عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پر تشدد مظاہروں میں جاں بحق افراد کی تعداد 4 ہوگئی

0
999

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کےچیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سےگرفتار کیے جانے کےبعد پی ٹی آئی کارکنوں کےپرتشدد مظاہروں کے جاں بحق افراد کی تعداد 4 ہوگئی،جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں میں دفعہ 144 نافذ ہیں۔

خیال رہے کہ رینجرز نے آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے پاکستان تحریک انصاف کے نیب کی درخواست پر القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کر لیا جس کے بعد انہیں نیب راولپنڈی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئر مین کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، جو پر تشدد شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

ریسکیو ترجمان کے مطابق لاہور کے علاقے گلبرگ میں نجی پلازےسےسرچ اینڈ سویپ آپریشن کے دوران لاش ملی، نامعلوم شخص کی شناخت نہیں ہوسکی ، عمر 30 سے 35سال ہے۔ پلازے میں گزشتہ رات پی ٹی آئی کارکنوں نے آگ لگائی تھی۔

علی زیدی گرفتار
پاکستان تحریک انصاف نے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی حیدر زیدی سمیت 23 کارکنوں کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایس ایس پی رضا نے دعویٰ کیا کہ کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور 23 کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔

پشاور میں 30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ
ڈپٹی کمشنر پشاور شاہ فہد کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے بعد شہر میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مالا کنڈ میں شدید جھڑپ سے 4 کارکن زخمی
اُدھر مالاکنڈ میں سوات موٹروے انٹرچینج میدان جنگ بن گیا۔ مظاہرین نے پل چوکی انٹرچینج کو توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگادی، کئی گاڑیاں بھی جلادیں۔ فائرنگ سے ایک کارکن جاں بحق جبکہ چار کارکن شدید زخمی ہوگئے۔

پنجاب میں 2 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ
محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے میں 2 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 ضلعی انتظامیہ کو عوامی مفاد میں ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے جن کے تحت مخصوص مدت کے لیے کسی سرگرمی پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔

دوسری طرف محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھرمیں دفعہ 144 نافذ کردی ہے جبکہ موبائل فون سروس بند کرنے کیلئے بھی مراسلہ لکھ دیا گیا۔

نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر نگران وزیراعلیٰ پنجاب سیّد محسن نقوی نے لکھا کہ یہ سیاست نہیں ہے، سراسر دہشت گردی ہے۔ میرا قوم سے وعدہ ہے ہم ریاست پاکستان پر اس حملے میں ملوث کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔

بلوچستان میں بھی دفعہ 144 نافذ
کوئٹہ میں بھی پی ٹی آئی کارکنوں نے جلاؤ گھیراؤ کیا۔ پولیس کی دو گاڑیاں جلا ڈالیں۔ تصادم میں ایک شخص جاں بحق اور چار زخمی ہوگئے۔

مزید برآں وزیر داخلہ بلوچستان نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے سے سختی سے نمٹا جائےگا۔

اس سے قبل ترجمان بلوچستان پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم نے بلوچستان پولیس پر حملہ کیا ،جس کے نتیجےمیں ایس پی سی ، ڈی ایس پی کینٹ اور ایس ایچ او بجلی روڈ شدید زخمی ہوگئے، پولیس کے ساتھ جھڑپ میں متعدد پولیس اہلکاربھی زخمی ہوئے، مشتعل ہجوم پیڑول بم نے استعمال کرتے ہوئے پولیس کی دو گاڑیوں کو نذر بھی آتش کیا۔

ترجمان کے مطابق مشتعل ہجوم کے پاس اسلحہ بھی تھا ، ہجوم کے خلاف قانون کے مطابق پولیس کاروائی کریں گے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس پر حملے اور دیگر جرم میں سیاسی جماعت کے کئی کارکنان گرفتار کر لیے گئے۔

ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں معمولات زندگی بحال ہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے ۔ بلوچستان پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہسکون رہیں اور کسی بھی پرتشدد مظاہرے کا حصہ نہ بنیں ۔

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اور نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شرپسندوں اور غنڈوں سے قانون کے مطابق نمٹیں۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ ’زیرو ٹالرنس‘ کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے عمران خان کی گرفتاری پر کہا ہے کہ یہ کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہے بلکہ ثابت شدہ کرپشن ہے، قانون کی حکمرانی اور میرٹ ہے۔ اس کیس میں پراپرٹی ٹائیکون بھی مستفید ہوئے ہیں لیکن مرکزی ملزم عمران خان ہیں۔ پی ٹی آئی کے تمام رہنماؤں کو چیلنج کرتا ہوں کہ اب بتائیں کہ القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی کون ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY