میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں، علی شاذف

0
680

موجودہ سرمایہ دار دنیا مقابلے کی دنیا ہے. اس میں لوگوں کو خود سے زیادہ دوسروں کے نجی معاملات میں دلچسپی ہوتی ہے کہ کب انہیں کسی کی کوئی کمزوری ملے اور وہ اخلاقی اور معاشرتی طور پر ان سے بلند ہو جائیں. یہی وجہ ہے کہ دوسروں کے نجی معاملات کا احاطہ کرتی ہوئی تحاریر کو شہرت ملتی ہے. مقبول شخصیات کی ذاتیات کو عام لوگوں کی ملکیت یا پبلک پراپرٹی سمجھا جاتا ہے. اس کی مثال حال ہی میں سماجی میڈیا پر وائرل ہونے والا جون ایلیا مرحوم کی دختر کا وہ خط ہے جس میں انہوں نے اپنے والد کی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے. اس وقت یہ عالم ہے کہ پاک و ہند کا ہر شخص چھری لے کر جون ایلیا کے بعدازمرگ قتل کے درپے ہے.

مجھے میرے خاندان کے ایک فرد نے وہ خط بھیج کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ آپ بھی تقریباً جون ایلیا ہی ہیں. اس کا جواب میں نے اگلے ہی دن دیا کہ میں جون صاحب کی خاک پا بھی نہیں ہوں.

پچھلے کچھ روز سے میں اپنے خاندان کی علم و ادب، فنون لطیفہ اور کھیل کود وغیرہ سے بے نیازی اور چائلڈ لیبر (بچوں کی مزدوری) اور چائلڈ ابیوز (بچوں سے بدسلوکی) میں ان کے ملوث ہونے کے بارے میں سماجی میڈیا پر لکھ رہا ہوں. اس پر میرے گھر میں میرے خلاف میرے اہل خانہ کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے. اس کی وجہ ان کو موصول ہونے والی وہ بےشمار فون کالز ہیں جن میں پوچھا جا رہا ہے کہ آخر آپ کے گھر میں چل کیا رہا ہے؟ یہ کالم میں اس ردعمل کے جواب میں لکھ رہا ہوں.

مجھے کہا گیا ہے کہ میں اپنے کالموں میں دوسروں پر بہتان زنی کرتا ہوں اور اکثر جھوٹ ہی لکھتا ہوں. یہ سب کر کے میں اپنی اخلاقی پستی کا ثبوت دیتا ہوں. اگر میں اتنا ہی سچا ہوں تو اپنی ذات کے بارے میں سچ کیوں نہیں لکھتا؟ میں آج کے کالم میں اپنے بارے میں سچ لکھوں گا.

میں یہ ضرور لکھوں گا کہ ایف ایس سی پری میڈیکل کی تیاری کے دوران میں نے اپنے والدین بالخصوص اپنی والدہ کے ساتھ جارحانہ رویہ اپنایا، ان پر بےانتہا چیخا، اپنے بہن بھائیوں کو شدید خوفزدہ کیا اور انہیں ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا. گھر کے پالتو جانوروں کو مارا پیٹا اور ان معصوموں پر اپنے خود پر مسلط کردہ امتحانات کے ذہنی دباؤ کا غصہ نکالا.

میں یہ ضرور لکھوں گا کہ میں نے اپنی نوجوانی میں کم سے کم تین معصوم لڑکیوں سے ان کے لڑکپن میں محبت کا ڈھونگ رچایا، ان کے ساتھ بےسبب بےوفائی کی اور ان کا دل دکھایا.

میں یہ بھی لکھوں گا کہ میں نے اپنے چھوٹے بھائی پر معمولی باتوں پر جسمانی اور جذباتی تشدد کیا اور اس کا تعلیمی کیریر خراب کرنے میں اپنا کردار ادا کیا. وہ مجھ سے کہیں بڑھ کر ذہین ہونے کے باوجود میری وجہ سے عملی زندگی میں پیچھے رہ گیا.

میں نے ہمیشہ اپنی بہنوں خاص طور پر صباحت پر قدم قدم پر دھونس جمائی. وہ وکیل بننا چاہتی تھی اور میں اس کے راستے کی رکاوٹ بنا رہا.

میں لکھ رہا ہوں کہ میں نے اپنے عظیم والد کے ساتھ لوگوں کے سامنے ان کے دفتر اور گھر میں متعدد بار بدتمیزی کی اور وہ میری جارحیت کے سامنے ہمیشہ خاموش رہے.

میں نے شادی کے بعد اپنی اہل سنت بیوی اور بچوں کو کئی سال تک شیعہ مذہب کی طرف راغب کرنے کی شعوری اور غیرشعوری کوشش کی. میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں کئی بار اپنی بیوی اور بیٹے فوزان پر چیخا، چلایا اور انہیں گالیاں دیں. میں مانتا ہوں کہ میں اپنے سسرال سے ان کے سخت مذہبی ہونے کی وجہ سے متنفر رہا، ہمیشہ انہیں ناپسند کرتا رہا اور بیباکی سے اس کا اظہار اپنی بیوی سے کرتا رہا.

میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں معاشرے میں رائج ہر نوعیت کی روایات سے باغی ہو گیا جس کی وجہ سے میری بیوی مجھ سے نکاح توڑنے پر مجبور ہوئی اور مجھے اس سے معافی مانگ کر تجدید نکاح کرنا پڑا. میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں پچھلے تین سال سے اپنی بیوی کو کسی بھی طرح کے حقوق دینے میں ناکام رہا ہوں.

میں مانتا ہوں کہ میں نے تین سال پہلے زندگی میں چوتھی مرتبہ ایک جواں سال لڑکی کے ساتھ محبت کی اور پھر اس کے ساتھ بےوفائی کی.

اس کے علاوہ بھی میں نے بہت کچھ کیا ہو گا جو میں بھول گیا ہوں. میں اپنے دوستوں اور اہل خانہ سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ مستقبل میں انہیں نہیں دہراؤں گا. لیکن میں ان کے لیے وہی کچھ کر سکوں گا جو میرے بس میں ہو گا. میں جون ایلیا ہرگز نہیں ہوں کیونکہ جون کو ان کی بیوی اور ان کے بچوں نے ان کی بدسلوکی کا بہانہ بنا کر چھوڑ دیا تھا اور وہ ان سے نفرت کرنے لگے تھے. اس کے برعکس آپ سب مجھ سے میری شخصیت کی بےشمار کمزوریوں کے باوجود بےانتہا محبت کر رہے ہیں اور تاحال مجھے برداشت کر رہے ہیں.

علی شاذف

SHARE

LEAVE A REPLY