سپریم کورٹ 29مئی کو جے آئی ٹی ارکان پر تحفظات سنے گی

0
306

پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے 2ارکان پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کے تحفظات کا اظہار کردیا، سپریم کورٹ نے حسین نواز کے تحفظات سننے کے لیے پیر 29 مئی کی تاریخ مقرر کردی۔

حسین نواز نے تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ جے آئی ٹی میں شامل بلال رسول اور عامر عزیز کی سیاسی وابستگیاں ہیں، دونوں ارکان کا رویہ غیر جانب دارانہ نہیں متعصبانہ ہے، انہیں تبدیل کیا جائے۔

واضح رہے کہ بلال رسول ایس ای سی پی اور عامر عزیز اسٹیٹ بینک کی طرف سے جے آئی ٹی کے رکن ہیں۔

ذرائع کے مطابق طارق شفیع نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء اور سپریم کورٹ کو شکایت کی تھی کہ جے آئی ٹی نے جب ان کا انٹرویو کیا تو 2ارکان بلال رسول اور عامر عزیز کا رویہ انتہائی تضحیک آمیز اور جارحانہ تھا، انہوں نے ہراساں بھی کیا۔

ذرائع کے مطابق اس شکایت کی بنیاد پر وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے بھی رجسٹرار سپریم کورٹ کو ای میل کے ذریعے شکایت بھجوائی۔

ان کا مؤقف تھا کہ جے آئی ٹی کے 2 ارکان بلال رسول اور عامر عزیز کے سیاسی عزائم ہیں اور وہ گواہوں پر دباؤ ڈال کر مرضی کا بیان لینا چاہتے ہیں جس سے انکوائری متاثر ہو سکتی ہے۔

حسین نواز نے ای میل میں استدعا کی ہے کہ عدالت جے آئی ٹی کے ان ارکان کے متعصبانہ اور تحکمانہ انداز کا نوٹس لے کر مناسب احکامات جاری کرے تاکہ انکوائری سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہو اور عدالتی حکم کو غلط طور پر استعمال نہ کیا جاسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے نامزد افسر عامر عزیز پرویز مشرف دور میں نیب میں تعینات رہے ہیں جب کہ بلال رسول کی بیگم 2013 ءکے انتخابات میں ق لیگ کے امیدواروں کی فہرست میں شامل تھیں۔

ذرائع کے مطابق پاناما عملدرآمد بنچ نے حسین نواز اور طارق شفیع کی شکایات پر 29 مئی کی سماعت کے لیے درخواست گزاروں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے وزیراعظم کو پیش ہونے کے لیے فی الحال کوئی تحریری نوٹس جاری نہیں ہوا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی اطلاع دی گئی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY