یہ گزرتے لوگ یہ حیران کرتی صورتیں
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے سب ہنر مٹی کا ہے
یہ عمدہ شعر مشہور شاعر جناب کرامت بخاری کا ہے. میرا اعزاز یہ ہے کہ بخاری صاحب میرے دوست اور بیچ میٹ ہیں. میں جب 1982 میں سول سروس اکیڈمی میں ٹریننگ کے لیے گیا تو کئی اچھے شعراء کو اپنا بیچ میٹ پایا. ان میں سرفہرست محترمہ پروین شاکر تھیں. ان کے علاوہ کرامت بخاری, سید جاوید اور ظفر حسن رضا بھی ہمارے بیچ کے نامور شعراء میں شامل تھے (اور اب تک ہیں). ان سب میں سب سے زیادہ پرگو جناب کرامت بخاری ہیں جن کے اب تک صرف شاعری کے آٹھ مجموعے شائع ہوچکے ہیں جبکہ سات کتابیں اس کے علاوہ بھی ہیں.
گزشتہ روز اچانک مجھے ان کی دو تازہ کتابیں “طلوع فردا” اور “خواب ریزے” موصول ہوئیں. “طلوع فردا” نظموں کا مجموعہ ہے جس میں زیادہ تر آزاد نظمیں ہیں. اور “خواب ریزے” ان کی غزلوں کا تازہ ترین مجموعہ ہے. میں برادرم کرامت بخاری کا ممنون ہوں کہ اس تنہائیوں کے موسم میں انہوں نے مجھے مصروف رکھنے کے لیے اتنے قیمتی تحائف سے نوازا. بہت شکریہ کرامت بخاری
سید ابرار حسین













