پاؤں تلے زمین نا سر پر چھت

مجے یاد ہے کہ بچپن میں ’طلسم ہوش ربا‘ پڑھتے ہوئے، کہانی ختم ہونیے کے بعد بھی ذہن میں اک سوال اٹکا رہا کہ یہ ہوا کیسےِ، بلکل یہ ہی صورتحال اس مرتبہ پاکستان میں اس وقت پیش آئی، جب میں نے ایک پانچ مرلے کے رہاٗشی پلاٹ کی قیمت پوچھی تو پچترلاکھ سن کرمیرا سر جیسے چکرا سا گیا۔ نہ یہ کوئی خواب تھا اور نہ کوئی افسانہ، ایک کھلی حقیقت تھی۔
میں نے سوچا
رہائشی سکیموں میں چھوٹے پلاٹ کم آمدنی والے افراد کے لئے بنائے جاتے ہیں مگران کی تو کئی نسلیں بھی گزر جائیں تب بھی ان کے لئے یہ سوچنا بھی ممکن نہیں رہا۔
یہ امر اپنی جگہ توجہ طلب ہے کہ ملک کی معیشت کے تناظر میں دیکھا جاٗئے، تو یہاں صنعتی پیدا وار میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، ملک کا توانائی کا شعبہ خود کفیل نہیں ہو پایا جو کسی بھی معیشت کا بنیادی پہیہ ہوتا ہے۔ بیروزگاری کا گراف بہت ہی اونچا ہے، بیرون ملک سے کوئی قابل ذکر سرمایہ کاری نظرنہیں آرہی، تو ملک میں ایسے کون سے عوامل ہیں جو زمین کی قیمتوں کوپر لگا کر آسمان کی وسعتوں تک پہنچا رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسا گورکھدھندا ہے جو سر دست میرا موضوع نہیں

اس میں شک نیں کہ آبادیوں کا پھیلاؤ اور زمین کی قلت ایک دوسرے سے مربوط ہیں جب آبادی پھیلتی ہے تو زمین سکڑنے لگتی ہے
مسلہ اور بھی سنگین یوں ہوگیا کہ دہھاتوں یا قصبوں میں زرعی سرگرمیوں میں بتدریج کمی سے روز گار کی عدم دستیابی کے باعث بڑے پیمانے پر دہی آبادی شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہی ہے۔ ظاہر ہے یہ بغیرکسی منصوبہ بندی کے ہورہا ہے جس کا نتیجہ وہ ہی نکل رہا ہے جس کی نشاندہی چار برس قبل
ایشیا پروگرام کی ایک رپورٹ میں کی جاچکی ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں چالیس فیصد آبادی کچی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہے۔ جہاں انھیں بنیادی شہری سہولتیں میسر نہیں۔
اسی رپورٹ میں بہت سے دوسری تجاویز کے ساتھ یہ تجویز کیا گیا تھا کہ شہری منصوبہ بندی میں نئی ترجیحات کا تعین کیا جائے، جن میں
چار سو سکوائر میٹر یعنی پندرہ مرلے سے بڑے رقبے نہ بنا ئے جا ئیں،
مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ گزشتہ کئی عشروں
سے تمام بڑے شہروں اور ان کے اطراف میں جو شہری بستیاں تعمیر ہورہی ہیں وہ زمینی حقاٗق کے بر عکس نظر آتی ہیں۔ ان میں سول سیکیمں ہوں، بڑی بڑی ڈیفینس ھاؤسنگ سکیمیں یا نجی تعمیراتی ادارے، ان میں زیادہ تر اشرافیہ اورمعقول آمدنی والے طبقات کی ضروریات کو مد نظر رکھا جاتا ہے
چالیس چالیس مرلے یعنی دو دو کینال کے رقبے رکھے جاتے ہیں، بلکہ اب توپندرہ بیس برسوں سے ایک نیا رحجان چل نکلا ہے، شہروں سے بلکل متصل زرعی زمینیوں پر بڑے بڑے فارم ھاؤسسز الاٹ کیے جارہے ہیں۔ جہاں تمام شہری سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں جبکہ کچی آبادیاں شہرسے مزید دور اور زندگی کی سہولتوں سے تو کوسوں دور ہیں۔

اب اگر مان لیا جائے کہ فارم ھاؤسسز کاشتکاری کی شرائط کےساتھ الاٹ کیے جاتے ہیں تاکہ شہروں میں سبزیوں اور پھلوں کی فراوانی ہو
تو ایسا کچھ نظر نہیں آتا ۔
بلکہ یوں لگتا ہے کہ فارم ہاؤسز اشرافیہ کے لئے بڑے مکانات تعمیر کرنے کی ہی ایک کڑی ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا ’کس کے ھاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں‘ سب ہی حکومتوں نے ،سول ہوں یا فوجی، کم یا محدود آمدنی والے کڑوڑوں افراد کے رہائشی معملات کو بہت زیادہ حد تک ایسے نجی تعمیراتی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ د یا ہے، جن کے مدنظر اپنے کاروباری مفادات ہوتے ہیں۔
ان معروضی حالات میں یہ سمجھ نا تو کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ طرز رہا ئش میں تبدیلیاں وقت کی اہم ضرورت ہے، کراچی میں اس پر کچھ کچھ عمل ہورہا ہے مگر تمام بڑے شہروں میں کثیر منزلہ رہائشی عمارات کی حوصلہ افزائی ہو، جس میں محدود ذرائع والے افراد کوبسایا جاسکے۔
اس سب سے بڑھ کر زمین کی قیمتوں کوعام لوگ کی قوت خرید میں لانے کے لئے زمینوں کی خرید و فرو خت کے قوانین میں رد و بدل کیا جائے، ورنہ کڑوروں افراد کے نہ تو پاؤں تلے زمین ہوگی نا سر پر چھت۔

SHARE

1 COMMENT

  1. کم از کم اس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ پاکستان کے حالات بہتر ہونے کا امکان ہے۔ لیکن جو تجاویز آپ نے دی ہیں وہ بے حد ضروری ہیں۔

LEAVE A REPLY