فرانس تازہ ہنگامے ۔ رپورٹ ۔ ممتازملک ۔پیرس

0
1058

فرانس میں پچھلے ہفتے نانتغ شہر میں چاند رات کے روز الجزائر کے سترہ سالہ نوجوان نائل کو پولیس کے کہنے پر نہ رکنے اور پولیس پر گاڑی چڑھانے کا الزام لگا کر گاڑی کے سٹیرنگ پر بیٹھے ہوئے ہی نوجوان کو سینے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔
سترہ سالہ مقتول نائل ڈلیوی بوائے تھا اور رگبی کا اچھا کھلاڑی تھا۔ جیسے ہی یہ خبر فرانس کے مسلم عوام کو پہنچی دکھی عوام میں شرپندوں نے بھی شمولیت اختیار کی، جنہوں نے ہنگامے اور جلاؤ گھیراؤ کا خوفناک سلسلہ شروع کر دیا۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں پھیل گیا۔
پولیس نے سو فیصد جھوٹ بولا ۔ سی سی ٹی وی نے بھید کھولا۔ سترہ سالہ نوجوان کو روکنے پر پولیس نے دھمکایا ۔ نئے ڈرائیور سے گاڑی کھسک کر کچھ آگے چلی گئی ۔ جوابا پولیس کے بدمعاشں اراکین نے گاڑی کی سکرین پر الٹ کر اس لڑکے پر حملہ کر دیا اور سیدھی گولی اسکے سینے میں داغ دی ۔جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ یہ ارادتا قتل تھا جو جان لینے کو کیا گیا۔ ورنہ گاڑی بھگانے والے کی گاڑی کے ٹائر میں گولی مارنا کیا پولیس کو نہیں آتا ؟
پولیس از گلٹی۔۔۔
لیکن ان ہنگاموں میں شامل شرپسند صرف اس بات کے بہانے اپنے سمگلرز ،ڈرگ سیلرز، اور چوروں کو چھڑانے کے لیئے جیلوں تک پر حملہ اور ہوئے۔ بسیں، میٹرو، ٹرینیں جلائی گئیں۔ عمارتوں کو آگ لگائی گئی۔ جو کہ ناقابل معافی جرم ہے ۔ان سب دہشت گردوں کو عبرتناک سزائیں ملنی چاہیئں۔انہیں ملک سے ڈی پورٹ کیا جانا چاہیئے ۔ ویسے ان سارے ہنگاموں سے اس بات کا شبہ بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ فرانس حکومت یا اپوزیشن نے خود سے کچھ شرپندوں کو یہ ڈیوٹی سونپی ہو کہ وہ جلتی پر تیل چھڑکیں تاکہ فرانس میں مسلمانوں کی زندگیوں کو مزید تنگ کرنے کے لیئے مناسب بہانے اور مواقعے تلاشے جا سکیں ۔ کیونکہ اپوزیشن خصوصا ماری لوپین کی جماعت پہلے ہی غیرملکیوں اور مسلمانوں کو فرانس میں برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے اور متعدد بار انکے خلاف اپنی نفرت ظاہر کر چکے ہیں ۔
رپورٹ ۔
ممتازملک۔پیرس ۔فرانس

SHARE

LEAVE A REPLY