ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے !قسط نمبر 50

1
1706

ہائے ۔۔ درد ہے کہ تنہائی ۔۔ جیتی ہوں کہ نہیں ۔۔ اندھیرے سے پھوٹتی روشنی ہے کہ روشنیوں میں کالے دھبے ۔۔ بہت کچھ پوچھنا تھا ۔۔بس لفظ ساتھ نہیں تھے ۔
یوں جیسے صبح کے چھ اب کبھی نہیں بجیں گے۔۔۔ انتظار بھی تھکنے لگا تھا ۔۔آنکھیں موندھے بے بس میری ہی طرح پڑا تھا۔
پھر یوں ہوا صبح کے چھ بج ہی گئے ۔۔دوا کا وقت ہو چلا تھا ۔۔ پیشاب کی نالی بھی نکالنی تھی ۔

نرس میرے سرہانے کھڑی مجھے بتا رہی تھی ۔۔کہ پیشاب کی نالی نکالنے کے بعد چھ سے سات گھنٹے بہت اہم ہیں ۔۔ پانی پینا ہے ۔ ۔۔ٹوائلٹ جانے سے پہلے گھنٹی بجا کر ہمیں اطلاع کیجئے گا تاکہ آپ کوواش روم لے جانے میں مدد کر سکیں اور آپ کو تکلیف نہ ہو ۔ ہم نے ٹوائلٹ کمبورڈ میں ایک

Urine Collector Pan

لگا دیا ہے ۔ اسی میں پیشاب کرنا ہے ۔۔ اس کے فورا بعد ہم

Bladder Scan

کریں گے ۔ اگر آپ کے مثانے میں پانچ سو سی سی سے زیادہ پیشاب ہوا تو دوبارہ پیشاب کی نالی

(Urine Catheter)

لگانی پڑے گی ۔۔۔ آج ہم آپ کو خون پتلا کرنے والاانجیکشن

(Clexane)

لگانا بھی سیکھائیں گے جو بالکل ایسے لگاتے ہیں جیسے انسولین کا انجیکشن لگاتے ہیں۔۔فارمیسسٹ کی موجودگی میں آپ کو سکھایا جائے گا۔۔۔ اور ہاں آپ کو نہانا بھی ہے ۔۔ایک نرس آپ کی مدد کرے گی ۔۔۔مجھے لگا جیسے میں نے ابھی ابھی دنیا میں قدم رکھا ہو ۔۔ہر بات نئی سی تھی ۔۔یا پھر مجھے ہی ایسا لگ رہاتھا۔

نرس میرا بلڈ پریشر لے چکی تھی جو کہ کم تھا ۔۔نبضیں میری سوچو کی طرح آگے پیچھے دوڑ رہی تھیں ۔۔اور آکسیجن کا لیول بھی اتنا مطمعن نہیں تھا کہ وہ آکسیجن ہٹاتی ۔۔ نرس نے مجھے پانی پینے کی ہدایت کے ساتھ ہی میرا یورین کیتھیٹر نکال دیا ۔۔ ایک تکلیف ۔۔ ایک درد کے بعد یگونہ سکون ہو رہا تھا ۔۔ آپ کروٹ لے سکتی ہیں ۔۔ نرس نے شاید میرے اگلے سوال کو بھانپ لیا تھا اور کروٹ لینے میں میری مدد کی ۔۔ میں نے شکریہ کہہ کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔ پیشاب کا ہونا ۔۔خود ہی انجیکشن لگانا اور نہانا ۔۔ گویا آج کادن بھی آزمائش سے گزرنے جیسا ہوگا ۔۔ میں خود ہی مسکرا دی ۔۔ میرے سامنے کئی مریض آگئےجنہیں ہم یہ سب کرنے کو کہتے تھے اور آج میں سن رہی تھی ۔۔

میں ہی تو کہتی تھی کہ کوئی بھی رشتہ ہو دوسرے کی رائے کو سنیں اور انہیں سمجھیں ۔۔ رشتوں میں سننا اور اسے گہرائی سے سمجھنا بہت ضروری ہے کہ دوسرا شخص کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ جتنا زیادہ ہم دوسرے شخص کے دل کی آواز کو سنیں گے، اتنا ہی زیادہ ہم اس تک اپنی بات پہنچا سکیں گے اور یوں باہمی افہام و تفہیم سے مسائل سلجھ سکتے ہیں۔ پر ایسا ہوتا بہت کم تھا برتری کا جنون ہم انسانوں کو زمین بوس کر رہا تھا ۔۔ بس ہر طرف شور سا تھا اور کوئی کسی سے کچھ کہہ ہی نہیں پاتا۔۔آج مجھے سننا تھا ۔۔ڈاکٹر کو ۔۔نرسوں کو ۔۔ اور گھر والوں کو ۔۔۔زندگی کتنی سنگدل ہے ۔۔دیکھو تو کتنی جلدی میرا رول بدل دیا تھا ۔ میں نے خود سے کہا ڈاکٹر نگہت نسیم تمہارا اصل امتحان شروع ہو چکا ہے ۔۔ پر تمہیں یہ جنگ جیتنی ہے چاہے کتنی بھی طویل اور مشکل ہو ۔۔تمہیں مثال بننا ہے ۔۔ کوئی بھی پل ہو بس عاجز ی اور انکساری سے رہنا ہے ۔ سب کی بے لوث خدمت مجھ پر ان کا احسان اور اللہ پاک کا انعام ہے ۔۔ مجھے کسی بھی حال میں اپنی آواز کو ان کی آواز سے اونچا نہیں ہونے دینا۔۔جانتے ہوئے بھی تمام ہدایات کو ازبر کرنا ہے۔

جنت مکانی امی جی کہتی تھی کہ اپنا نقطہ نظر سمجھاتے وقت کبھی فیصلہ کن نہ بننا ۔ ایک ہی بات کئی طریقوں سے کی جاسکتی ہے ۔۔ کیونکہ جو الفاظ ایک بار بولے گئے وہ واپس نہیں آتے اور دوسروں کو بھی کبھی نہیں بھولتے ۔۔ فیصلہ کن بننے سے عاجزی اور انکساری کے ختم ہونےکا اندیشہ رہتا ہے اور جو یہ وصف نہ رہے تو تم دوسروں کی عزت نفس کاخیال کیسے رکھ سکو گی ۔ مجھے یوں لگا جیسے امی جی میرے سرہانے بیٹھی مجھے سمجھا رہی ہوں ۔۔ بیٹی دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھنے سے تمہیں حالات اور لوگوں کو جیسے ہیں ویسے ہی قبول کرنے میں مدد ملے گی ۔۔۔

میں سوچ رہی تھی کہ کیا حالات کی بھی عزت نفس ہوتی ہے ۔۔؟

ہوتی ہے شاید ۔۔ حالات جیسے بھی ہوں اسے قبول نہ کرنا بھی تو اس کو عزت نہ کرنے جیسا ہی ہے ۔۔۔ مجھے ایسا نہیں کرنا ۔۔ مجھے اس تکلیف میں سے گزرنا ہے اور وہ سبق سیکھنا ہے جو ابھی تک سیکھ نہ پائی تھی ۔ مجھے لگا جیسے اللہ پاک نے مجھے کینسر دے کر ایک جگہ بٹھانا چاہا تھا ۔۔ بھاگتی دوڑتی زندگی تھکنے جولگی تھی اسے آرام چاہیئے تھا اور وہی نہ مل رہا تھا ۔ قدرت کا اپنا انتظام ہے ۔ کسے کب کہاں رکھنا ہے اسی کا فیصلہ ہے ۔۔ اور مجھے اس کا احترام اس لیئے نہیں کرنا تھا کہ مجھ پر لاگو ہوگیا تھا بلکہ اس لیئے کرنا تھا کہ وقت رحمتوں کی طرح مجھ پر تان دیا گیا تھا ۔ میں سوچ رہی تھی آخری بار کب میں نے اتنی بہادری اور صبر سے زندگی کوجیا تھا ۔ ۔۔کب میں نے سوچا تھا کہ تھک کر کہیں گرنا بھی تھا ۔۔ کب میں نے خود سے ملاقات کی تھی ۔۔کب میں نے سوچا تھا کہ میں بھی دوسروں کی دعاؤں میں تھی ۔۔۔ میری آنکھیں بھیگ رہیں تھیں ۔ ۔۔ محبتوں کے قرض کندھے نہیں جھکاتے بلکہ ان کو نئی اٹھان دیتے ہیں اور پرواز کونئے پر مل جاتے ہیں۔

گڈ مارننگ ڈاکٹر نسیم ۔۔۔ کسی نے میرے کندھے کو محبت سے چھوا تھا ۔۔ میں نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں ۔۔ سامنے ڈاکٹر برلنگ کھڑے تھے ۔
سوری ٹوڈسٹرب ۔۔ وہ مسکرا رہے تھے ۔۔ پھر کرسی گھسیٹ کر میرے سامنے ہی بیٹھ گئے
میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا

ڈاکٹر برلنگ اتنے شفیق تھے یوں جیسے انہیں دنیاکی تھوڑی سی بھی تو ہوا نہ لگی ہو ۔۔ وہ کہہ رہے تھے انہیں آپریشن کرنے میں میں زرا بھی تکلیف نہیں ہوئی بلکہ میرا اندر اتنا صاف ستھرا تھا جیسے پہلے کوئی بھی آپریشن نہ ہوا ہو ۔۔ تم تو کہہ رہی تھیں کہ تمہارے تینوں بچے سی سیکشن سے ہوئے تھے ۔۔ یوٹرس تو اتنی خوبصورتی سے ٹشوزمیں ٹکا ہو اتھا کہ جیسے تم نے اس کے لئےکوئی آپریشن کروایا ہو۔
اوہ نو ۔۔ مائیکل ۔۔ میں مسکرا دی
سب کچھ لیبارٹری میں بائیوپسی کے لیئے جا چکا ہے ۔۔۔ دو ہفتوں میں اس کے رپورٹ آئے گی ۔۔ پھر دیکھیں گے کہ اب کونسا پل پار کرنا ہے ۔۔ کیمو تھراپی یا ریڈیو تھراپی ۔۔ لیکن میں اس وقت تک اس کے بارے میں نہیں سوچوں گا جب تک وہاں پہنچ نہ جاؤں ۔۔ تم بھی نہ سوچنا ۔۔ اور جو کوئی مشکل سامنے آ بھی گئی تو میں خود تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں اس دروازے پر چھوڑکر آونگا جہاں سے تم بلکل اچھی ہو کر واپس آؤگی ۔ میں ایکبار پھر تم سے کہنا چاہتا ہوں کہ میرے پاس تمہارے ہر سوال کا جواب ہے ۔۔ لیکن سوال اس وقت کرنا جب اس کی ضرورت ہو ۔
وہ کہہ رہے تھے ۔۔
آج کا دن یہ کوشش کرنی ہے کہ خوب پانی پیئو ۔۔ پیشاب کرو ۔۔ بلیڈر سکین نارمل ہو تاکہ پیشاب کی نالی نہ لگانی پڑے ۔۔ اور خون پتلا رکھنے والے انجیکشن

( Clexane)

پورے تین ہفتے تک لگانے ہیں ۔ تھوڑی تکلیف دینے والے ہیں لیکن فارمسسٹ تمہیں تیکنیک سمجھا دے گی ۔۔۔ اور ہاں قبض بھی نہیں ہونی چاہیئے اس کے لیئے تمہیں مووی کول صبح شام کے لئے دی ہے ۔۔اسے گھر میں بھی لینا مت بھولنا ۔ تمہارا بہت بڑا آپریشن ہوا ہے ۔۔ جسے کرنا میرے لئے تو آسان تھا لیکن تمہارے لئے نہیں ہے ۔۔تمہارا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے ۔ ۔۔ تمہیں اپنے لائف اسٹائل میں بہت ساری تبدیلیاں لانی ہونگی ۔۔ بس جسمانی اور زہنی صحت مند رہنا ہے ۔ ۔۔ ڈاکٹر مائیکل برلنگ تفسیل بتاتے جا رہے تھے اور میں اثبات میں سر ہلا رہی تھی ۔
تمہیں چھ ہفتے تک کوئی ویٹ لفٹ نہیں کرنا ۔۔ نہ ہی ڈرائیونگ اور نہ ہی کوئی ہوسپٹل کی ڈیوٹی ۔۔ یاد ہے ناں پہلے بھی بتایا تھا۔
جی جی ۔۔۔ میں مسکرادی
کوئی سوال ۔۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا
نہیں ۔۔ میں نے خود اعتمادی سے کہا ۔۔ کیونکہ سوال پوچھنے کا وقت ہی کب ہوا تھا
ڈاکٹر مائیکل برلنگ صبح سات بج کر پینتیس منٹ پر کمرے میں آئے تھے اور صرف دس منٹ میں نئی زندگی کے کئی مراحل بتا کر کمرے سے جا چکے تھے ۔

 

ناشتہ کمرے میں آچکا تھا ۔۔ ساتھ ہی ایک نرس بھی آگئی ۔۔اس نے مجھے بیٹھنے میں مدد کی ۔۔ ٹیبل میرے سامنے رکھتے ہوئے تقریبا وہی ساری باتیں دھرائیں جو میں صبح سے سن رہی تھی ۔۔ اس نے مجھے کہا کہ ۔۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. اللہ پاک بہت مہربان اور پیار کرنے والا ہے۔ یہ سخت دن بھی اسکے کرم سے جلد گزر جائیں گے۔ انشاءاللہ

LEAVE A REPLY