ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 60 اور آخری قسط

4
1942

قسط نمبر 60 اور آخری قسط

ڈاکٹر نسیم ۔۔۔ آسمانی نیلے اسکرب میں ملبوس ، چشمہ اور ماسک پہنے ایک نازک سے لڑکی نے میرا نام پکارا ۔۔ میرا دل بہت تیزی سے دھڑکا ۔۔ ایک پل کو خیال آیا جانے اب کیا ہو ۔۔ میں اپنی کرسی سے کھڑی ہوگئی اور کسی معمول کی طرح اس کے پیچھے چل پڑی ۔۔میرے پیچھے پیچھے آفتاب اور آمنہ بھی تھے ۔ ہم کمرے میں اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے ۔ ڈاکٹر نے اپنا تعارف کروایا وہ ایڈوانس ٹرینی ڈاکٹر گائیتری تھیں ۔۔۔ اور ڈاکٹر برلنگ کے ساتھ کام کرتی تھیں ۔۔۔وہ بتا رہی تھیں کہ ڈاکٹر برلنگ بھی ہمیں کچھ دیر میں جوائن کریں گے ۔۔۔پھر وہ کچھ دیر کے لئے ہم تینوں کو کمرے میں بٹھا کر ڈاکٹر برلنگ کو بلانے چلی گئیں ۔

میں سوچ رہی تھی جب چھپکلی کی دم کٹ جاتی ہے تو تب بھی وہ زندہ رہتی ہے اور اپنے یقین سے اپنی دم کو واپس لے آتی ہے اور پھر سے بھرپور زندگی جینے لگتی ہے ۔۔ سٹار فش کا بھی اگر ایک ہاتھ کٹ جائے تو وہ پانیوں پر تیرتی رہتی ہے اور اپنے ہاتھ کو واپس لے آتی ہے ۔۔ انسان جو ایک سیل سے بنا ہے ۔۔ وہ کیوں ڈھ جاتا ہے ۔۔ خود کو نئی زندگی کے سانچے میں کیوں نہیں ڈھالتا؟ ۔مجھے یقین ہے کہ میں خود کو دوبارہ جوڑ لونگی ۔۔ نارمل خلیوں سے نئے بدن کی تعمیر کرونگی اور یہ طاقت میرے خدا نے پہلے دن سے ہم انسانوں کو ودیعت کی تھی ۔۔۔قدرت میں ساری نشانیاں ہیں۔

گڈ آفٹرنون ایوری ون ۔۔ ڈاکٹر مائیکل برلنگ کی مشفق اور پرجوش آواز سے چھوٹا سا کمرہ روشن ہو گیا ۔۔

بہترین خبر

(Excellent news )

ہے تمہارے لئے ۔۔۔ ڈاکٹر برلنگ مجھے محبت سے دیکھ رہے تھے ۔۔ان کی آنکھوں میں جنگ جیتنے جیسی خوشی تھی ۔۔ایک ایسی چمک اور پیار تھا جو بحثیت ڈاکٹر کے میں ہی سمجھ سکتی تھی ۔۔بس یہ ایک ایسا رابطہ ہوتا ہے جو صرف مریض اور معالج کے درمیان ہوتا ہے ۔۔ ان کی خوشی میرے دل کو اور بھی دھڑکا رہی تھی لیکن یہ کیفیت وہ نہ تھی جوکمرے میں داخل ہوتے وقت تھی ۔۔کچھ اور تھا جسے میں بھی سمجھ نہ پا رہی تھی۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے ۔۔

پہلی خوش خبری ۔۔۔ کینسر اسٹیج ٹو یعنی گریڈ ٹو کا نہیں بلکہ گریڈ ون کا تھا اور اس کی لائینگ صرف ایک ملی میٹر تھی ۔۔ اور تمہیں مزید کسی علاج کی ضرورت نہیں ہے ۔
It was stage 1 cancer, a. There’s no further treatment needed. The cancer was only 1mm into the lining. Best news ever
میں سن کر حیران رہ گئی ۔۔میڈیکل کی دنیا میں بھلا کتنی بار ایسا ہوا ہو گا ۔۔کم از کم میں نے اپنی پریکٹس میں کبھی نہیں دیکھا تھا کہ گریڈ ٹو کا کینسر گریڈ ون کا ہو گیا ہو ۔۔ اور یہ خدشہ کہ لمف نوڈ تک چلا گیا ہوگا وہاں تک تو کیا یوٹرس کے اندر تک بھی نہیں پہنچا تھا ۔۔ اسی کو تو معجزہ کہتے ہیں ۔۔ ڈاکڑ برلنگ بھی یہی کہہ رہے تھے تمہارے ساتھ معجزہ ہوا ہے کہ یوٹرائن کینسر گریڈ ٹو سے ون اے کا ہو گیا ہے ۔ یہ دعاؤں اور یقین کا اعجاز تھا ۔۔میں اشکبار تھی ۔۔۔روم روم شکر کی تصویر ہو رہا تھا۔

دوسری خوشخبری ۔۔۔ بیضہ دانی ، فیلوپین ٹیوبز سب کچھ نارمل ہے
Ovaries looked good. Tubes looked normal

تیسری خوشخبری ۔۔ ڈاکٹرز کی ٹیم کی رائے کے مطابق تمہیں کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی کی ضرورت نہیں ہے
No need for radiation or chemo

چوتھی خوشخبری ۔۔ کینسر کے دوبارہ ہونے کے چانسزز بہت کم ہیں
The chances of this reoccurring is very minimal

ڈاکٹر مائیکل برلنگ مجھے دیکھ رہے تھے ۔۔۔ ہم دونوں کی آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی ۔۔ میری آنکھوں میں تشکر کے آنسو بھی تھے ۔۔ ڈاکٹر گائیتری نے ٹشو باکس مسکراتے ہوئے میرے طرف بڑھایا۔
تھینک یو سو مچ مائیکل ۔۔ میں نے بے اختیار ان کے ہاتھ تھام لیئے ۔۔ یوں جیسے کمرے میں صرف میں اور وہ رہ گئے ہوں ۔۔ مریض اور معالج ۔۔اور اس ایک لمحے میں کوئی اور نہیں تھا۔
تھینک یو تمہارا کہ تم نے اپنا سفر خود لکھا ۔۔ سچ پوچھو تو تم نے ہمیں کامیاب بنایا ہے ۔۔۔۔نہ تم اپنے مرض پر توجہ کرتیں نہ ہم یہ خبر سنا پاتے ۔
فالو اپ کے لئے پہلے دو سال میں تمہیں ہر چھ ماہ بعد آنا ہو گا ۔۔اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو پھر ہر پانچ سال بعد چیک اپ کروانا ہوگا۔ تم مجھے لیورپول ہوسپٹل میں بھی دکھا سکتی ہو اور ویسٹ میڈ میں بھی ۔۔جیسے تمہیں سہولت ہو ۔۔ باقی تمہیں معلوم ہی ہے کہ کیا کیا احتیاط کرنی ہے ۔
جی ۔۔ میں نے یقین سے کہا
اور ۔۔
تم جانتی ہو کہ یوٹرائن کینسر میں موروثیت اور جین میوٹیشن کے چانسزز زیادہ ہوتے ہیں جس سے جسم میں کسی اور اعضاء کا کینسر ہو سکتا ہے اور پھر یہ جین فیملی میں بھی جا سکتی ہے ۔ اس لئے ڈاکٹر گائیتری نے تمہیں لیورپول ہسپتال میں

Clinical geneticist Dr Emilia

کو ریفر کر دیا ہے ۔۔ ان کی طرف سے کوئی جلد تم سے رابطہ کرے گا ۔ اگر فرض کرو کوئی ایسی جین نکل آتی ہے جس سے تمہیں کسی اور کینسر کا چانس ہو سکتا ہو گا تو ہم اس کے مطابق تمہارے ہر سال ٹیسٹ کرواتے رہیں گے اور یوں تم اور تمہاری فیملی ہر تکلیف سے محفوظ رہیں گے ۔
کوئی سوال ۔۔۔ ڈاکٹر مائیکل برلنگ بڑی محبت سے ہم تینوں سے باری باری پوچھ رہے تھے ۔۔۔ اور ہماری کیفیت ایسی تھی جیسے کسی خزانے کا پتہ مل گیا ۔۔ بھلا زندگی اور صحت سے بڑا خزانہ کیا ہو سکتا تھا۔

ہوسپٹل جاتے ہوئے اور واپس آتے ہوئے کیفیت کا بدلاؤ ہمیں ہواؤں میں اڑا رہا تھا ۔۔ میرا خدا میری شہہ رگ سے بھی قریب تر پہلے بھی تھا لیکن اب پُختہ یقین ہو گیا تھا ۔
فون بج اٹھے تھے ۔۔ شکر اور شکریے کے تحائف بٹ رہے تھے ۔۔شکرانے کے نوافل اور شمعیں روشن ہو رہیں تھیں ۔۔۔
آفتاب ، بچے ، ایس ایچ (جناب صفدر ہمدانی ) اور روینہ کا اصرار تھا کہ مجھے اپنے کینسر کے سفر پر کتاب لکھنی چاہیئے ۔۔ یہ آگاہی اور آگہی پر منفرد کتاب ہو گی ۔

یہ آگاہی اور آگہی کی منفرد کتاب ہو گی ۔

میراشمار ان خوش نصیبوں میں ہوتا ہے جنہیں اللہ پاک نے ہمیشہ اپنی عنایتوں اور مہربانیوں کے سائے میں رکھا اور ایسے لوگوں میں رکھا جنہیں مجھ سے محبت ہے ۔۔ وہ جہاں کہیں ہوں دن رات دعاؤں میں اپنی محبت بھیجتے رہتے ہیں ۔۔ جس کا احساس مجھے اس وقت ہوتا ہے جب میرا رب مجھے کسی مشکل ترین مرحلے سے ایسے نکال لاتا ہے جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو ۔۔ میری زندگی ایسے لاتعداد واقعات سے بھری پڑی تھی جب میں نے اپنے رب کو اپنی شہ رگ سے بھی قریب پایا ۔۔۔آج بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔۔ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو سب کچھ خواب جیسا ہو رہا تھا۔

میں سوچ رہی تھی ۔۔ میرا کینسر کا سفر بابرکت لمحوں جیسا تھا ۔۔جس نے محبتوں کے کئی در کھولے تھے
مجھے معلوم ہوا کہ ہم خود ہی اپنے جال میں پھنستے ہیں۔۔کوئی اور نہیں ہمارے لئے جال بناتا ۔۔۔ ہم خود ہی اپنا سفر ہیں
ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔۔۔ ہم صرف اپنی مدد کر سکتے ہیں۔۔۔ اور صرف ہم ہی اپنی قبر میں گر سکتے ہیں۔

بدلنا ہی جیون ہے ۔۔ بدلنا ہی زندگی ہے ۔۔بدلنے کو جوانی کہتے ہیں۔۔ہمیشہ جوان رہنے کے لئے خود کو بدلتے رہنا یعنی سیکھتے رہنا شرط ہے۔ ہم سے زیادہ جانوروں کو د کھائی دیتا ہے جیسے بلی کو اندھیرے میں بھی نظر آتا ہے ۔۔جانور ہم سے زیادہ سنتے ہیں جیسے کتا ۔۔جبکہ شعور میں ہم ان سے بہت آگے ہیں پھر بھی کیوں ہم اندھیروں میں نہیں دیکھ سکتے ۔۔ کیوں خطرات کو نہیں جان پاتے ۔۔۔ ملاوٹ زدہ شعور انسانی نہیں ہو سکتا۔۔ مجھے اس خواب کو پانا ہے ۔۔اس شعور تک پہنچنا ہے ۔۔ جو میرا حق ہے ۔۔جو میری حقیقیت ہے ۔

خواب !

میں جانتی ہوں‌
میری محبت
مجھے ۔۔۔ ایک روز
ایسے جزیرے پر لے جائے گی
جہاں
غمی اور خوشی کے وقفوں میں
خواب زندہ رہتے ہیں
خواب
جو نہ خود مرتے ہیں
اور
نہ ہی مرنے دیتے ہیں
( ڈاکٹر نگہت نسیم)

دور حاضر کے عظیم روحانی فلاسفر

Pyramid Subhash Patriji, a meditation master

کہتے ہیں دکھ اور روگ سے دور رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے دو روٹی کمائیں ۔۔ایک کھائیں ایک دوسرے کو دیں اور دھیان (میڈیٹیشن ) میں بیٹھیں ۔ ۔۔ بیکار باتیں نہیں کریں گے تو بیکار سوچیں ختم ہو جائیں گی ۔ میڈیٹیشن کریں تاکہ آج کی بیماریاں ختم ہو جائیں اور آنے والے دکھ کبھی نہ آئیں ۔ پھر انہوں نے

Cause and effect

کی تھیوری سمجھائی کیونکہ اسی میں روحانی سکون پوشیدہ تھا ۔۔ کچھ کریں گے تو کچھ پائیں گے ۔ دھیان کئے بغیر کیسے بھلا من کا سکھ کیسے پائیں گے ۔ ہمیں سکھ سکون ہی سے جینا چاہیے تبھی روگ اور دکھوں سے دور رہ پائیں گے ۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ہر روح کی خواہش ہوتی ہے کہ مرتے وقت وہ اپنے نام بڑے بڑے کام کر کے جائے ۔۔آپ جتنا زیادہ دھیان کریں گے اتنی ہی زیادہ اچھے اور بہتر کام کرنے کی طاقت پائیں گے۔ دھیان عمر کے حساب سے ہونا چاہیئے ۔۔ یعنی جتنی عمر ہے اتنے ہی منٹ روزانہ میڈیٹیشن لازمی کرنی چاہیئے ۔۔ اور پانچ سال کی عمر سے میڈیٹیشن شروع کر دینی چایئے۔ وہ اکثر کہتے سانسوں کے ساتھ دوستی کریں پھر محبت کیجئے ۔۔ آپ انسان سے بھاگیوان ہو جائیں گے۔

میں جان چکی تھی سچ کے بہت سارے پہلو ہوتے ہیں ۔۔ سچ پر کسی کا کوئی کاپی رائٹ نہیں ہے ۔۔ جو سچ کہے اسے لے لو اور اپنی زندگی کو سنوار لو ۔۔ خوشیوں اور سکھ کو پھیلا دو ۔
اگر میں اپنی جسم کی زبان نہ سمجھتی ۔۔ نہ ڈاکٹر کے پاس جاتی ۔۔نہ سارے ٹیسٹ کرواتی ۔۔نہ آپریشن ہوتا ۔۔نہ زندہ ہوتی ۔۔۔ نہ یہ سب کچھ لکھ پاتی
خود کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے ۔۔ سکھ دکھ کے ہر موسم میں باخبر رہنا ہے
ہمارا جسم ہماری روح کا گھر ہے ۔۔اس کی حفاظت ہماری ہی زمہ داری تھی

میں نے اپنی باقی زندگی کا نقشہ تیار کر لیا تھا ۔۔ میرے نئے سفر کی تفصیل ایک مشن کی طرح دل پر ثبت ہو رہی تھی ۔
١۔ میڈیٹیشن کرنا
٢۔ بین الادیان کی روحانی کتابیں پڑھنا
٣۔ سبزی پھل کھانا ( ہر قسم کے گوشت سے پرہیز کہ وہ جہاں منفی خیال کی پرورش کرتے ہیں وہاں کینسر جیسی بیماریوں کی وجہ بھی بنتے تھے )
باب العلم مولائے کائنات نفس رسول علی علیہ السلام کا قول مبارک ہے۔۔۔ اپنے شکم کو جانوروں کا قبرستان نہ بناؤ
٤۔ اپنے جیسے لوگوں میں بیٹھنا ۔۔ میرے دوست اور میڈیٹیشن کی کلاس اب میرے لئے ضرورت سے زیادہ اہم ہو گئی تھی ۔
٥۔ لوگوں کو میڈیٹیشن سکھاؤنگی اور اپنا علم سب میں بانٹ دونگی تاکہ مرتے وقت کامیاب روح کی طرح خوشی خوشی دنیا کو خدا حافظ کہہ سکوں

بیماری کے یہ تین ماہ ایک طرف اور میری پوری حیات ایک طرف تھی ۔۔ خدا پاک کی قربت میں بیتا ایک ایک پل انمول تھا ۔۔ آگاہی اور آگہی کا سفر کرتے کرتے کیا کچھ پڑھ ڈالا ۔۔کیا کچھ نہ سنا ۔۔۔ اوراب لکھنا تھا ۔۔ یوں جیسے مجھ سے کہا جارہا ہو کہ تم نے اب یہ کرنا ہے اور مجھے کرتے چلے جانا ہے ۔۔ پانچ برس کے طویل انتظار کے بعد دل و زہن کی آپس میں بنی تھی ۔۔ خیال اور قلم یکجا ہونے جا رہے تھے ۔۔ ۔۔ زندگی جیسے کرشماتی سی ہو گئی تھی ۔۔۔ مجھے اس سفر کو جاری رکھنا ہے ۔۔ مجھے دعاؤں کے ترانوں سے دل کو سرشار رکھنا ہے ۔ ۔ مجھے پہلے سے بھی بہت بہت زیادہ اس کا شکرگزار رہنا ہے ۔۔توکل کی ڈگر پر خدا پاک نے جو انگلی پکڑ کر چلایا ہے ، چلتے رہنا ہے ۔۔۔ مجھے خالی دامن دنیا سے نہیں جانا۔۔ چیلنجز تو آگے بڑھانے کے لئے آتے ہیں ۔۔ منفرد اور مثبت سوچ ہمیشہ سختی حالات میں جنم لیتی ہے جیسے پانی سنگلاخ پتھروں کا سینہ چیر کر پھوٹتا ہے ۔۔۔جہاں جہاں گرتا ہے سیراب کرتا جاتا ہے ۔

مجھے میرے اندر کی اس آواز نے عجب تقویت دی ،ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں اب کینسر نہیں ہے ۔۔ نئی زندگی مبارک ۔۔ خیر سلامتی کی خوش نصیبی مبارک ۔۔ صحراؤں میں آبشار بننا مبارک ۔۔

کسقدر ہے معتبر میرے لیئے نامِ نسیم
مہرباں ہر ایک مشکل میں ہوا ربِ کریم
مجھکو نگہت باپ کی میرے دعا ہے باخدا
کوئی بھی نقصان دے سکتا نہیں کوئی غنیم

(ڈاکٹر نگہت نسیم )

……………….

اختتامی اظہاریہ

ڈاکتڑ نگہت نسیم الحمد اللہ اب کینسر کو شکست دیکر بفضل تعالیٰ رو بصحت ہیں۔ پروردگار مستقبل میں بھی انکو ہر ارضی و سماوی بلا سے محفوظ رکھے اور قلم کے ہمراہ اپنا تخلیقی سفر جاری رکھیں۔

میں عالمی اخبار کے مدیراعلیٰ کی حیثیت میں ڈاکٹر نگہت نسیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ان مشکل حالات میں بھی سورہ قلم کے صدقے میں عوام کی آگہی،آگاہی اور تعلیم و تربیت کا فرض پوری تندہی اور ایمانداری سے سرانجام دیا۔

دوسری زبانوں میں تو کینسر کے مریضوں کے تجربات کے حوالے سے متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں لیکن اردو زبان میں میرے مطالعے میں ایسی کوئی مکمل کتاب نہیں آئی ہاں انفرادی طور پر لکھے کالم ضرور مل جاتے ہیں۔

یہ تمام ساٹھ اقساط اب انشاللہ کتاب کی صورت میں جلد سامنے آئیں گی اور اس ضمن میں ڈاکٹر نگہت نسیم خوش قسمت ہیں کہ ملتان میں ہمارے کرم فرما اور دوست شاکر حسین شاکر جو کتابوں کی اشاعت کے حوالے ایک مستند اور بڑا نام ہے انہوں نے از خود وسیع القلبی سے اس کتاب کی اشاعت کی ذمیداری لے رکھی ہے اور انشاللہ وہ پورے اہتمام سے اسے شائع بھی کریں گے اور اس کتاب کی افتتاحی تقریب بھی ملتان میں ہی ہو گی۔

یہ کتاب کینسر کی ایک مریض کی آپ بیتی تو ہے ہی لیکن میرے نزدیک اسکی سب سے بڑی خوبی وہ معلومات ہیں جو کینسر کے حوالے سے اردو جاننے والوں کے لیئے اب تک مفقود رہی ہیں۔ نگہت جہاں ایک طرف اس موذی مرض سے نمٹ رہی تھیں وہیں عام آدمی کو اس مرض اور اسکی وجوہات اور علاج سے آگاہ کرنے کے لیئے اپنا بہت سا وقت مطالعے میں گزار رہی تھیں۔ پروردگار انکی اس مساعی کو قبول کرے اور صحت کاملہ و عاجلہ عطا کرے۔ عالمی اخبار کے تمام قارئین انکے لیئے ہمہ وقت دعا گو ہیں

دعا گوصفدر ھمدانی .مدیر اعلیٰ۔عالمی اخبار

SHARE

4 COMMENTS

  1. شکر الحمداللہ
    سوائے کلمہ شکر ادا کرنے کے اس ربالعالئمین کا جس کی رحمت ، محبت اور کرم نوازی کی کوئ حد نہیں ۔
    دل سے نکلی دعاون کو قبولیت کا شرف حاصل ہوا۔
    شکریہ اللہ میاں آپکا

  2. Alhumdolillah Alhumdolillah you are such a loving mom , wife and grand mom Allah ap ko apne hifz o Aman mein rakhe Aameen

  3. اف میرے خدا میں اس قدر خوش ہوں کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتی ۔

    گھر میں بے تحاشہ مصروفیات آگئی تھیں۔ آگے بھی دوبارہ سے مصروفیات شروع ہو رہی ہیں۔
    آخری چند قسطیں میں بالکل نہیں پڑھ سکی تھی ۔ آج تو کس نے پڑھی ہے مگر یہ اس طرح کے بے حد خوشی ہوئی۔
    الحمدللہ الحمدللہ الحمدللہ یہ قسط پڑھ کے مجھے ٹھنڈ پڑ گئی
    ہے۔
    نگہت جی آپ میرے سامنے ہوتیں تو میں آپ کے گلے ملتی۔
    آپ کو بہت بہت مبارک ہو صحت کی مبارک نئی زندگی کی مبارک ۔
    اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ آپ کو خوش و خرم رکھے آمین

LEAVE A REPLY