پانچ جولائی 1977 کا سیاہ دن جو ایک ہیبت ناک رات بن کر ابھی تک چھایا ہوا ھے،رد انقلاب کادن ھے۔ سامراج اور اس کے مقامی ملافوجی اتحادی پٹھوؤں نے عالمی سازش سے ایک روشن خیال ترقی پسند پاکستان پرست سوشلسٹ عوامی حکومت کو معزول کرکے مارشل لا لگادیا جس کے نتیجہ میں افغان جہاد کا راستہ آسان ہوا سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو ان کی ملیں اور جاگیریں واپس مل گئیں تیسری دنیا کے اتحاد اور مسلم ممالک کے مجوزہ بلاک کا خواب منتشر ہوگیا
ایک عظیم قائد اور منفرد مدبر کو پھانسی دے کر عالمی سامراج اور اس کے مقامی گماشتوں کے عزائم و مفادات کو تحفظ دے دیاگیا۔
قائدعوام کو رات دوبجے جنرل ضیا یزید نے فون کرکے مارشل لا نافذ کرنے کی اطلاع دی تو اس وقت وہ ایوان وزیراعظم کے لان میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔۔بھٹو صاحب نے آسمان کی طرف دیکھا اور بیساختہ کہا
“So the CIA succeeds”
آخرکار سی آئی اے کامیاب ہوگئ
شہید بھٹو کہ یہ الفاظ اس عالمی سازش کے پس منظر اور پیش منظر پر مرتب ہونے والی تاریخ کا سرنامہ ہیں۔
پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے فقیدالمثال لیڈرجناب ذوالفقار علی بھٹوشہید اور ان ھزاروں پرستاروں کو سلام جو ظالموں سے جنگ کرتے ہوۓ جاں سے گزر گۓ یا قیدوبند اور ہولناک ذہنی و جسمانی تشدد سے دوچار ہوۓ۔
جنرل ضیا یزید اور اس کی باقیات پر لعنت تا قیامت
سید رضا مہدی باقری
بانی کارکن 1967 سے ہنوز
پاکستان پیپلز پارٹی













