اسلام اور حقوق العباد(28) ۔۔۔ شمس جیلانی

0
94

ہم گزشتہ قسط میں کسی کھانے کی محفل میں پہونچ کر اس کے آداب پر بات کر رہے تھے اور اس عادت کو زیر بحث لائے تھے کہ لوگ کھانا لینے کے دوران ہی باتیں شروع کر دیتے ہیں اور جو دوسر ے منتظر ہیں ان کا خیال نہیں کرتے ۔ اب آگے اس پر بات کرتے ہیں کہ وہ باتیں عموماً کیا ہوتی ہیں ؟ ان میں زیادہ تر غیبت ہوتی ہے، تجسس ہوتا بد گمانی ہوتی ہے، تمسخر ہوتا ہے۔ اور وہ بھی سرگوشیوں میں؟ جس کے لیے پہلے ہی ممانعت کردی گئی ہے کہ۔ جہاں ایک سے زیادہ فرد ہوں تو کوئی بقیہ کی اجازت کے بغیر سرگوشی نہ کرے وہ بھی صرف بھلائی میں برائی میں نہیں۔ اس وقت تو یہ مسائل نہ تھے مگر حضور (ص) پھر بھی ہر قبیلہ کے لوگوں سے جب وہ وفد کی صورت میں آتے تھے تو انہیں کی زبان میں بات کرتے تھے۔ مگر دنیا کے اب گلوبل ولیج بن جانے کے بعد ایک دوسرا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہےکہ دو ہم زبان کہیں مل جا ئیں تو وہ اپنی زبان میں ہی بات کرنا شروع کردیتے ہیں۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے بچا جا ئے۔ کیونکہ اس سے بھی یہ غلطی فہمی پیدا ہونے کا خطرہ ہے جو اس گمان پر متنج ہوسکتی ہے کہ وہ کسی طرح انکا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ جس کی اسلام نے سختی سے ممانعت کی ہے سورہ حجرات میں آیت نمبر 11اور12 میں یہ فرماکر کہ“ کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ ڑائے ممکن ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو،اور نہ خواتین ، خواتین کا مذاق اڑئیں ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ نہ آپس میں عیب لگاؤ نہ برے القاب سے پکارو، ایمان کے بعد گناہگاری نام برا نام ہے اورجو اس حرکت سے تائب نہ ہوں وہ ظالم ہیں ہ ۔ ترجمہ آیت نمبر 11 سورہ حجرات۔ حقوق العباد کو یعنی بندوں کہ حقوق کو ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے اس کو بہت معمولی بات سمجھتے ہیں ۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بہت سی آیات میں فرمایا ہے کہ اگر کسی نے توبہ کرلی اور شرک سے بچا رہا تو میں اس کو معاف کردونگا ،مگر کسی نے بندوں کے حقوق کو پامال کیا، تو میں معاف نہیں کرونگا کیونکہ وہ وہی کریگا جس کے حقوق پامال کیئے گئے ہونگے۔ اور اس آیت کے آخر میں یہ وعید بڑی سخت ہے۔ جس کو یہ فرماکر ختم کیا گیا ہے کہ ایمان لانے کے بعد بھی جو اس حرکت سے باز نہ آئے“ ظالم“ ہے۔ کیونکہ اس نے اللہ کے احکامات نہ مان کر اللہ کے ساتھ شرک کیا ہے۔ اور بندے کے حقوق پامال کیئے ہیں ، “کسی کے بھی حقوق جھٹلانا ظلم ہے“ ۔ یہاں اس نے اللہ کے احکامات کو نہ مان کر ایک ظلم کیا ہے اور دوسرا بندے کی عزت کو پامال کر کے ظلم کیا ہے لہذاایک ہی فعل میں دو مظالم کا مرتکب ہوا ہے۔ جبکہ ہما ری محافل میں یہ حرکت عام ہے اور صرف تففنِ طبع کے لیے کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث ہے کہ حضور (ص) نے فرمایا کہ“ ایک مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی پر ظلم و ستم نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اس کی غیر موجود گی میں اس کے لیئے دعاکرنا چاہیئے اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں(اور کہتے ہیں ) تجھے خدا یسا ہی عطا فرمائے۔ اور آیت 12 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ “اے ایمان والوں بہت بد گمانیوں سے بچو یقین مانو بعض بدگمانیا ں گناہ ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے، تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کریگا ،تمہیں اس سے گھن آئے گی ، اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ توبہ قبول کر نے والا اور حیم اور مہربان ہے“۔اس سلسلہ مں حضور (ص)کی صحیح بخاری میں بھی حدیث ہے کہ بدگمانی سے بچو، بد گمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے، بھید نہ ٹٹولو ، ایک دوسرے کی بزرگی حاصل کرنے میں نہ لگ جاؤ، حسد بغض اور ایک دوسرے سے منہ پھلانے سے بچو ، سب ملکر خدا کے بندے اور آپس میں بھائی بند ہو کررہو ، کسی مسلمان کو یہ حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال بند کرے۔ اسی سورت کی آیت نمبر 9 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے بندو ں کو ہداہت کی ہے کہ اگر دو مسلمان جماعتیں آپس لڑپڑیں تو ان میں میل کرادیا کرو؟ پھر (بھی) اگر ان میں سے ایک دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم سب اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے،اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرادو، عدل کرتے رہا کرو ،اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے“ جبکہ آج کے دور ہم خود عدل کے دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ پھر وہ ہمیں دوست کیسے رکھے گا ؟ خود سوچیئے اور جواب بھی خود کوہی دیجئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی فہم عطا فرمائے (آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY