دسویں قسط
وہ اپنی ماں کو فون کر کے بتا رہا تھا بیٹا یہ تو تم نے بڑی اچھی خبر سنائی ہے مہینوں گزر جاتے تھے تمہاری شکل دیکھے تمہاری بہن بھی تمہیں بہت یاد کرتی ہے….
صباحت کا انٹر کا نتیجہ نکلنے والا ہے اور وہ ضد کئے بیٹھی ہے کہ وہ کسی بڑے شہر میں بڑے کالج کیا کہتے ہیں اس کو…. یونیورسٹی امی… وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے زیر لب مسکراتے ہوئے بولا… ہاں ہاں وہی…تم لوگ اب زیادہ پڑھ لکھ گئے ہو نا ہم لوگ ٹھہرے زمینوں میں کام کرنے والے… سادہ لوح…. وہ یوسف کی ہنسی پر ناراض سی بولیں ارے نہیں امی آپ اور ابو تو ہماری شان ہیں… ہمارا ماں ہیں… وہ ان کو منانے لگا….. چلیں میں آؤں گا تو صباحت کا داخلہ اسلام آباد کی کسی اچھی یونیورسٹی میں کروا. دوں گا….
اگر وہ پڑھنا چاہتی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے…. بیٹا میں تو چاہتی ہوں اس کے ہاتھ پیلے کر دوں وہ اپنے گھر کی ہو جائے لیکن تمہارے آبا نہیں مانتے ابھی… امی ابو بلکل ٹھیک کہتے ہیں ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے … اس کو پڑھنے دیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے دیں…..
میں تم لوگوں کے ساتھ پوری نہیں آ سکتی جیسے تم لوگ بہتر سمجھو کرو… اچھا امی میں اب فون رکھتا ہوں جلد آپ لوگوں سے ملنے آؤں گا سب کو سلام دیجئے گا انہوں نے بیٹے کو دعائیں دیتے ہوئے فون رکھ دیا….
جب یوسف کے ابا گھر آئے تو صبیہ بہت خوش تھی احمد خان نے بیوی کی خوشی بھانپتے ہوئے بولے… صبیہ نے یوسف سے کی گئی بات چیت اس کے ابا کے گوش گزار کر دی……
کبھی میرے آنے پر تو اتنی خوشی کا اظہار نہیں کیا ارے صبیہ بیگم ہمیں تو حسرت ہی رہی… وہ صبیہ کو تنگ کرتے ہوئے بولے…. وہ پلو میں منہ چھپاتے ہوئے شرما
سی گئی ….صبیہ بہت سی سادہ لوح اور گھریلو عورت تھی…..
جلآل صاحب اسے ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے گھر کی سخت سکیورٹی کا انتظام کیا گیا تھا ہر آنے جانے والے سے تفتیش کی جارہی تھی موبائل اور لین لائن پر ٹریلر لگا دئیے گئے تھے
کھانا کھا لو صاحب کا حکم ہے تمہیں کچھ نہیں ہونا چاہیئے خان سے مار دیں گےہمیں اگر کچھ ہو گیا تو اس لئے اپنے حال پر بھی رحم کرو اور ہم لوگوں پر بھی میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا بس مجبور ہوں….
یہ پاپی پیٹ ہے نا بڑا ظالم ہے کیسے کیسے کام کروا دیتا ہے.. اچھا میرے ہاتھ تو کھول دو تبھی کھانا کھاؤں گی نا اس آدمی کے دل میں رحم دیکھ کر انوشے کو حوصلہ سا ہوا.. ..
اچھا مجھے بتاؤ واش روم کہاں ہے میں نے وضو کرنا ہے…. وہ اس کی بات سن کر چونک گیا…. تم فکر مت کرو بھاگوں گی نہیں تم پر کوئی مصیبت نہیں آنے دوں گی میں تو بس اپنے اللّٰہ سے مدد مانگنا چاہتی ہوں….
تم پاگل ہو کیا مجھے تمہاری باتیں سمجھ نہیں آ رہیں… اس نے اس کے ہاتھ کھول دیئے انوشے کی باتیں سن کر اس پر خوف سا طاری ہو گیا… وہ وضو کر کے فرش پر ہی نماز کے لیے کھڑی ہو گئی…..
وہ آدمی دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اسے نماز پڑھتے دیکھ رہا تھا وہ اس کے توکل اور ہمت کو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کیسی لڑکی ہے اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتی تو اب تک منت سماجت کر رہی ہوتی اپنی عزت اور زندگی کی بھیک مانگ رہی ہوتی اسے کہاں نماز کی ہوش ہوتی…..
نماز پڑھنے کے بعد اس نے دعا کی لئے ہاتھ بلند کئے…. اے اللّٰہ ہم پر اس وقت تک کوئی مصیب نہیں آسکتی جب تک تو نہ چاہے اگر تیری رضا اسی میں ہے تو میں خود کو تیرے حوالے کرتی ہوں…
میرے اللّٰہ مجھے دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا کرنا مجھے عزت کی زندگی اور ایمان کی موت نصیب کرنا…. تو بہترین کارساز ہے میرے لئے وہ کر جو تو بہتر سمجھتا ہے…
وہ دعا سےفارغ ہوکر اطمینان سے بیٹھ کر کھانا کھانے لگی اس کے چہرے پر اک عجیب سا سکون اور رعب تھا… وہ آدمی باہر چلا گیا…. تھوڑی دیر کے بعد جب دوسرا آدمی اندر آیا دوبارہ سے اس کے ہاتھ باندھے اور برتن اٹھا کر چلا گیا… اس نے دوسرے آدمی سے کہا جعفری یار کیا چیز ہے میں نے آج تک اتنی خوبصورت عورت نہیں دیکھی…..
کیا خیال ہے کیوں نہ……… اس کا یہ کہنا تھا کہ جعفر نے اس کے منہ پر زور سے تھپڑ مارا جعفر بھاری بھرکم تھا اس لئے دوسرا آدمی اسے پچھاڑ نہ سکا…. وہ زخمی ہو گیا… جعفری بھاگ کر اندر گیا….بی بی تم بھاگ جاؤ… جلدی کرو.. لیکن تمہارا کیا ہو گا وہ اسے کہنے لگی…. تم میرے لئے اپنے اللّٰہ سے دعا کرنا… میرا بھی وہی وارث ہے… چلو چلو جلدی کرو….
جعفری نے خوف خدا میں اسے وہاں سے بھاگنے میں مدد کی اور خود بھی وہاں سے نکل گیا… بی بی میں اس کام میں نیا تھا مجھے تو کچھ پیسوں کی ضرورت تھی اس لئے….
مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ لوگ اتنے خراب ہیں میں ان کو نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ ہیں مگر تم نکل جاؤ میں بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کر کہیں دور چلا جاؤں گا…..
انوشے نے چادر میں اپنا منہ چھپایا اور وہاں سے بھاگنا شروع کر دیا.. وہ راستوں سے انجان تھی اسے سڑک پر آتے ہوئے کافی دیر لگی… وہ کسی ویران علاقے میں مقید تھی…..
وہ بھاگتے ہوئے اک گاڑی سے ٹکرا گئی… اس گاڑی میں ایک ہی شخص سوار تھا شکل سے اچھا اور بھلا معلوم ہوتا تھا…. وہ گر گئی گاڑی سے آدمی باہر نکلا.وہ گبھرا گئی… وہ گویا ہوا گبھراؤ نہیں تم کون ہو اور کہاں جانا ہے کیا ہوا تمہارے ساتھ…. مجھے بتاؤ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آؤں گا…….
وہ اس آواز کو کیسے بھول سکتی تھی اس کی آنکھوں سے زارو قطار آنسو نکلنے لگے… اس نے اپنا چہرہ مزید چھپا لیا اس نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تک نہیں اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ یوسف سے ملاقات کبھی اس طرح سے بھی ہو سکتی ہے…..
وہ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی وہ جانتی تھی کہ اب وہ محفوظ ہاتھوں میں ہے… وہ رکھوالا ہے لٹیرا نہیں…. یہی تو کیا تھا اس نے مالم جبہ میں…. وہ بولتا رہا کلین اس نے یوسف کی کسی بات کا جواب نہیں دیا… وہ اسے کیا بتاتی اور کیسے بتاتی کہ اس پر کیا گزری…..
اس نے اسے اپنے گھر کے رستے پر ہی روکنے کا اشارہ کیا وہ گھر سے تھوڑا دور اتر گئی…. وہ وہاں اسے اتار کر مزید کچھ بات کرتا اسے اک فون آگیا اور وہ چلا گیا… انوشے نے اللّٰہ کا شکر ادا کرنے کے لیے اک تشکر کی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی….
اس کا گھر وہاں سے پانچ منٹ کی دوری پر تھا… وہ جلدی جلدی اپنے گھر کی طرف بھاگی …..دروازے پر نان سٹاپ گھنٹی بج رہی تھی… سویرا جو دو دن سے انوشے کے گھر پر ہی تھی آ کر سوئے ہوئے خان بابا کو جگایا…. کب سے گھنٹی بج رہی ہے آپ کو سنائی نہیں دے رہا….. خان بابا نے دروازہ کھولا…. انوشے میری جان تم….. وہ سویرا کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی……
انکل دیکھیں…. انوشے آ گئی… جلال صاحب اور انا بی بھاگتے ہوئے باہر آئے انھوں نے اسے ساتھ لگا کر پیار کیا… اسے اندر تو آنے دو انا بی کے کہنے پر وہ اسے اندر لے کر آئے…. وہ اس پہلے اس سے کچھ پوچھتے سورس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں منع کر دیا….
وہ اسے کمرے میں لے گئی… وہ بھاگ بھاگ کر تھک چکی تھی اس لئے کمرے میں جاتے ہی بستر پر گر گئی….
اب تک اس کی گمشدگی کی اطلاع پورے بزنس سرکل میں پھیل چکی تھی ہر کوئی فون کر کے پوچھ رہا تھا…
رات کو آئی جی صاحب آئے انھوں نے انوشے سے کچھ سوال جواب کئے لیکن انوشے نے بتایا وہ صرف اتنا جانتی ہے جب وہ انسٹیٹیوٹ سے باہر نکلی تو کچھ لوگوں نے اسے بے ہوش کر کہ گاڑی میں ڈال دیا اور جب اسے خوش آیا تو وہ اک ویرانے میں تھی
وہ کون لوگ تھے بیٹا… مجھے نہیں پتا انھوں نے اپنے منہ چھپا رکھے تھے… انھوں نے آپ کے ساتھ کچھ غلط…….
آئی جی صاحب کے اس سوال پر وہ تڑپ اٹھی اسے اپنی پاک دامنی کا ثبوت دینا پڑ رہا تھا… نہیں میرے ساتھ کچھ غلط نہیں ہوا… آپ وہاں سے کیسے نکلی راستہ یاد ہے… بس کوئی اللّٰہ کا بندہ تھا جس میں خوف خدا جاگ گیا… اس نے مجھے وہاں سی نکالنے میں میری مدد کی…..
اس کی اصل آزمائش تو اب شروع ہوئی تھی وہ سارا سارا دن گھر میں رہتی نماز پڑھ کر اللّٰہ سے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی دعا کرتی….
اس نے آفس جانا بھی چھوڑ دیا لوگوں کی بے رحم نظروں کا وہ سامنا نہیں کر پاتی تھی لوگوں کے لب تو خاموش ہوتے لیکن ان کی کاٹ دار نظروں میں بے شمار سوالات ہوتے جن کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا
عشاء کی نماز پڑھتے ہوئے وہ مسلسل رو رہی تھی جلال صاحب اور انا بی سے اس کی یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی… وہ جانے کتنی ہی دیر جائے نماز پر بیٹھی رہی… اسے گل رعنا کی باتیں یاد آ رہی تھیں کہ کبھی کبھی ایسی آزمائش میں سے گزرنا پڑتا ہے….
بے گناہ ہوتے ہوئے بھی کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑتا ہے… انسان چاہ کر بھی کسی سے کچھ نہیں کہ پاتا… وہ اپنے آپ کو لوگوں کے درمیان بھی تنہا محسوس کرتا ہے…
وہ اپنا دکھ بتانے سے عاجز ہوتا ہے…. تم ٹھیک کہتی تھی گل… تم ٹھیک کہتی تھی….. اس نے آج پہلی بار گل کو فون کیا وہ بہت حیران رہ گئی اس کی بات سن کر کہ انوشے آزمائی جا رہی ہو نا فکر مت کرو تم آزمائش میں پوری اترو گی…. تم بہت اچھی ہو وہ تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا…
دیکھنا یہ وقت بھی گزر جائے گا وہ ہے نا بس تم اس کی طرف سے معجزے کا انتظار کرو. ..وہ آزماتا ہے مگر آزمائش میں اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا… اسے سب کیسے پتا تھا کیا اس کی بابا سے بات ہوئی تھی…
بابا آپ کی کمال چچا سے بات ہوئی کیسے ہیں وہ… آج بہت دن کے بعد وہ سب کے ساتھ مل کر کھانا کھانے آئی ورنہ اس واقعے کے بعد اس نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا…
نہیں بیٹا میری اس سے کوئی بات نہیں ہوئی کئ دن سے آپ کی پریشانی میں دھیان ہی نہیں رہا…. وہ باپ کی بات سن کر حیران سی رہ گئی… پھر گل کو دوبارہ فون کیا…. تمہیں سب کیسے پتا… پگلی تمہارا فون جب آیا تمہاری دم توڑتی آواز اور لہجے سے سب عیاں تھا…
تمہاری یہی ادا اسے پسند آ گئی کہ تم بناوٹ سے بلکل عاری ہو اپنے جذبوں میں بلکل سچی اور وہ سچے لوگوں کو کبھی جھوٹا ثابت نہیں ہونے دیتا…
ہاں آزمائش کی گھڑی میں خود کو کبھی کمزور مت ثابت کرنا ورنہ لوگ تمہیں مجرم سمجھیں گے اس پر توکل رکھ کر لوگوں سے ویسے ہی ملو جیسے پہلے ملتی تھی… اپنے آپ کو ان کے سامنے حقیر مت جانو… اسے گل کی باتوں نے سہارا دیا وہ واقعی سچی تھی اور واقعی ایک بہن کی طرح اس سے دور رہ کر بھی اسے سنمبھالا….
سویرا بلا ناغہ اس کی طرف آتی… اس کے ساتھ وقت گزارتی اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتی… آج جب وہ آئی تو بہت خوش تھی اس کی خوشی اس کی آنکھوں سے چھلک رہی تھی….
آج بڑی خوش ہو کیا بات ہے… میری پوپھو کا فون آیا تھا وہ اگلے ہفتے آ رہے ہیں شادی کی تاریخ طے کرنے…..فیصل بھائی بھی آ رہے ہیں کیا…. نہیں وہ تاریخ طے ہونے کے بعد آئیں گے….
تم اب یہ سب چھوڑو اور میرے ساتھ میری شادی کی تیاریوں میں ہاتھ بٹاؤ کیسی دوست ہو تم نکل بھی میری پرواہ نہیں رہی تھیں…. سویرا اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی کہ کسی طرح وہ اسے نارمل زندگی کی طرف واپس لا سکے…..
اچھا بابا اب ناراض مت ہو میں تمہاری شادی کی ساری تیاری تمہارے ساتھ ملکر کروں گی اب خوش… یہ کی نا میری انوشے والی بات….
آج وہ تقریباً پندرہ دن کے بعد انسٹیٹیوٹ گئی. فاطمہ نے اس سے اتنے دن نہ آنے پر ناراضگی کا اظہار کیا… سب اس سے پوچھنے لگے کہ سب ٹھیک ہے نہ کچھ ہوا تو نہیں وغیرہ وغیرہ وہ انہی سوالوں کی وجہ سے کہیں آنے جانے سے کتراتی تھی لوگوں کو کیا اور کام نہیں……
وہ کیسے اپنی پاک دامنی ثابت کرے کہ لوگوں کے منہ بند ہو جائیں وہ بلکل ویسی ہی تھی جیسی وہ یہاں سے جاتے وقت تھی لیکن دو دن کے اغواء کے دھبے نے اس کی ذات کو اک سوالیہ نشان بنا دیا تھا….
وہ فاطمہ کی طرف نم آنکھوں سے دیکھنے لگی….. فاطمہ نے سورہ یوسف کی آیات تلاوت کیں جس میں حضرت یوسف کو زلیخا کے فریب سے اللّٰہ نے بری کیا تھا اور اس کا فریب کھل کر سب کے سامنے آگیا اور یوں اللّٰہ نے ان کی بے گناہی اور پاک دامنی ثابت کر دی…
تم پریشان مت ہو وہ تمہارا بھی رب ہے ہم سب کا رب ہے وہ تمہیں بھی لوگوں کے سوالات سے نجات دلائے گا اور تمہاری پاک دامنی کو سب کے سامنے ثابت کرے گا… یوں فاطمہ نے اس کی طرف اٹھنے والے سوالات کا جواب دے کر وہاں بیٹھی خواتین کو ذلیل دے کر چپ کروا دیا اس نے سکھ کا سانس لیا کہ کم از کم اب یہاں تو اس سے کوئی اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کرے گا….
سب کے چلے جانے کے بعد وہ کافی دیر تک فاطمہ کے پاس بیٹھی رہی انوشے کیا بات ہے آج گھر نہیں جانا فاطمہ کے پوچھنے پر وہ جو گم سم بیٹھی تھی ان کے بہت قریب آ کر بیٹھ گئی… مس فاطمہ میں بہت تھک گئی ہوں مجھے لگتا ہے
میرا اس دنیا میں کوئی نہیں میں بکل تنہا ہو گئی ہوں جیسے نہیں انوشے ایسا نہیں سوچتے سب رشتے تو ہیں تمہارے پاس…. تمہارے بابا انا بی اور تمہاری دوست سب تم سے اتنا پیار کرتے ہیں کس چیز کی کمی ہے تمہارے پاس دولت خوبصورتی اور اب تو تمہارا دل اللّٰہ کی محبت سے آباد ہو گیا ہے اب ایسا کیوں سوچتی ہو….. میں ایسی نہیں تھی پتا نہیں میں ایسی کیوں ہو گئی اس کے ریجیکشن نے مجھے اتنا تبدیل کر دیا کیا وہ اک شخص اتنا اہم تھا میرے لئے……
کیا وہ اس کے انکشاف پر چونکتے ہوئے بولیں…. بات کیا ہے انوشے مجھے کھل کے بتاؤ… دیکھیں پہلے بہت چھوٹی عمر میں مجھ سے میری ماں دور کر دی گئی میں نے ماں کے بغیر زندگی گزاری کوئی گلہ نہیں کیا میرے بابا اور انا بی نے مجھے بہت محبت دی میں سہی گئی ماں کی کمی کو کبھی کبھی مجھے ان کی بہت ضرورت محسوس ہوتی لیکن بابا بڑھ کر تھام لیتے……
میں نے اللّٰہ سے کبھی کچھ نہیں مانگا جو اس نے دیا بس لے لیا…. لیکن جو میں نے اس چاہا پہلی بار اس نے مجھے اس کے بہت قریب کر کے مجھے اسی کے ہاتھوں توڑ دیا…میں نے اس سے بہت محبت کی… اور پتا نہیں کیوں کب اور کیسے ہو گئی مجھے لگا وہ بھی مجھ سے محبت کرتا ہے…. تم نے اس سے کہا کہ تم اس سے محبت کرتی ہو نہیں مس فاطمہ اس نے موقع ہی نہیں دیا اس سے پہلے میں اسے بتاتی اس نے کہا کہ وہ کسی اور سے بے پناہ محبت کرتا ہے پھر میں کیسے کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کا سوچتی…
وہ رساں سے بولتی جا رہی تھی اور فاطمہ اس کی صاف گوئی سے محظوظ ہو رہی تھیں وہ اس وقت انہیں بلکل اس معصوم بچے کیطرح لگ رہی تھی جس سے اس کا سب سے قیمتی کھلونا کسی نے چھین لیا ہو اور وہ اپنی ماں سے اس کی شکائیت کر رہی ہو …مس فاطمہ میں تھک گئی ہوں……میں اس تپتے صحرا میں تنہا اور اکیلی رہ گئی ہوں….
رک جاؤ کیا اکیلی اکیلی کی مالا جھپ رہی ہو جب تمہیں لگے کہ اکیلی رہ گئی ہو تو اسلام کی بہادر اور چٹان سے بھی زیادہ مضبوط عورتوں کے بارے میں پڑھو میں تمہیں ایک عظیم اور بہادر عورت کا قصہ سناتی ہوں…
حضرت ہاجرہ علیہ سلام
ﺍﻟﻠﮧ ﺣﮑﻢ دیتا ہے۔۔۔ﺷﻮﮨﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ شیر خوار ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ۔۔۔۔ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ خود ہی دے رہا ہے ….سوچو
ﮐﺴﯽ ﺳﮯ شکائیت کی ﺍﺱ بلند مرتبہ عورت نے؟
ﺍﻥ کﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ پر اتنا کامل اور مضبوط تھا کہ وہﻣﺠﮭﮯ اس حال میں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا اور اللّٰہ نے اس نے ایمان کو مزید تقویت بخشی ۔۔ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ تنہا نہیں چھوڑا ۔۔ﺍیسی عظمت بخشی ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻣﻘﺎﻡ ﻧﮩﯽ ۔۔۔
ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﻤﺖ ﮐﺘﻨﺎ صبر ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺜﺎﻝسامنے رکھ دی ﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ،ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﺻﺒﺮ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ،ﺍﺱ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻔﯿﮟ ﺳﮩﺘﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﻘﺎﻡ ﺑﮩﺖ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ تنہآ نہیں چھوڑے گا اس پر اپنا ایمان مضبوط رکھو جب اس کا رستہ چن لیا تو پھر شک کی کوئی گنجائش اور شکوے کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا اب ﻭﮦ ﺍﮐﯿﻠﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺁیک خلیل القدر ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯽ ذبیح اللہ کاشرف پاتا ہے وہی ﺑﯿﭩﺎ : ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺧﻠﯿﻞ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﮔﮩﺮﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ اپنے باپ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﻌﺒﮧ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﺗﮯ ہیں سبحان اللہ قربان جاؤں اس رب کی عظمت پر اس کی رحمت پر اس کی محبت پر جو وہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بڑھ کر کرتا ہے
ﯾﮧ ﮨﮯ اسﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺻﻠﮧ جو،آپ نے خالص اللّٰہ کے لیے دی ہوتی ہے ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ اپنے آپ کو اس کے سہارے آزمائش کے لیے پیش، کرنے کا صلہ ﯾﮧ ہےﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺑﮯ ﭘﻨﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺛﻤﺮ ،
وہ بہت late ہو گئی تھی اس نے بتایا بھی نہیں کہ وہ ابھی تک فاطمہ کے پاس ہے فاطمہ نے اسے کہا کہ اب اسے جانا چاہئے گھر والے پریشان ہو رہے ہوں گے اور ہاں اللّٰہ کے ہوتے ہوئے اللّٰہ کے بندے خود کو تنہا محسوس نہیں کرتے
انا بی اور جلال صاحب کو انوشے کی بہت فکر لاحق ہو گئ تھی انہیں اپنی بیٹی کو باتوں پر پورا یقین تھا کلین وہ لوگوں کو کیسے یقین دلاتے…. جلال اب انوشے کی شادی کیسے ہو گی کون کرے گا اس سے شادی لوگ تو طرح طرح کے سوال پوچھتے ہیں ،
سویرا کی پوپھو کینڈا سے آچکی تھیں اور اس کی شادی کی تاریخ دو ماہ بعد کی رکھی گئی کیونکہ فیصل کو دو ماہ بعد کی چھٹی ملی تھی وہ اک سافٹ وئیر ہاؤس میں کام کرتا تھا جہاں سے چھٹی اتنی جلد اور آسانی سے نہیں ملتی تھی.. سویرا ابھی تو بہت وقت ہے آرام سے ہو جائے گی تمہاری شادی کی ساری تیاری انوشے اس کو کہنے لگی….
عون عباس نے اپنے باپ سے کہا کہ وہ جلال احمد کے گھر اس کا رشتہ دوبارہ لے کر جائے اب وہ کبھی بھی انکار نہیں کریں گے.. سکندر حیات راضی ہو گئے کہ ہو سکتا ہے اب حالات کے پیش نظر وہ رشتے سے انکار نہ کریں….
کبھی نہیں میں اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی اس اغواء شدہ لڑکی سے کبھی نہیں ہونے دوں گی… موم اس میں اس بیچاری کا کیا قصور… وہ دو دن اور دو راتیں گھر سے باہر رہی ہے پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا کیا ہوا ہو گا….
زاہدہ بیگم بکواس مت کرو تم بھی دو بیٹیوں کی ماں ہو تمہیں بغیر کسی ثبوت کے اس معصوم بچی پر تہمت نہیں لگانی چاہیے….
ٹھیک ہے عون میں جاؤں گا ان کی طرف مجھے خوشی ہے کہ تم نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے اور ایسے وقت میں جلال صاحب کا سہارا بننے کا فیصلہ کیا ہے میرا سر فخر سے بلند کر دیا… جیتے رہو بیٹا …..کسی کے مشکل وقت میں ساتھ دینے والوں کا اللّٰہ ساتھ دیتا ہے…
انہیں کیا پتا تھا کہ حلال صاحب اور انکی بیٹی کو رسوائیوں کی دلدل میں اور ان کے لیے مشکلات کا انبار لگانے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا اپنا بیٹا ہے…
اور وہ اب بھی کسی مخصوص مقصد کے لیے یہ سب کر رہا تھا….
یار عون یہ ہم کیا سن رہے ہیں وہ اپنے دوستوں میں بیھٹا تھا وہاں سگریٹ کا دھواں اور شراب کی بو پھیلی تھی… کیا سنا ہے…کہ تم جلال احمد کی بیٹی سے شادی کر رہے ہو تمہارے لئے لڑکیوں کا کال پڑھ گیا ہے کیا….. کیا تمہارا بدلہ ابھی پورا نہیں ہوا
نہیں ابھی کہاں وہ تحقیرا” بولا… پھر کیا ارادہ ہے…اس کے دوست نے سگریٹ کا کش لے کر بھنویں اوپر اٹھاتے ہوئے پوچھا……. ارادہ یہ ہے میری جان…. شادی والے دن ہی اسے طلاق دے دوں گا پھر اس جلال احمد کو پتا چلے گا کہ عون حیات سے دشمنی کرنا اس جیسوں کے بس کی بات نہیں….
لیکنوہ یہ کہاں جانتا تھا کہ اللّٰہ کی لاٹھی زمینی خداؤں پر کس طرح برستی ہے جب لوگ دوسروں کو اللّٰہ کی بجائے اپنے غضب سے ڈرانے لگ جائے تو پھر اللّٰہ ایسے لوگوں کے سامنے رحمان کی بجائے جبار اور قہار بن کر آتا ہے…. اور پھر بتاتا ہے کہ طاقت کا اصل ممنبہ اسی کی ذات ہے…. کسی کو عزت اور ذلت دینے والی ذات بس اللّٰہ کی ہے….
سکندر حیات جلال احمد کے گھر گئے ان کو تسلی دی ان کا مشکل وقت میں ساتھ دینے کی ہامی بھری… ان کی گول مول باتوں کی ان کو سمجھ نہیں آئی آپ کھل کے بات کریں کیا کہنا چاہتے ہیں….
میں اب بھی آپ کی بیٹی کو اپنی بیٹی بنانے کا خواہش مند ہوں اگر آپ کو اعتراض نہ ہو… میرا بیٹا اب پہلے جیسا نہیں رہا وہ بدل گیا ہے اس دن کے بعد اس نے کوئی شکایت کا موقع فراہم نہیں کیا….
آپ چاہیں تو اس سے مل کر اپنی تسلی کر لیں انہوں نے انا بی کی طرف دیکھا انہوں نے آنکھ کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا ٹھیک ہے میں وقت نکال کر آپ کے بیٹے سے ملوں گا…..
سکندر حیات کے جانے کے بعد انا بی نے جلال صاحب سے کہا بیٹا ہو سکتا ہے کہ ان کا بیٹا واقعی سدھر گیا ہو اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہو… غلطی کا احساس ہو جانے پر تو اللّٰہ بھی معاف کر دیتا ہے…. تم اسے اپنے دفتر بلا لو اس سے بات کرو اپنی تسلی کرو اور پھر رشتے کے لئے ہامی بھر لو کیونکہ اب جو بھی انوشے کے رشتے کے لئے آئے گا طرح طرح کے سوالات کرے گا ….
اور ہم کس کس کا منہ بند کرتے پھر یں گے. انہوں نے کافی دیر سوچا اور پھر انہیں آنا بی کی بات درست لگی…
سکندر حیات کو بات کر کے گئے آج تیسرا دن تھا.. جلال صاحب نے انہیں فون کیا کہ وہ عون کو ان کے دفتر بیھجیں.. انہوں نے عون کو جلال صاحب کے دفتر جانے کا کہا… عون پر اعتماد جلال صاحب کے دفتر گیا..
اس نے اتنے بناوٹی انداز سے ان کی ہر بات کا جواب دیا کہ جیسے وہ اپنے اس دن کے روئیے پر بہت شرمندہ ہو… اس نے انہیں انوشے کو ہمیشہ خوش رکھنے کا یقین دلایا..
اس سے ملکر وہ مطمئن ہو گئے انہوں نے کہا سکندر حیات کو کہنا مجھ سے ملیں.. جی سر…. سر کیوں بیٹا تم مجھے انکل کہ سکتے ہو وہ مسکرایا اور جانے کی اجازت مانگی… جلال صاحب نے اسے مصافحہ کر کے رخصت کیا……
جب وی دفتر سے باہر نکلا تو وہ پر اعتماد تھا کہ اس نے بڈھے کو شیشے میں اتار لیا ہے… اسے لگا تھا کہ وہ اپنی چال میں کامیاب ہو گیا ہے… وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اللّٰہ شیطان کے خلاف بہترین چال چلنے والا ہے….
وہ جس کے خلاف چال چل رہا تھا وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اللّٰہ نے اسے اپنے لیے چن لیا تھا… اللّٰہ نے اسے کندن بنانے کے لیے صرف عون حیات کو اس کی زندگی میں شامل کیا تھا.. کہ وہ اپنے عقیدے میں کتنی سچی تھی…
کیا وہ واقعی حقیقی محبت کے معنوں کو سمجھ گئی تھی کیا اس نے واقعی اللّٰہ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کر لیا تھا… کیا اس کے دل میں اللّٰہ کی محبت سب سے بعض کر تھی… اور اس کی اب یہ آزمائش پوری ہونے کو تھی….اس آ نصیب کتنا بلند ہونے والا ہے کسی کو بھی خبر نہیں…. اس کو نادار اور یتیم بچوں کی بلند نصیب کی دی ہوئی دعائیں اب پوری ہونے کو تھیں….
بابا آپ نے اک بار کہا تھا کہ آپ اللّٰہ کے گھر کی زیارت کے لیے جانا چاہتے ہیں. جلال صاحب اخبار پڑھ رہے تھے انھوں نے اخبار لپیٹ کر دوسری طرف رکھ دیا اور پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوئے… جاری













