ممبئی :ستمبر۔(ندیم صدیقی) اُردو کے معروف شاعر اور صحافی
(56سالہ)
اجمل سراج آج کراچی میں انتقال کر گئے۔
اجمل سراج کراچی ہی میں 14 اگست 1968 کوپیدا ہوئے تھے ان کے خاندان کے لوگ انڈیا سے ہجرت کر کے کراچی پہنچے تھے۔ اجمل سراج نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا تھا اور وہ مشہور روزنامہ ’ جسارت‘ سے وابستہ تھے۔ انہوں نے کئی برس ’ جسارت‘ کے ادبی صفحے کو ایڈیٹ کیا ،اسی اخبار میں حالاتِ حاضرہ پر روزانہ اُن کا ایک قطعہ چھپا کرتا تھا۔ مرحوم چند برس مشہور اسلامی اسکالر سراج منیر کے ساتھ بھی ان کے ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ(لاہور) سے وابستہ رہے اور’ ریڈیو ایف ہنڈریڈ‘ سے وہ ہر ہفتے ادبی پروگرام بھی نشر کرتے تھے۔
اجمل سراج کا ایک شعری مجموعہ’ اور مَیں سوچتا رہ گیا‘ 2005 میں شائع ہو چکا ہے۔ ان کی شعری مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اِس مجموعے کے دو ایڈیشن طبع ہوئے۔ دوسرا ایڈیشن دسمبر 2010 میں آرٹس کونسل آف پاکستان نے چھاپا تھا، جس کے فلیپ پر عرفان ستار اور خواجہ رضی حیدر نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا، آخری الذکر خواجہ رضی حیدر نے لکھا تھا : ’’
گزشتہ صدی کے آخری عشروں میں خود کو بطور شاعر پیش کرنے والا اجمل سراج اپنی نسل کا پہلا اور آخری شاعر ہے۔
‘‘
اجمل سراج پھیپھڑوں کے سرطان جیسے مرض میں مبتلا تھے جو جان لیوا ثابت ہوا، کراچی کے مشہور’ آغا خان ہسپتال‘ میں انہوں نے آج آخری سانسیں لیں۔
اجمل سراج ایک خوش اخلاق و خوش طبع صفات کے حامل شخص تھے، کراچی کے ایک سفر میں راقم السطور کی اُن سے تفصیلی ملاقات یادگار ہے جس میں انہوں نے اپنے اخبار(جسارت) کے لیے ہم سے انٹر وِیو بھی کیا تھا جس میں ادبی سوالات کے بعد مرحوم نے ہندستانی مسلمانوں کے بارے میں جب استفسار کیا تو ہم نے اُن کی طرف تبسم کرتے ہوئے، جب یہ جواب دِیا کہ آپ پاکستانیوں کی خوشحالی وغیرہ دیکھ کر ہم ہندستانی مسلمان اپنی مظلومیت کو بھول جاتے ہیں مگر آپ کے ملک کے لوگوں کی شدید فرقہ بندی اور اسی سبب قتل و غارت گری پر شدید دُکھ بھی ہوتا ہے اور مولاناحسرت موہانی جیسے لیڈر کا وہ جملہ یاد آتا ہے کہ جب اُن سے کسی صحافی نے سوال کیا تھا کہ حسرت صاحب !آپ پاکستان کیوں نہیں گئے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا کہ وہاں جاتا تو خدشہ تھا کہ کافر کہہ کر مارا جاتا، یہاں (ہندستان میں) اگر مارا گیا تو مسلمان سمجھ کر مارا جاؤں گا۔
اس کے بعد ہم نے جب اجمل سراج کے چہرے پر نظر ڈالی تو وہ ایک افسردگی کی کیفیت سے دوچار تھے۔
اُردو ادب کا مشہور ادبی جر یدہ ’مکالمہ‘ کے مدیر مبین مرزا نے فون پراپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا :
’’
اجمل سراج میرے لیے ایک دوست سے زیادہ برادر کی طرح تھے وہ اچھے غزل گو تھے ، اُن کی شاعری میں ذاتی تجربہ اور عصری حسیت بہت عمدگی سے آمیز ہوتی تھی، اجمل فطرتاً ایک دوست دار ، مخلص اورمحبتّی آدمی تھے، ایسے شخص کا رخصت ہونا فی زمانہ انفرادی نہیں ہمارا اجتماعی نقصان ہے۔
‘‘
اِدھر ایک دہے سے ہجری سال ِنو پر مسلم حلقوں میں مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر یہ رویہ عام ہوگیا، اس عمل پر اجمل سراج کی ایک نظم دور تک مقبول ہوئی جس نے بھی یہ نظم پڑھی یا سُنی ہے وہ اسے بھول نہیں سکتا۔
اجمل سراج نے عمر کم پائی مگر وہ اپنی کم عمری میں کچھ ایسا کر گئےہیں جو اُن کی شعری شناخت کو معدوم نہیں ہونے دے گا۔ ان سے جب کراچی میں ملاقات ہوئی تھی تو کچھ شعر بھی مرحوم سے سنے تھے اُن میں سے یہ دو شعر ِاس وقت ہمارے حافظے کے اسکرین پر روشن ہیں:
سُن ! یہ رونا نہیں گرانی کا
یہ تو بے قیمتی کا رونا ہے
**
ہے دیکھنے کی چیز تو یہ التفات بھی
دیکھو گے تم گریز بھی ایسا کروں گا مَیں
 کورنگی(کراچی) کے قبرستان میں اجمل سراج کے جسدِ خاکی کو سپردِ لحد کیا گیا ۔

SHARE

LEAVE A REPLY