حکومت اور اپوزیشن ایوان چلانے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے۔اجلاس جاری ہے

0
775

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آج اپوزیشن کے ساتھ میٹنگ ہوئی، تمام معاملات پر گفتگو ہوئی اور خوش کن بات یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایوان چلانے کیلئے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔

فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ آج حکومت اور اپوزیشن کی تفصیلی ملاقات ہوئی ہے، ایوان میں جو کچھ ہوا اس سے سب کی سبکی ہوئی، ایسا ماحول نہیں بننا چاہئے کہ ادارے فنکشنل نہ ہوں ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سب سے پہلے پارٹی لیڈرشپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے لوگوں کو کنٹرول کریں، اسپیکر کے اختیارارت بڑھانے پر بھی اپوزیشن سے بات ہوئی ہے،ہم نے اپوزیشن رہنماؤں سے تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی بات کی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ایم این ایز یا وزیروں تک بات نہیں، تضحیک کسی کی نہیں ہونی چاہیے، تقاریر میں نہ حکومتی رکن کو نہ ہی کسی اپوزیشن رکن کوکسی کی بھی تضحیک کرنی چاہیے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہاکہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر پر 186 ارکان نے اعتماد کا اظہار کیا ہے، ہمیں نمبرز کا مسئلہ نہیں ہے۔

وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور ہم لوگ بغیراحتجاج بات کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی پر ایکشن لیتے ہوئے 7 ممبران اسمبلی کے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

جیونیوز کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گزشتہ روز ایوان میں شدید ہنگامی آرائی کا نوٹس لیا تھا اور اس کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اس حوالے سے آج ایک اجلاس بلایا جس میں گزشتہ روز کی فوٹیجز دیکھی گئیں اور ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے ممبران پر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

قومی اسمبلی سے جاری اعلامیے کے مطابق جن اراکین پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں تحریک انصاف کے تین، (ن) لیگ کے تین اور پیپلزپارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔

اعلامیے کے مطابق اسپیکر نے پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ، (ن) لیگ کے شیخ روحیل اصغر ، علی گوہر خان اور چوہدری حامد حمید پرپابندی عائد کی ہے جب کہ تحریک انصاف کے علی نواز اعوان، عبدالمجید خان اور فہیم خان پر پابندی لگائی گئی ہے۔

اعلامیے کےمطابق ان اراکین پر تاحکم ثانی پابندی عائد کی گئی ہے جب کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب اس سلسلے میں متعلقہ اراکین اور اسمبلی سکیورٹی کو احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

واضح رہےکہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جس دوران اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جب کہ بجٹ کی کاپیاں بھی ایک دوسرے کو ماری گئیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی کا بیان
دوسری جانب اسد قیصر نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ قائدحزب اختلاف کی تقریرکے دوران خلل پیدا کرنے والے ارکان کا رویہ غیر پارلیمانی تھا، ان اراکین کا رویہ نامناسب تھا، ان کے ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY