ترازو اس نے کیوں پکڑا ہوا ہے کیا ہے۔جعفر رضوی”

0
895

پاکستان کے حالات حاضرہ پر۔۔۔
(اک نوحہ)

نہ کوئی چپ ہے اور نہ بولتا ہے ، کیا ہوا ہے
جسے دیکھو وہی سہما ہوا ہے ، کیا ہوا ہے

ابھی بندوق سے جو قتل مجھ کو کررہا تھا
ترازو اس نے کیوں پکڑا ہوا ہے کیا ہے

عجب بوسیدہ و وحشت زدہ ہے وہ عمارت
ترازو جس کے ماتھے پر سجا ہے کیا ہوا ہے

نہیں ایسا کہ منصف صرف اونچا سن رہے ہیں
“یہ بول انصاف کا بالا ہوا ہے کیا ہوا ہے !”

قفس میں شور زنجیر و سلاسل تو بہت تھا
تو قبرستان سا کیوں لگ رہا ہے کیا ہوا ہے

دکھائی دے رہی ہیں چند تصویریں تو گونگی
مگر شور و صدا سب لاپتہ ہے کیا ہوا ہے

پرندے مرگئے پنجرے سے اڑنے کی لگن میں
مگر وہ گدھ وہاں سے اڑ گیا ہے کیا ہوا ہے

“مدینہ” بن رہے ہیں اب بڑی تاخیر سے ہم
مدینہ جب کہ “پیرس” بن رہا ہے کیا ہوا ہے

جہاں پر گلفروشوں کی دکاں بازار میں تھی
وہاں کوئی کفن اب بیچتا ہے کیا ہوا ہے

اذاں تو اب بھی دیتا ہے کوئی مسجد میں لیکن
کہیں وہ مرثیہ گو جا چکا ہے کیا ہوا ہے

عزا داری تو اب بھی ہورہی ہے سب گھروں میں
مگر وہ وہ نوحہ گر اب “لاپتہ” ہے کیا ہوا ہے

کبھی جس چوک پر بستی کی راتیں جاگتی تھیں
وہ کوچہ دن میں بھی سونا پڑا ہے کیا ہوا ہے

جہاں اک کھیل کا میدان تھا، جھولے لگے تھے
وہاں اب مدرَسہ اک کھل گیا ہے کیا ہوا ہے

نہ کوئی زلف شانے پر بکھر کر رو رہی ہے
نہ دیوانہ کوئی ہنستا ہوا ہے ، کیا ہوا ہے

نہ گلیوں میں کہیں عشاق پھرتے ہیں سجیلے
نہ کوئی بام پر شرما رہا ہے کیا ہوا ہے

نہ تتلی باغ میں دن بھر دکھائی دے رہی ہے
نہ جگنو رات کو چمکا ہوا ہے کیا ہوا ہے

کہیں اندر ہی گھٹ کر رہ گئی ہے چیخ کوئی
کہیں اک کھوکھلا سا قہقہ ہے کیا ہوا ہے

فرازِ دار نہ طوق و رسن نہ بیڑیاں ہیں
اسیری ہے نہ آزادی یہ کیا ہے ، کیا ہوا ہے

(جعفر رضوی، لندن۔ دسمبر ۲۰۱۹)

SHARE

LEAVE A REPLY