سعودی عرب نے عرب لیگ کے اجلاس میں دوسری رکن ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف ایک شفاف، سخت اور سنجیدہ موقف وقت کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ تہران کے ساتھ نرمی رکھنے سے اُس کے جارحانہ عزائم میں اضافہ ہو گا۔ الجبیر کے مطابق ایسی صورت میں ایران عرب اقوام کے معاملات میں مداخلت کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے عرب اقوام پر واضح کیا کہ ایران کے ساتھ برتاؤ میں غیر مفاہمانہ رویہ اپنانا ہو گا۔ عرب لیگ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سن 2015 سے اب تک یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا سعودی سلطنت کی جانب 80 بیلسٹک میزائل داغ چکی ہے۔












