اُردو کے چمن، ہمارے ادب اور اس کی گنگا جمنی
تہذیب اور نقد و نظر کی شمیم جاں،
پروفیسر شمیم حنفی بھی رخصت ہوگئے
ندیم صدیقی
اس کورونا دَور میں ہمارا ایک نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ ہمارےاحساس کو بھی شدید ضرب پہنچی ، بسا اوقات تو لگتا ہے کہ لفظوں کے تئیں ہماری قوتِ صَرف ضرور ختم ہوگئی ہے۔ ہم کو اپنے اوپر اعتماد اور اختیار کا بڑا اِحساس تھا مگر اس وبائے جاں نے ، چودہ پندرہ مہینوں میں ہماری ساری اکڑ اور ہمارا تمام تر کس بل نکال کر رکھ دِیا اور جتلا دِیا کہ
’’ ہم واقعی مجبورِ محض ہیں ۔‘‘
مگر ہم ہی میں کچھ افراد اپنے’ مختار‘ ہونے کا زَعم اب بھی رکھتے ہیں انھیں اب بھی اپنے اختیار اورکچھ ہونے کا احساس ہے اور اُن کا یہ پندار، اُن کی خوش فہمی کا یہ محل کب اڑاڑَڑَا دَھم ہوجائے کچھ کہا نہیں جاسکتا، لگتا ہے کہ وہ جو کہا گیا ہے کہ ’’ہم ڈھیل دیتے رہتے ہیں‘‘، تو شاید ابھی کچھ لوگ اس ڈھیل کے دورانیے میں ہنس کھیل رہے ہیں۔ خدا اُن کی اِس خوش فہمی کا دورانیہ بڑھا دے۔ آمین
روز کسی نہ کسی کی رخصتی نے دل کو مار رکھا ہے ،کبھی تو یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ سینے میں دل کے نام سے جو لوتھڑا ہے وہ دھڑک بھی رہا ہے ۔؟
کل تک اس دل نگری میں ہمہ وقت اِک جشن برپا رہتا تھا اب بس اِک ہوا چل رہی ہے، ہم سَن سَن ہی کی صدا سُن رہے ہیں۔ کبھی خیال گزرتا ہے کہ دیکھو، پیچھے بیٹھے میرے ندیم کی کیا حالت ہے ؟ پلٹے تو ندیم غائب است۔۔۔ اب وہ خبر بن رہا ہے یا خبر بن گیا ہے۔
تین چار دِن قبل کی بات ہے کہ عزیز م ظہیر انصاری نے بتایا کہ شمیم صاحب( حنفی) کی حالت ٹھیک نہیں ہے، انھیں ہسپتال میں بیڈ نہیں مل رہا ہے ، آکسیجن کا بھی مسئلہ ہے ، ماتھا ٹھنکا کہ خداخیر کرے۔ دوسرے دن پتہ چلا کہ شمیم صاحب کو ہسپتال میں داخلہ مل گیا ہے۔
82
سالہ محترم شمیم حنفی ایک گمبھیر بیماری سے لڑ چکے ہیں، لوگ بتاتے ہیں ایک بار کورونا کو بھی شکست دینے میں وہ کامیاب ہوچکے ہیں مگر دوبارہ اِس بلائے جاں نے جب انھیں اپنی گِرِفت میں لیا تو، پتہ چلا کہ اس بیماری کے سامنے ہماری فتح وتح کوئی معنیٰ نہیں رکھتی وہ جسے ہم شکست سمجھ لیتے ہیں ،وہ بھی رسّی کی ڈھیل ہی ہے ۔
محمد شمیم حنفی جو سلطان پور کے ایک ممتاز وکیل محمد یٰسین صدیقی کے گھر17 نومبر کو 1938پیدا ہوئے تھے، ایڈوکیٹ یٰسین صدیقی نے 1932 میں علیگڑھ مسلم یونی ورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کی تھی یعنی شمیم حنفی کی رگوں میں جو خون دوڑ رہا تھا وہ علیگیرین رنگ لیے ہوئے تھا۔
ان کے والد نے شمیم حنفی کی تعلیم و تربیت کا جو خاکہ بنایا وہ آزادانہ خطوط کا حامل تھا مگر اُس زمانے کی تہذیب کے مطابق ان پر ایک پابندی بھی عاید کی گئی تھی کہ وہ اذانِ مغرب کے بعد گھر میں دکھائی دیں۔ دیکھا جائے تو یہ عمل ان کی تربیت کا ایک جزوِخاص تھا۔
شمیم حنفی کی ابتدائی تعلیم گھرہی سے شروع ہوئی تھی اور اُن کی اوّلین اُستاد اُن کی والدۂ محترمہ تھیں اس کے بعد انھیں اُس دور کی روایت کے مطابق ایک مقامی مدرسے میں داخل کر دیا گیا جہاں ان کو ابتدائی درس، قرآن کریم کا ملا۔ ان کی پہلی کتاب علم القرآن تھی۔ انہوں نے اپنے مدرسے کے اوّلین استاد حافظ اولیا کو بھی آخر تک یاد رکھا۔شمیم حنفی نے اپنی تعلیم کے ابتدائی دنوں کے تذکرے میں ٹاٹ پر بیٹھنا اور لکڑی کی تختی پر کچی روشنائی سے حروف بنانے کو بھی فراموش نہیں کیا۔ ان کے والد چونکہ شہر کے ایک ممتاز وکیل تھے تو گردو نواح کے دیہاتوں سے آنے والے مؤکلین، جن کے لیےاُن کی کوٹھی ہی کے احاطے میں الگ سے کوٹھریاں بنی ہوئی تھیں جہاں وہ قیام کرتے تھے، اوروہیں وہ اپنا بھوجن بناتےتھے،رات کے بھوجن کے بعد ان مؤکلین کا رام چرتر کا پاٹھ بھی انہوں نے جیون بھر یاد رکھا۔ انہوں نے یہ بات بھی یاد دِلائی کہ اُس زمانے کےہندو مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ کھانا تو ہرگز نہیں کھاتے تھے مگر اُن کے دل کسی بھی تعصب سے پاک تھے ،دونوں فرقے ایک دوسرے کے تہواروں میں دل سے شریک ہوتے تھے۔
دیکھا جائےتو یہ عوامل بھی ان کی گنگا جمنی تربیت کا حصہ تھے جوپھراُن کے مزاج کا خاصّہ بن گئے۔ شمیم حنفی جس طرح اُردو والوں میں معروف و مشہور تھے تو اُسی طرح ہندی حلقوں میں بھی ان کامان سمان کیا جاتا تھا، اس گنگا جمنی مزاج کا ایک نتیجہ آخری دنوں میں یہ سامنے آیا کہ جب انھیں ہسپتال میں کہیں داخلہ نہیں مل رہا تھا تو اس موقع پراُن کے دوست اور ہندی کے مشہور اِسکالر اور سرکار دربار میں با رُسوخ اشوک واجپئی اُن کے کام آئےاور انہوں نے شمیم حنفی کے علاج و معالجے کے لیے ہسپتال میں داخلے کی راہ ہموارکی۔
’
موت کا ایک دن معین ہے‘ جو اپنے وقت پَہ آہی رہتی ہے اور اُس وقت کوئی حیٖلہ کوئی بہانہ کام نہیں کرتا۔ اُن کا وقت جمعرات 6 مئی کو مقرر تھا اور وہ فرشتۂ اجل کے ساتھ ہولیے اور آن کی آن تمام دُنیا میں’’ شمیم حنفی بھی مرحوم ہوگئے ‘‘ کی خبر عام ہوگئی۔ شمیم صاحب ابھی نہ جاتے ،کچھ دِن کچھ برس اور جیتے۔۔۔ مگر وہ اپنی زندگی کا تمام کام کر چکے تھے اور ایک احسن طریقے سے۔
وہ اُن لوگوں میں سے نہیں تھے کہ جو اپنے کو دُہرا تے ہیں اوراپنی شہرت و ناموری کا ڈنکا بجتے دیکھ کر سینہ پُھلاتے ہیں۔ وہ دورِحاضر کے اہل علم و قلم کو دیکھتے تو دل ہی دل میں کڑھتے تھے کہ ان میں اکثر اپنی ڈگڈگی ساتھ لیے پھِرتے ہیں، فنکار کا ایک وصف’ بے نیازی‘ جو شمیم صاحب کے ہاں خوب خوب تھا، شمیم صاحب کے نزدیک’ خود تشہیری‘ معیوب عمل تھا مگر کیا کِیا جائے یہ عارضہ تو کورونا سے بھی پہلے ہمارے ہاں آیا اور ایسا پھیلا کہ اس کی ویکسن بھی بننے سے رہی۔
شمیم حنفی ہمہ وقت غوروفکر کے آدمی تھے، وہ دُنیا کے موہ جال میں آنے والوں میں سے نہیں تھے۔ شمیم صاحب کس درجے کے عالِم اور کیسےصاحبِ نقد و نظر تھے!! یہ کس سے چھپا ہوا تھا یا چھُپا ہوا ہے۔ یہ پورا ماجرا دو چار برس کا قصہ نہیں بلکہ نصف صدی سے زاید کی رُوداد ہے۔ وہ اُردو کے استاد تھے وہ لکھنا ہی نہیں بولنا بھی جانتے تھے جس کی بہتر گواہی پاکستان کےادبی فیسٹِول والے دیں گے کہ وہ کئی باراورتواتر سے ان فیسٹِول میں جاتے رہے ہیں۔ وہ ہمارے اُن گنے چنےاہل ِعلم میں سے تھے جو بولنے پر بھی اتنے ہی قادر ہوتے ہیں جتنا لکھنےپراوران کا بول گوکھرونہیں بلکہ گلابی گلابی تھا جس کی خوشبو دِل و جاں کو معطر کر دیتی تھی، وہ اسمِ بامسمیٰ یعنی ’’شمیم ہی شمیم‘‘ تھے۔
گورکھپور کےپروفیسررگھوپتی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پارس تھے پارس ۔۔۔ اور پارس کا ایک اہم وصف یہ بھی ہوتاہے کہ جو اِس سے مَس ہوتا ہے وہ بھی پارس بن جاتا ہے شمیم حنفی ایک ایسے ہی پارس تھے۔ فراقؔ گورکھپوری اپنے زمانے میں انگریزی ادب کے مثالی اسکالر تھے ویسے پائے کے اسکالراب اُردو کو نصیب نہیں ۔ فراقؔ کے بارے میں یہ بات عام طورپر سنی گئی کہ وہ جب بولتے تھے تو لگتا تھا کہ رگھو پتی یا فراق نہیں بول رہا ہے بلکہ سننے والے کو محسوس ہوتا تھا کہ ’علم‘ براہ راست ہم سے مخاطب ہے۔
فراقؔ سے مستفید ہونے والوں کی اک لمبی فہرست ہے مگراستفادہ کرنا بھی اک خوبی ہے اور وہی خوبی کہ گنگا تو بہہ رہی ہے اب اس سے آپ اپنے تن کو پاک کرتے ہیں یا اپنے من کو اشنان کراتے ہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے۔
!!
اسکولی تعلیم کے بعد شمیم حنفی اعلیٰ تعلیم کے لیے الہٰ آباد منتقل ہوگئے جہاں شمیم حنفی کو اعجاز حسین اور احتشام حسین جیسے رہبر بھی میسر آئے تو اس طرح اُن کے ہاں علم و ادب کا اعجاز بھی راسخ ہوا اور نقدو نظر کا احتشام بھی ان کےکردار میں ڈھلتا چلاگیا۔ ان اساتذہ کے ساتھ وہ فارسی کے استاد مولوی مغیث الدین کے درس کو بھی یاد کرتے رہے کہ اس استاد ہی کی وجہ سے وہ فارسی کےڈراموں کاترجمہ کر سکے۔
سلطان پور کے اس پٗوت کو شمیم حنفی بنانے میں اُن گروؤں کا بھی کردار رہا ہے جو انھیں تروینی کے شہر الہ آباد میں گنگا،جمنا کےکلچر میں رنگ چکے تھے مگر وہ جو کہتے ہیں کہ گھٹی میں جو پڑ جاتا ہے وہ تمام عمر اپنا کام کرتا ہے۔ ان کے گھر میں نیازؔ فتح پوری کا مجلہ ’ نگارؔ‘ اور’ جمالستانؔ‘ جیسے دیگر جرائد آتے تھے اور ان کے ذہن میں ادب کا بیج انہیں رسائل سےپڑا۔ مشہور شاعر مجروحؔ سلطان پوری نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ’’ شمیم میاں! تمہارے والد ہی نے ہمارا تخلص مجروحؔ تجویز
کیا تھا ۔‘‘واضح رہے کہ مجروح اوائل ِعمری میں اسرارؔ تخلص کرتے تھے۔
اس بات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ان کے والد یٰسین صدیقی کو بھی کس درجہ شعرو ادب سے شغف رہا ہوگا۔ شمیم حنفی کا حافظہ بہت قوی تھا تو ان کے والد ین کی تربیت کا یہ عنصر بھی قابل ذکر ہے کہ خود شمیم حنفی نے بتایا تھا کہ’’ میرے والد نے اُس دور کے ممتاز شعرا کی نظمیں مجھےیاد کرائیں۔ جس سے میرے حافظے کو خوب جِلا ملی۔‘‘ جس سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ انہوں نے جو کچھ پڑھا وہ بھولے نہیں۔اپنے والد ہی کے کہنے پر انہوں نے ٹیگور کو پڑھا۔
انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں راشٹریہ گیت کے شاعرگرودیو کے تعلق سے اس بات کا بھی ذکر کیا، جو یہاں نقل ہونی چاہیے کہ ٹیگور نے 1906 میں ایک لکچر میں کہا تھا کہ’’ نیشنل ازم ایک بے ہودہ نظریہ ہے۔ ‘‘ ظاہر ہے کہ آج کے تنگ نظر دَور میں یہ کہنا تو کجا یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
شمیم حنفی نے اپنے والد کی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سےاعلیٰ سند ہی حاصل نہیں کی بلکہ اس مادرِ علمی میں انہوں نے پڑھایا بھی اور پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ ( دہلی)منتقل ہو گئے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں آلِ احمد سے سرورِعلمی حاصل کیا اور علم وادب کے شمیمِ جاں بن گئے۔
عام طور پرہمارے گھروں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا جاتا ،بس ہَوا جس رُخ پر لے جائے اُس طرف آدمی اُڑ جاتا ہے مگر شمیم حنفی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اُن کے والد کو خود علم سے شغف تھا۔ شمیم حنفی بتاتے تھےکہ اُن کے والد کا جب انتقال ہوا تواُن کے سِرہانے دو کتابیں تھیں جس میں سےایک انگریزی کی اور دوسری کتاب جو تھی وہ شیخ علی ہجویری داتا گنج بخش کی’ کشف المحجوب‘ تھی۔ اس تذکرے سے ان کے والد کے ذہنی رجحان کا اتہ پتہ ملتا ہے مگر اسی کے ساتھ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ان کے والد نے اسکول کےآٹھویں نویں کلاس کے زمانےمیں جو کتابیں ان کو لا کر دیں تو ان میں سے ایک کتا بچہ’ کمینیوزم مینی فیسٹیو ‘بھی تھا اوراس کتاب کو پڑھنے کی تاکید بھی کی، یعنی شمیم حنفی کے ہاں جو سیکولر مزاج تھا اس میں ان کے والد کی تربیت کا بڑا ہاتھ تھا، شمیم حنفی کو اپنی گنگا جمنی تہذیبی نفس کا بڑا اِحساس تھا انہیں اس امرپر خوشی بھی تھی کہ اس احساس نے کسی غرور کا چولا نہیں بدلا۔ علم کا بنیادی نتیجہ یہی ہونا چاہیے کہ آدمی کے ہاں آدمی کے تئیں احترام و محبت پیداہو اور وہ ہر تعصب و تنگ نظری سے پرے اپنے تشخص کو دریافت کرلے، دور ِحاضر میں شمیم حنفی اس تشخص کے حامل ممتاز دانشور اورعالِم تھے۔ شمیم حنفی کےمزاج کا ایک وصف یہ بھی تھا کہ ان کے ہاں علمی غرور تو کجا علم کا تفاخر بھی نہیں دیکھا گیا۔ ورنہ ہمارے مشاہدے میں ایسے اہل ِعلم و ادب بھی ہیں کہ جن کے ہاں علم اپنے تفاخر و غرور کے ایسے ایسے مناظر دِکھا تا تھا کہ وہ دوسروں کے حق ہی میں نہیں خود اپنے ہی غضب ِ علمی کے سَیل میں بہہ جاتے تھے۔
شمیم حنفی کے ساتھ دوحہ قطر کا ایک سفر ہم زندگی بھر نہیں بھول سکیں گے کہ یہی وہ سفر ہے جس میں شمیم حنفی سے ہمارا تعارف ہوا اور ایسے ہوا کہ جیسے شمیم صاحب تو ہمیں بہت پہلے سے جانتے تھے۔ قطر کے ساحلِ سمُندَر پراُن کے ساتھ ہمارے عزیزان، عزیز نبیل،ریاض منصوری، ندیم ماہر، احمداشفاق، حامد اقبال اور منصورعثمانی وغیرہ اس طرح گھلے ملے سَیر کرتے رہے کہ ہم سب جیسے برسوں سے شمیم حنفی کے حلقہ بگوشوں میں تھے اُس وقت کی ایک تصویر تو اب یادگار بن گئی ہے۔
کچھ لوگ انکسارِعلمی کے غرور میں بھی دیکھے جاتے ہیں اور یہ غرورتو ہر طرح سے ہلاکت خیز ہوتا ہے شکر ربّی کہ شمیم صاحب اس عذابِ انکسار سے بھی بچے رہے۔
علم نافع کی ایک اصطلاح سب نے پڑھ اور سُن رکھی ہے مگر اس کی تعبیر ایک خاص تناظر میں کی جاتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی علم، نافع ہو سکتا ہے جو آدمی کو محض عالِم ہی نہ بنائے بلکہ انسانیت کا مجسم و متحرک کردار بنا دے۔ شمیم حنفی اس تشخص اور اس کردار کا ایک مثالی نمونہ تھے اے کاش ہم اُن کےاس کردار کو اپنے کردار میں منتقل کر کے’’علم نافع‘‘ کی حقیقی تعبیر اور شمیم صاحب کو سچا خراج پیش کر سکیں۔
شمیم حنفی کی رِحلت کی خبروں میں ان کی کتابوں اور ان کے مخصوص ادبی رویوں کو سب نے بیان کیا ہوگا ،ہم نے اس مضمون میں ان کی ذہنی تربیت اورایک سچے اور حقیقی عالِم کے انسانی کردار پر روشنی ڈالنے کی سعیٔ ناتمام کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ خدا اپنے بندوں سےاس طرح سلوک کرنے والے کے ساتھ رحم و کرم ہی کا معاملہ کرے گا۔













