میانمار اور بنگلا دیش کی سرحد پر نو مینز لینڈ میں پھنسے 7ہزار روہنگیا مسلمانوں کو مہاجر کیمپوں میں منتقل کردیا گیا ہے، دو ماہ کے دوران بنگلا دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 6 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔
میانمار کے مظالم، سفر کی دشواریاں، آبادکاری کے مسائل، روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق 6 ہزار 9 سو روہنگیا مسلمانوں میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی تھی جو بنگلا دیشی سرحد پر پھنس گئے، جنہیں وہاں سے کیمپوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
بنگلا دیش کے ان کیمپوں میں 25 اگست کے بعد پہنچنے والے روہنگیا کی تعداد 5 لاکھ 89 ہزار ہوچکی ہے، یہ تعداد 10 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
پناہ گزینوں میں 60 فی صد بچے اور 10 فی صد حاملہ خواتین ہیں، میانمار میں ہونے والے مظالم ان کے ذہنوں پر نقش ہو چکے ہیں۔
بنگلا دیش پہنچنے والے بچے اور خواتین شدید خوف اور صدمے کی حالت میں ہیں، اکثریت کو چھت تک میسر نہیں۔
میانمار میں فوج کے مظالم سے بچ کر بنگلا دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمان اب موسم اور حالات کی سختی سے بچنے کے لیے امداد کے منتظر ہیں۔













