گا کہ غلاموں کی طرح بھاگ جاؤں ”
اس کے بعد
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
اے بندگان خدا !
میں تمہارے اور اپنے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
تاکہ
تمہارے گزند سے محفوظ رہ سکوں
اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
اس سرکش سے
جو روز جزا پر ایمان نہیں رکھتا ہے”
عمر بن سعد کی فوج نے شور مچا دیا
آپ کے خطاب کو پچھلی صفوں تک پہنچنے میں رکاوٹ بن گئے
آپ نے فرمایا
“تم لوگ اس لیئے میری بات نہیں سنتے!
کیونکہ
تمہارے پیٹ مال حرام سے پر ہو چکے ہیں
اور تمہارے دلوں پر شقاوت کی مہر لگا دی گئی ہے”
عمر بن سعد کی فوج
امام حسین علیہ السلام سے جنگ کے لئے تیار ہوگئی

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY