حارث شریفوں کے خلاف ایک انتہائی اہم گواہ کو جال میں لانے

0
815

کرپشن ریفرنسز میں اپنے دفاع کیلئے شریف خاندان کے ہائر کئے گئے وکیل کے سامنے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ہیرےکی چمک ماند پڑگئی‘ پاناما پیپرز جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو جرح کے پہلے تین روز کے دوران خوب گھمایا حتیٰ کہ ضیاء عدالت میں جے آئی ٹی کے تعصبات اور دہرے معیار کو آشکار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ حارث شریفوں کے خلاف ایک انتہائی اہم گواہ کو جال میں لانے اور مختلف گواہوں کے لئے دہرے معیارات کےذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کو بے نقاب کرنے میں کامیاب رہے۔ حتیٰ کہ وہ عدالت میں ان کا جھوٹ پکڑنے میں اس وقت کامیاب رہے جب ضیاء نے پہلے روز کہا کہ اپنی 29؍ سالہ پولیس سروس کے دوران انہوں نے کسی گواہ کو پیشگی سوالنامہ نہیں بھیجا مگر دوسرے روز جے آئی ٹی کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ جے آئی ٹی نے متفقہ فیصلے کے تحت لندن میں جیریمی فری مین کو کوئیسٹ سالیسٹرز کے ذریعے پیشگی سوالنامہ بھجوایا۔ جےآئی ٹی کے ہیرے اور قومی احتساب بیورو کے گواہ کی شاید تو تیاری مکمل نہ تھی یا وہ ایسےگواہ کی طرح جواب دیتے

رہے جسےکیس کےنتائج میں خاص دلچسپی ہوتی ہے ‘یہی وجہ ہے کہ انہیں جرح کے دوران بار بار اپنی بات کی وضاحت کرنا۔ پڑی ایک موقع پر جب واجد ضیاء نے اپنے جواب کی وضاحت کرنا چاہی تو خواجہ حارث نےکہا کہ کوئی بھی گواہ جب زیادہ وضاحتیں دیتا ہے تو یہ سمجھ جاتا ہے کہ اسے کیس کے نتیجے سے کوئی خاص دلچسپی ہے۔ ایون فیلڈریفرنس میں میاں نواز شریف کا کردار:۔ خواجہ حارث نے واجد ضیاء کو عدالت کے سامنے یہ ظاہر کرنے پر مجبور کر دیا کہ کوئی ایسے دستاویزی ثبوت موجود نہیں جن سے نواز شریف کا لندن پراپرٹیز اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں آف شور کمپنیوں سے کوئی تعلق ثابت ہو۔ واجدضیاء نے تصدیق کی کہ لا فرم موزیک فونسیکا کاکوئی مراسلہ یا دستاویز یہ ظاہر نہیں کرتی کہ نواز شریف کمپنیوں یاجائیدادوں کے مالک یادوآف شور کمپنیوں کےاصل یابینی فشل مالک تھے۔ ناتوبرٹش ورجن آئی لینڈ کی ایف آئی اےاورنہ ہی اےجی نے قرار دیا کہ نواز شریف کا کسی آف شور کمپنیوں سے کوئی تعلق تھا۔ضیاء نے اس امر کا جواب بھی نفی میں دیاکہ نواز شریف آف شور کمپنیوں کے ٹرسٹی‘سیٹلر یا بینی فشری تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ملا اورنہ ہی کسی گواہ نے جےآئی ٹی کوبتایا کہ کبھی بھی نوازشریف کے نام سے ان آف شور کمپنیوں کےبیئررسرٹیفکیٹ جاری ہوئے۔ ضیاءنےایک سوال کےجواب میں بتایا کہ کسی محکمے یا رجسٹری دفاتر سمیت کسی سے بھی مراسلت میں نواز شریف کو لندن جائیدادوں کا مالک ظاہر نہیں کیا گیا‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بل نواز شریف کے نام سے جاری ہوا اورنہ ہی ان کے نام سے کوئی کرائےکی رسیدملی ہے۔واجدضیا ء نے کہاکہ جے آئی ٹی کوکوئی ایسابینک اکائونٹ نہیں ملاجس سےیہ ثابت ہو کہ نواز شریف نے لندن پراپرٹیز کی خریداری کیلئےکوئی ادائیگی کی‘ضیاءنےجرح کے دوران یہ بھی کہاکہ کسی گواہ نےیہ نہیں کہا کہ نواز شریف گلف سٹیل کے مالک تھے یا بعدمیں اس کی فروحت سے انہوں نے کوئی فائدہ حاصل کیا۔گلف سٹیل کی فروخت سے حاصل رقم کی منتقلی کے حوالےسےواجد ضیاءنےعدالت کو بتایا کہ اس امرکا کوئی ثبوت نہیں کہ اس رقم سےنوازشریف کوفائدہ ملاحتیٰ کہ الثانی خاندان کےخطوط میں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ نواز شریف کو واپس کی گئی رقم سےکوئی فائدہ ملا۔ مختلف گواہوں کیلئےجےآئی ٹی کا دہرامعیار:۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم( جے آئی ٹی) نے کسی قسم کی تحقیقات‘ مشاورت‘ مراسلت اور فرم سے رابطے اور خطوط سے متعلقہ دستاویزات ثبوت حاصل کئے بغیر اور یہ جانے بغیر کہ یہ خط کس نے بھیجے اور کس کی درخواست پر بھیجے گئے‘ نجی لا فرم موزیک فونسیکا کی باتوں کو درست تسلیم کرلیا‘ یہ بات احتساب عدالت میں خواجہ حارث کی جرح کے جواب میں واجد ضیاء کہنےپر مجبور ہوئے ۔تاہم قطر کے شہزادےکےخطوط کےحوالے سے یہ معیار نہ اپنایاگیا جس نے ناصرف سپریم کورٹ کو دو خطوط لکھے بلکہ جے آئی ٹی کوبھی3خطوط بھیجے جن میں سپریم کورٹ کے لکھے گئے خطوط کے مندرجات کی تصدیق کی گئی۔خواجہ حارث نےواجدضیاءسےشیخ حمدبن جاسم کیطرف سے سپریم کورٹ اور بعد ازاں جے آئی ٹی کولکھے گئے خطوط کے بارے میں کئی سوالات کئے تو واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ قطری خط کےساتھ ٹھوس دستاویزات نہیں تھیں اسلئےجےآئی ٹی نےاسےمستردکردیا۔حارث نے سوال پرضیاء نےبتایا کہ 25 مئی 2017ء اور11 جون2017 ء اورپھر 26 جون 2017ء کو لکھے گئےاپنے3خطوط میں قطری شیخ نے فاضل عدالت کو قبل ازیں لکھے گئے اپنے دو خطوط کے مندرجات کی توثیق کی۔ضیاء نے تسلیم کیاکہ جےآئی ٹی نے قطری شہزادے کو کسی قسم کا سوالنامہ بھیجنےاورقطر میں پاکستانی ہائی کمیشن کے علاوہ کسی بھی جگہ اسکا بیان قلمبند کرنےسےبھی انکار کردیا تھا۔ضیاء نےتسلیم کیا کہ قطری شہزادےکوجےآئی ٹی کی طرف سے بھیجے گئے خطوط میں آگاہ کیا گیاتھا کہ وہ بیان ریکارڈ کرائیں اور انہیں کسی اکائونٹنٹ کی معاونت حاصل کرنے کی اجاز ت نہیں ہوگی اور یہ کہ ان کا انٹرویو کئی گھنٹوں پر مشتمل بھی ہوسکتا ہے۔ ضیاء سے جب موزیک فونسیکا کے دو خطوط سے متعلقہ دستاویزات سے متعلق سوال کیاگیا تو انہوں نےجواب دیا کہ جے آئی ٹی نے وہ دستاویزات حاصل نہیں کیں مگریہ فرض کرلیا گیاکہ ان خطوط کے مندرجات درست ہیں مگر قطری خطوط کے بارے میں ایسانہیں کیاگیا۔ضیاء نے تصدیق کی کہ موزیک فونسیکا کےدوخطوط بی وی آئی کی ایف آئی اے سے تصدیق شدہ تھے مگر جے آئی ٹی نے لاء فرم سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور یہ کہ ان خطوط کے ساتھ متعلقہ دستاویزات تھیں مگر وہ بھی جے آئی ٹی نے حاصل نہیں کیں۔حارث نے پھر پوچھا کہ کیا جے آئی ٹی نے لاء فرم کے خطوط کے آخر میں لکھے گئے ناموں والے لوگوں سے کوئی رابطہ کیا اور ان سے بیانات دینے کا کہا تو ضیاء نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ ضیاء نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ جے آئی ٹی نے بی وی آئی کو بھی لاء فرم کے خطوط سے متعلقہ دستاویزات کیلئے استفسارنہیں کیا۔ قطری شہزادےکیلئےسوالنامہ نہیں اور جیریمی فریمین کیلئے سوالوں کی فہرست :۔ جمعرات کو واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ پولیس میں 29 سالہ سروس کے دور ا ن انہوں نے کسی گواہ کو سوالنامہ نہیں بھیجا۔ انہوں نےکہاکہ جے آئی ٹی نے ہی قطری شہزادے کو سوا لنا مے نہ بھیجنےکافیصلہ کیا تھا جبکہ اگلے ہی روز گواہوں کے اسی کٹہرے میں کھڑے ہو کر واجد ضیاء نے اسی عدالت کو بتایا کہ کوئیسٹ سالیسٹرزنےحسین نواز کی طرف سے پیش کئے گئے سمجھوتے کی تصدیق کے حوالے سے جیریمی فریمین کو سوالنامہ بھجوایا۔ انہوں نے کہا کہ فری مین کو سوالنامہ بھیجنے کا فیصلہ ان سمیت جے آئی ٹی نے متفقہ طور پر کیا۔ ضیاء نے عدالت کو مزید بتایا کہ فری مین سےجواب موصول ہونے کے بعد جے آئی ٹی نے اسےغیر اطمینان بخش قرار دیا مگر نہ تو فری مین سےدوبارہ رابطےکی کوئی کوشش کی گئی اور نہ ہی انہیں بیان قلمبند کرانے کاکہاگیا۔ گلف سٹیل کی فروخت کے سمجھوتے:۔ حارث نے عدالت کے روبرو ضیاء کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ 1978ء کے گلف سٹیل کی فروحت کے سمجھوتے کو تو درست تسلیم کر لیاگیامگرانہوں نےکہا کہ 1980ء میں حصص کی مزید فروحت کے بارے میں شریفوں کی طرف سے پیش کیا گیا سمجھوتہ جعلی تھا۔حارث نے انہیں کہا کہ وہ عدالت کے سامنے اس سمجھوتے کےمندرجات پڑھیں جن میں ضیاء نے اتفاق کیا کہ 1978ء کاسمجھوتہ دبئی کی عدالت میں رجسٹرڈ کیا گیا جبکہ 1980ء کے سمجھوتے میں کسی عدالت میں رجسٹریشن ظاہر نہیں کی گئی ۔ ضیاء نے کہا کہ بعد میں ہونے والا سمجھوتہ جعلی تصور کیا گیا کیونکہ دبئی کی عدالتوں سے اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا‘ اس پر حارث نے ان سے پوچھا کہ جب سمجھوتہ عدالت میں رجسٹر یشن کا متقاضی نہیں تو اسکی رجسٹریشن کیسے ضروری ہو گئی؟ حارث نے جے آئی ٹی کے ہیرے سے پوچھا کہ کیا جے آئی ٹی نے اہلی خاندان سےرابطہ کیا جنہوں نے گلف سٹیل مل خریدی تھی؟ تو انکا جواب نفی میں تھا۔ مشینری کی شارجہ سےجدہ منتقلی:۔ حارث نے ضیاء سےسوال کیا کہ کیاانہیں معلوم ہے کہ سعودی عرب میں مل لگانے کیلئےمشینری شارجہ سےجدہ بھیجی گئی تھی‘ دبئی سے جدہ نہیں؟ ضیاء نے جواب دیا کہ ایک ایم ایل اے یو اے ای بھیجا گیااورشارجہ یو اے ای کا حصہ تھا‘اس پر حارث نے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ جےآئی ٹی رپورٹ کے ساتھ لف لیٹر آف کریڈٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پرانی ری رولنگ مل تھی سکریپ نہیں؟ ضیاء نے ایل سی پڑھنے کے بعد جواب اثبات میں دیا۔ پھر ضیاء نے حارث کےسوال کا یہ جواب دیا کہ 2001-2003ءمیں شارجہ سےجدہ پرانی ری رولنگ مل کی منتقلی کی تصدیق کیلئے یو اے ای حکام کے پاس جے آئی ٹی نے کوئی ایم ایل اے نہیں بھیجا تھا۔ العزیز یہ سٹیل مل کا قیام:۔ العزیزیہ سٹیل مل کے قیام کے بارے میں خواجہ حارث نے ضیاء سے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کو یہ ثبوت ملا کہ یہ میاں شریف (مرحوم) نےقائم کی اور اسےتین لوگوں کو منتقل کیا گیا جس کا ضیاء نے اعتراف کیا۔ العزیزیہ سٹیل میاں شریف کی طرف سے لگائی گئی اور پھر حسین نواز‘ رابعہ شریف اورعباس شریف (مرحوم) کو منتقل کی گئی۔جےآئی ٹی کو کوئی ثبوت نہیں ملاکہ مرحوم عباس شریف اور رابعہ شریف نے کبھی کاروبارمیں حصہ لیا یا العزیزیہ سٹیل سےکوئی فائدہ اٹھایااور یہ کہ جے آئی ٹی نے رابعہ شریف یاعباس شریف کےورثاءمیں سے کسی کو کوئی نوٹس نہیں دیا۔ ضیاء نے کہا کہ حسین نواز نےپہلےیہ کہا تھاکہ صرف وہی یہ کاروبار چلارہےتھےاوربعد میں کہا کہ دو اور بھی حصص یافتگان تھے۔ حارث یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے کہ جے آئی ٹی نواز شریف کےخاندان کے حوالےسےمتعصب تھی کیونکہ اس نے دوسرےحصص یافتگان سےتحقیقات نہیں کی اوراپنی توجہ صرف نواز شریف کےبیٹےتک محدودرکھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY