حُسین شناسی کا سفر۔48۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
673

قسط  اڑتالیس

کربلا میں
لشکر حسین اور لشکر یزید آمنے سامنے تھے
جنگ کے پہلے حصے میں
حضرت امام حسین علیہ السلام کے لشکر کا علم
حضرت عباس علیہ السلام کے فولادی ہاتھوں میں تھا
جبکہ
جناب زہیر بن قین میمنہ کے سالار تھے
اور
جناب حبیب ابن مظاہر میسرہ کے سالار تھے
اور امام حسین علیہ السلام اور بنی ہاشم کے افراد قلبِ لشکر میں تھے
امام حسین علیہ السلام کا لشکر خیام کے سامنے صف آراء ہوا تھا
جبکہ
خیام کی پچھلی جانب
خندق کھود کر اس میں لکڑیاں ڈال کر انھیں آگ لگا دی گئی تھی
تاکہ
جنگ فقط ایک طرف سے ہو
اور
کوئی دشمن بھی پشت سے خیام پر حملہ آور نہ ہو سکے
امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں
بتیس سوار اور چالیس پیادے تھے
لشکریزید میں
سواروں کا سردار عروہ بن قیس لعین
پیادوں کاسردار شبث بن ربعی پلید تھا
لشکر کے میمنہ کی سالاری عمرو بن قیس ملعون کے ہاتھ میں تھی
میسرہ کی سرداری لعین ابن لعین شمربن ذی الجوشن کے پاس تھی
اور
علم درید ملعون کے پاس تھا
مشہور صحابی رسول سعد بن ابی وقاص کے فرزند
عمر بن سعد نے
کمان میں تیر جوڑ کر امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف پھینکا
اور غرور سے کہا تھا
اے لوگوں
گواہ رہنا اور امیرالمومنین یزید کو بتانا
کہ
میں وہ پہلا شخص ہوں
جس نے
جنگ کے لیے
امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف پہلا تیر پھینکا
اور پھر ہر طرف سے
امام حسین علیہ السلام کے لشکر پر تیر برسانے شروع کر دیے تھے
کافی دیر تک
دونوں لشکروں میں جنگ ہوتی رہی
اس اجتماعی حملے میں
امام حسین علیہ السلام کے آدھے اصحاب جام شہادت نوش کر چکے تھے
اجتماعی حملے کے بعد
جنگ کا رخ ‌بدل گیا
اس کے بعد
دو، یا تین، یاچارافراد مل کر میدان جنگ میں آتے
اور
شجاعت کے ساتھ جنگ کرتے کرتے شہادت سے سرفراز ہوجاتے
اور
کبھی
فقط ایک ہی فرد
میدانِ جنگ میں آتا
دشمن کے ہزاروں فوجیوں پر حملہ کر دیتا
لیکن
ہر کوئی میدانِ جنگ میں جانے سے پہلے
امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ضرور ہوتا
اور
میدانِ جنگ میں جانے کی اجازت لے کر دشمن پر حملہ کرتا
یوں
جنگ کے پہلے حصے میں
جو اصحاب باوفا شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے
ان میں
نعیم بن عجلان ، عمران بن کعب بن حارث اشجعی ، قاسط بن زہیر
کنانہ بن عتیق ، عمرو بن مشیعہ ، ضرغامہ بن مالک
عامر بن مسلم ، سیف بن مالک نمیری ، عبدالرحمن ارحبی
مجمع عائذی ، حباب بن حارث ، عمرو جندعی
حلاس بن عمروراسبی ، سوار بن ابی عمیرفہمی عماربن ابی سلامہ دالانی
نعمان بن عمرو راسبی ،ابن الحمق کا غلام زاہر بن عمرو ،جبلہ بن علی
مسعود بن حجاج ،عبداللہ بن عروہ غفاری ، زہیر بن بشر خثعمی ،عمار بن حسان
عبداللہ بن عمیر ،مسلم بن کثیر، زہیر بن سلیم ،عبداللہ بن زید بصری
اور ۔۔۔
عبیداللہ بن زید بصری جیسے جید اصحاب تھے
ان کے علاوہ
امام حسین علیہ السلام کے دس غلام
حضرت علی علیہ السلام کے دو غلام
پہلے حملے میں شہید ہوچکے تھے
جن میں
جناب عبد اللہ بن عمیر
جناب حر بن یزید تمینی اریاحی
جناب وہب بن عبد اللہ بن حباب کلبی
جناب جون بن حئی
جناب بریر بن خضیر ہمدانی
جناب عمرو بن خالد ازدی اسدی صیداوی
جناب سعد(سعید) بن حنظلہ تمیمی
جناب مسلم بن عوسجہ کی شہادت ,صحابہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 
جناب حبیب ابن مظاہر, صحابہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور علی علیہ السلام 
جناب انس بن حارث کاہلی ,‌صحابہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 
جناب جابر بن عروہ غفاری ,‌صحابہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
جناب عبد اللہ مذحجی جیسے جید اصحاب شامل تھے ‌
جب
باوجود درخواست
کہ
لشکر یزید نے
نماز ظہرکے لیے جنگ بندی نہ کی
تو
حضرت امام حسین علیہ السلام نے
نماز خوف
پڑھانے کی ہدایت فرمائی

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY