فرانس میں پچھلے ہفتے نانتغ شہر میں چاند رات کے روز الجزائر کے سترہ سالہ نوجوان نائل کو پولیس کے کہنے پر نہ رکنے اور پولیس پر گاڑی چڑھانے کا الزام لگا کر گاڑی کے سٹیرنگ پر بیٹھے ہوئے ہی نوجوان کو سینے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔
سترہ سالہ مقتول نائل ڈلیوی بوائے تھا اور رگبی کا اچھا کھلاڑی تھا۔ جیسے ہی یہ خبر فرانس کے مسلم عوام کو پہنچی دکھی عوام میں شرپندوں نے بھی شمولیت اختیار کی، جنہوں نے ہنگامے اور جلاؤ گھیراؤ کا خوفناک سلسلہ شروع کر دیا۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں پھیل گیا۔
پولیس نے سو فیصد جھوٹ بولا ۔ سی سی ٹی وی نے بھید کھولا۔ سترہ سالہ نوجوان کو روکنے پر پولیس نے دھمکایا ۔ نئے ڈرائیور سے گاڑی کھسک کر کچھ آگے چلی گئی ۔ جوابا پولیس کے بدمعاشں اراکین نے گاڑی کی سکرین پر الٹ کر اس لڑکے پر حملہ کر دیا اور سیدھی گولی اسکے سینے میں داغ دی ۔جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ یہ ارادتا قتل تھا جو جان لینے کو کیا گیا۔ ورنہ گاڑی بھگانے والے کی گاڑی کے ٹائر میں گولی مارنا کیا پولیس کو نہیں آتا ؟
پولیس از گلٹی۔۔۔
لیکن ان ہنگاموں میں شامل شرپسند صرف اس بات کے بہانے اپنے سمگلرز ،ڈرگ سیلرز، اور چوروں کو چھڑانے کے لیئے جیلوں تک پر حملہ اور ہوئے۔ بسیں، میٹرو، ٹرینیں جلائی گئیں۔ عمارتوں کو آگ لگائی گئی۔ جو کہ ناقابل معافی جرم ہے ۔ان سب دہشت گردوں کو عبرتناک سزائیں ملنی چاہیئں۔انہیں ملک سے ڈی پورٹ کیا جانا چاہیئے ۔ ویسے ان سارے ہنگاموں سے اس بات کا شبہ بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ فرانس حکومت یا اپوزیشن نے خود سے کچھ شرپندوں کو یہ ڈیوٹی سونپی ہو کہ وہ جلتی پر تیل چھڑکیں تاکہ فرانس میں مسلمانوں کی زندگیوں کو مزید تنگ کرنے کے لیئے مناسب بہانے اور مواقعے تلاشے جا سکیں ۔ کیونکہ اپوزیشن خصوصا ماری لوپین کی جماعت پہلے ہی غیرملکیوں اور مسلمانوں کو فرانس میں برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے اور متعدد بار انکے خلاف اپنی نفرت ظاہر کر چکے ہیں ۔
رپورٹ ۔
ممتازملک۔پیرس ۔فرانس













