غزل برائے عالمی اخبار۔ شاعرہ۔ سلمیٰ رضا سلمیٰ

0
1076

سچ کا اس پر اثر نہیں لگتا
قصہ اب مختصر نہیں لگتا

مجھ کو اپنوں نے مار ڈالا ہے
مجھ کو سانپوں سے ڈر نہیں لگتا

جو چھُپے رہتے مثلِ اژدر ہیں
اُن کا تو کوئی گھر نہیں لگتا

تلخ یادوں کو بھول جانا بھی
بھول جاؤں مگر نہیں لگتا

جس کو رہبر بنا لیا اس نے
مجھ کو وہ معتبر نہیں لگتا

اس کی فطرت میں حکمرانی ہے
اس کو تو رب سے ڈر نہیں لگتا

سلمٰی رضا سلمٰی

SHARE

LEAVE A REPLY