’عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ‘
احمد ندیم قاسمی نے برسوں پہلے جب یہ شعر کہا تھا تو ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہو گا کہ عزت و شہرت، داد و تحسین اور اہل وطن کی محبتیں ان کی زندگی میں کچھ اس طرح شامل ہو جائیں گی کہ یہ خیال ان کے لئے کچھ بے معنی سا ہو جاۓ گا۔ اس کا اعتراف قاسمی صاحب نے حال ہی میں مجھ سے اپنی ایک مختصر سی ملاقات میں کیا۔ بہت مختصر میں نے اس لۓ کہا کہ قاسمی صاحب نے علالت کے با وجود کچھ وقت ہمیں دیا۔ قا سمی صاحب ماشااللہ ستر برسوں سے ادب کے نخلستان میں پا با سفر ہیں ان کی ان ساری محنت کو چند جملوں میں سمونا ممکن ہی نہیں ۔
پیش ہے بی بی سی کے ساتھ دنیائے ادب کی نامور ہمہ جہت شخصیت احمد ندیم قاسمی سے انٹرویو کی تفصیل۔

سوال۔ قاسمی صاحب آجکل کیا لکھا جا رہا ہے شعر یا افسانہ؟
جواب۔ میں تو اب لکھنے سے ایک طرح سے تائب ہو گیا ہوں، بس کچھ علالت اور کچھ عمر کا تقاضا۔ کم ہی لکھتا ہوں۔ بے شمار افسانے ذہن میں ہیں لیکن وقت نہیں ملتا گو شاعری چلتے پھرتے ہو جاتی ہے۔ اکا دکا شعر کہہ لیتا ہوں مگر کسی زمانے میں جو بھرپور لکھنے کا سلسلہ تھا وہ اب نہیں رہا۔
س۔ کہیں تخلیقی سفر رک تو نہیں گیا؟
ج۔ نہیں تخلیقی سفر تو کبھی نہیں رک سکتا۔
س۔ کیا یہ بات درست ہے کہ آجکل پاکستان میں ادب کے لۓ ماحول کچھ سازگار نہیں رہا؟
ج۔ غلط کہتا ہے جو بھی کہتا ہے، بڑے بڑے آزمائشی وقت بھی آئے ادیبوں پر مگر ادیب لکھتا رہا۔ کسی بھی دور میں جمود کا تصور ادب کے لۓ درست نہیں ہے۔
س۔ کچھ ایسا لگتا ہے کہ آجکل ادبی محفلیں اور ادیب کچھ پس منظر میں چلے گۓ ہیں۔ میڈیا کچھ زیادہ حاوی ہوگیا ہے۔
ج۔ جی نہیں میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا نے ادب کو کوئی نقصان نہیں پہنچایاـ مشاعرے اور ادبی محفلیں پہلے کی طرح ہو رہی ہیں۔ یہ درست ہے کہ میڈیا چھایا ہوا ہے لیکن میڈیا کا اب ادب سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ وہاں بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کوئی کتاب پڑھی ہو۔
س۔ قاسمی صاحب آپکا یہ تخلیقی سفر کب سے جاری ہے؟
ج۔ میں نے پہلی نظم انیس سو اکتیس میں لکھی مولانا محمد علی جوہر کا لندن میں جب انتقال ہوا، میں اس وقت شیخوپورہ میں میٹرک میں پڑھ رہا تھا۔ میں نے یہ نظم یہ سوچ کر لکھی کہ بڑے لوگوں کے مرنے پر نوحے اور مرثیے لکھے جاتے ہیں تو مجھے بھی کچھ لکھنا چاہیۓ۔ چنانچہ میں نے ایک نوحہ لکھا، اور اتفاق سے میرے سرپرست چچا نے جب یہ نوحہ پڑھا تو انہوں نے بہت تعریف کی لہذا یہ نوحہ اس وقت لاہور سے نکلنے والے روز نامہ سیاست میں شائع ہو گیا۔ اب مجھے اسکا کوئی مصرعہ یاد نہیں رہا۔ افسانہ میں نے کوئی چار پانچ برس بعد لکھنا شروع کیا اور وہ بھی اپنے عزیز ترین دوست محمد خالد اختر کے کہنے پر کیونکہ انہیں فکشن پڑھنے کا بہت شوق تھا۔
س۔ ادب کی کس صنف کو تخلیق کرتے ہوئے آپ کو زیادہ لطف آیا؟
ج۔ یوں تو افسانہ اور شاعری دونوں ہی میری شخصیت اور سوچ کا اظہار ہیں اور دونوں ہی میرے لۓ اہم ہیں مگر فوقیت بحر حال شاعری کو حاصل ہے۔ میرے خیال میں شاعری فنون لطیفہ کی صدر اعظم ہے۔
س۔ایک تاثر ہے کہ شاعروں کو شہرت ملنے میں خاصا ہاتھ گلوکاروں کا بھی ہوتا ہے؟
ج۔ گلوکاروں کے ذریعے ملنے والی شہرت عارضی ہوتی ہے۔
میں نے صرف ایک مرتبہ ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم سے اپنی غزل گانے کی فرمائش کی تھی مگر یہ واحد واقعہ ہے، البتہ مجھے معلوم ہے کہ اکثر شاعر اپنی کتابیں اٹھائے بڑے بڑے گلوکاروں کے ہاں چکر لگاتے رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ چھپے ہوئے لفظ کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ آواز تو ہوا میں حلول کر جاتی ہے لیکن اصل چیز کتاب ہے۔
س۔ تو کیا کتاب کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی ہے؟
ج۔ بیشک نئی نسل بٹن دبا کر جب چاہے پڑھ لیتی اور دیکھ لیتی ہے مگر کتاب کی بات ہی کچھ اور ہے اور کتاب پڑھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ رک رک کر الفاظ کو محسوس کرنا ان کے معانی سمجھنا یہ سب کچھ اور ہی لطف دیتا ہے۔
س۔ قاسمی صاحب آجکل جو کچھ لکھا جا رہا ہے اس پر کچھ کہیۓ؟
ج۔ چند ہفتے پہلے میں نے ادبی جریدے فنون میں اسی موضوع پر اداریہ لکھا تھا کہ کرہء ارض میں آجکل جو نا انصافیاں ہو رہی ہیں جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں چاہے وہ فلسطین ہو کشمیر یا اب عراق ان سب حالات و واقعات کے بارے میں ہمارا ادب خالی ہے، خاموش ہے اور یہ بہت افسوسناک کمی ہے ہمارے ادب میں۔

س۔ آپ کیا سمجھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
ج۔ بس کچھ بے حسی عام ہو گئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں کچھ اس طرح کے سیاسی اور معاشرتی حالات سے لوگ گزر رہے ہیں کہ وہ قدرے لا تعلق سے ہو گئے ہیں۔ ایسے ایسے مظالم پاکستانی قوم پر ٹوٹے مثلاٌ ضیا الحق کے دور میں۔ اس سے زیادہ المیہ کیا ہوگا کہ احتجاج کرنے والی آوازیں اکا دکا سنائی دیں لیکن کوئی ادبی گروہ آمر کے خلاف نہیں اٹھا۔
س۔ قاسمی صاحب کیا آپ کے شاگرد بھی ہیں؟
ج۔ جی نہیں استادی شاگردی کا روگ میں نے نہیں پالا البتہ دوست آتے ہیں تصحیح کے لیۓ تو میں انہیں دوستانہ مشورہ دے دیتا ہوں لیکن معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ بہت ہی غیر معیاری اور گھٹیا ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ میں انہیں سمجھاتا ہوں۔ پھر اکثر لوگ میرے خلاف ہو جاتے ہیں میرے خلاف اخباروں میں لکھتے ہیں لیکن میرے نزدیک شاعری افسانے اور تنقید کا معیار ایک ہوتا ہے۔ گو اس معیار کی تشریح کرنا کچھ آسان نہیں مگر اچھا لکھنے والوں کے ذہن میں معیار ہوتا ہے۔ میں فن کے معاملے میں حق بات کہتا ہوں۔ آجکل غیر معیاری کتابوں کے ڈھیر زیادہ ہوتے ہیں۔
س۔ کیا اگلے بیس پچیس برسوں میں کوئی فیض/ انشا/ انتظار حسین یا احمد ندیم قاسمی ہو گا؟
ج۔ میرے خیال میں تو ضرور ہو گا۔ میں نوجوان نسل سے کبھی مایوس نہیں ہوا، جو لوگ آئندہ نسلوں کے بارے میں مایوسی کا اظہار کرتے ہیں میں ان کے سخت خلاف ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اکا دکا نام ایسے بھی ہیں جو بہت آگے بڑھیں گے اس وقت میں ان کا نام نہیں لے سکتا مگر شاعری نثر اور تنقید میں ایسے کئی نام ہیں البتہ ڈرامہ بہت پیچھے اور سستے پن کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔
س۔ قاسمی صاحب کیا آپکو یہ گلہ ہے کہ ادیبوں کو انکا مقام نہیں دیا جاتا؟
ج۔ نہیں بالکل نہیں، حالانکہ میں نے یہ شعر بہت عرصے پہلے لکھا تھا۔
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
لیکن سچ بات یہ ہے کہ صورتِ حال اب اس کے بر عکس ہے میں سمجھتا ہوں کہ جو محبتیں مجھ پہ نچھاور ہوئی ہیں اور جو پزیرائی مجھے ملی ہے وہ میرے لۓ اعزاز اور باعث فخر ہے۔
انٹرویو: ماہ پارہ صفدر، بی بی سی اردو












