شازمہ نور کی تحاریر عالمی اخبار کے لیئے

0
326

عالمی اخبار کے قلم کاروں کی فپرست میں ایک نئے نام کا اضافہ،

شازمہ نور نے اپنا بہت مختصر تعارف خود اس طرح لکھ کر بھیجا ہے، ہمیں امید ہے کہ انکی تحاریر قارئین کی توجہ کا مرکز بنیں گی۔

صفدر ھمدانی

مدیر اعلیٰ ۔عالمی اخبار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کاہنہ کا سانحہ: صرف ایک حادثہ نہیں، ایک پورے نظام کی ناکامی

کاہنہ میں پیش آنے والا المناک سانحہ، جس میں کمسن بچوں سمیت چودہ قیمتی جانیں ملبے تلے دب کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئیں، محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے، نظامِ تعلیم، غربت اور اجتماعی غفلت کا ایسا المیہ ہے جس کے کئی پہلو ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ہمیشہ ایسے واقعات کو صرف ایک زاویے سے دیکھتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔

حمیدہ بی بی ایک عام پاکستانی خاتون تھیں۔ وہ کوئی بڑے تعلیمی ادارے کی مالک نہیں تھیں، نہ ہی ان کے پاس وسائل تھے۔ کاہنہ کے ایک غریب علاقے میں پہلی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔ والدین کے مطابق کسی سے 300 روپے، کسی سے 400 روپے اور بعض گھروں سے دو بچوں کے 500 روپے ماہانہ وصول کرتی تھیں، جبکہ کئی بچوں کو مفت بھی پڑھاتی تھیں۔

یہ وہ علاقہ ہے جہاں بہت سے والدین اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں داخل کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایسے میں شام کے چند گھنٹے بچوں کی تعلیم کا سہارا بھی تھے اور حمیدہ بی بی کے گھر کا واحد ذریعۂ آمدن بھی۔

اس محنت کے بدلے انہیں بمشکل نو یا دس ہزار روپے ماہانہ ملتے تھے۔ آج کے مہنگائی کے دور میں یہ رقم شاید ایک ہفتے کا راشن بھی پورا نہ کر سکے۔ ان کے شوہر محلے میں پھل کی ریڑھی لگاتے تھے تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔ یوں ایک خاندان دو مختلف محاذوں پر روزگار کی جنگ لڑ رہا تھا۔

پھر ایک لمحے میں سب کچھ بدل گیا۔

چھت گری، بچے ملبے تلے دب گئے، چیخیں بلند ہوئیں اور کئی گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ حمیدہ بی بی خود بھی اس ملبے تلے آگئیں، ان کی ٹانگ اور بازو ٹوٹ گئے، ان کی اپنی بیٹی بھی زخمی ہونے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئی، جبکہ ان کے دیور کی چار سالہ بیٹی ثانیہ بھی اس حادثے میں جاں بحق ہوگئی۔ دوسری طرف ان کے شوہر اور دیور پولیس کی تحویل میں ہیں اور خود حمیدہ بی بی ہسپتال کے بستر پر زندگی اور صدمے کے درمیان پڑی ہیں۔

یہ تصویر کا ایک رخ ہے، اور اس رخ کو نظر انداز کرنا ظلم ہوگا۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والی ایک بچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چھت گرنے سے پہلے اوپر سے ایک اینٹ نیچے گری تھی۔ بچوں نے فوراً اپنی ٹیچر کو آگاہ کیا، مگر انہیں جواب ملا، “صرف ایک اینٹ گری ہے، پوری چھت تو نہیں گری، بیٹھ کر پڑھو۔”

اگر یہ بیان درست ہے تو پھر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا اسی لمحے تمام بچوں کو کمرے سے باہر نہیں نکال دینا چاہیے تھا؟

کسی بھی خستہ حال عمارت میں اینٹ یا پلستر کا گرنا معمولی واقعہ نہیں ہوتا بلکہ خطرے کی واضح علامت ہوتا ہے۔ شاید اگر اسی لمحے احتیاط اختیار کی جاتی تو آج کئی مائیں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھی ہوتیں اور کئی گھر ماتم کدہ نہ بنتے۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سارا قصور صرف ٹیچر کا تھا، کیونکہ وہ خود بھی اس سانحے کی شکار ہیں۔ مگر یہ کہنا بھی انصاف نہیں کہ اس واقعے میں انسانی غلطی کا کوئی کردار نہیں تھا۔ بعض اوقات چند لمحوں کا ایک غلط فیصلہ پوری زندگی کا پچھتاوا بن جاتا ہے۔

اصل سوال صرف حمیدہ بی بی کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جس نے ہزاروں غریب خاندانوں کو ایسے غیر محفوظ کمروں میں اپنے بچوں کو بھیجنے پر مجبور کر رکھا ہے۔

وہ والدین جو دو یا تین سو روپے ماہانہ فیس بھی بڑی مشکل سے ادا کرتے ہیں، ان کے بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر سرکاری سکول معیاری، قابلِ اعتماد اور آسانی سے دستیاب ہوتے تو شاید ایسے غیر رسمی ٹیوشن مراکز وجود ہی نہ لیتے۔

دوسری طرف حکومتی ترجیحات بھی سوالیہ نشان ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں غریب کا بچہ خستہ حال چھت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہو، وہاں اربوں روپے کے لگژری منصوبے اور شاہانہ اخراجات عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف محسوس ہوتے ہیں۔

یہ سانحہ صرف ایک ٹیچر کی غفلت، ایک بوسیدہ چھت یا چند غریب خاندانوں کی بے بسی کا نام نہیں۔ یہ غربت، ریاستی بے حسی، ناقص نگرانی، کمزور انفراسٹرکچر اور انسانی غلطیوں کے اس سلسلے کا نتیجہ ہے، جس کی قیمت ہمیشہ بے گناہ لوگ ادا کرتے ہیں۔

اگر ہم نے اس واقعے کو صرف ایک مقدمہ، ایک گرفتاری یا چند دن کی خبروں تک محدود کر دیا تو شاید آنے والے دنوں میں کسی اور بوسیدہ چھت تلے پھر معصوم زندگیاں دفن ہوتی نظر آئیں۔

سوال یہ نہیں کہ اس سانحے کا ذمہ دار کون ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگلا سانحہ روکنے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں؟

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

میاں بیوی کا رشتہ: تماشہ نہیں، اعتماد کا نام ہے
“خون کے رشتوں کے بعد اگر کوئی رشتہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے تو وہ میاں بیوی کا رشتہ ہے۔ یہی وہ بندھن ہے جس پر ایک خاندان، ایک گھر اور آنے والی نسلوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج ہم نے اس مقدس رشتے کو اتنا عام کر دیا ہے کہ اس کے اختلافات اب چار دیواری کے اندر نہیں بلکہ سڑکوں، بازاروں اور مجمعوں میں زیرِ بحث آنے لگے ہیں۔”

اسلام نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا “لباس” قرار دیا ہے۔ لباس انسان کی پردہ پوشی بھی کرتا ہے، عزت بھی بڑھاتا ہے اور سرد و گرم سے بھی بچاتا ہے۔شاید اسی لیے ہر مذہب، ہر تہذیب اور ہر معاشرے میں اس رشتے کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم نے اس مقدس رشتے کو اکثر اپنی انا، غصے اور ناسمجھی کی نذر کر دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک واقعہ میری نظروں کے سامنے پیش آیا۔

مجھے بازار جانا تھا لیکن کچھ مصروفیات کی وجہ سے دیر ہو گئی۔ جب ہم رات کے وقت واپس آ رہے تھے تو ایک نئی تعمیر شدہ سڑک پر اچانک لوگوں کا ہجوم سا نظر آیا۔ ہم نے موٹرسائیکل کی رفتار کم کی۔ پہلے خیال آیا شاید کوئی حادثہ ہو گیا ہے، لیکن قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ معاملہ کچھ اور تھا۔

ایک نوجوان شخص موٹرسائیکل پر بیٹھا تھا جبکہ چند قدم کے فاصلے پر ایک نوجوان خاتون ناراض ہو کر کھڑی تھی۔ غالباً وہ اس کی بیوی تھی۔ شوہر بار بار کہہ رہا تھا:

“میرا تماشہ مت بناؤ، موٹرسائیکل پر بیٹھ جاؤ۔”

مگر بیوی اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں تھی۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ اردگرد سے گزرنے والے لوگ رک رک کر یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، کسی کی آنکھوں میں تجسس، اور کسی کے لیے یہ محض ایک تفریحی منظر تھا۔

ہم بھی چند لمحے رکے، پھر آگے بڑھ گئے۔ کیونکہ میاں بیوی کے معاملات میں مکمل حقیقت جانے بغیر رائے دینا مناسب نہیں ہوتا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ قصور کس کا تھا۔ شاید شوہر کا، شاید بیوی کا، اور شاید دونوں کا۔ لیکن ایک بات ضرور واضح تھی کہ اس مقدس رشتے کا تماشہ بن رہا تھا اور تماشائیوں کی کمی نہیں تھی۔

کچھ دن بعد ایک اور واقعہ پیش آیا۔

میں اپنے بیٹے کے ساتھ گوشت مارکیٹ گئی ہوئی تھی۔ وہاں ہمیشہ کی طرح رش تھا۔ قصابوں کی دکانیں، سبزی فروشوں کی ریڑھیاں، پھولوں والے، نرسری کے مزدور اور خریداری کے لیے آئے ہوئے لوگ، ہر طرف ایک ہنگامہ سا تھا۔

اچانک ایک بلند آواز نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

ایک نوجوان شخص اپنی موٹرسائیکل پر سوار تھا اور ساتھ اس کی نقاب پوش بیوی بیٹھی تھی۔ وہ مسلسل اپنی بیوی کو گالیاں دے رہا تھا۔ کبھی شاپنگ پر، کبھی دیر ہونے پر، کبھی کسی اور بات پر۔ عورت دھیمی آواز میں وضاحت دینے کی کوشش کرتی مگر اس کے ہر جملے کے جواب میں شوہر کی آواز مزید بلند ہو جاتی۔

پھر اچانک موٹرسائیکل رک گئی۔ معلوم ہوا کہ پٹرول ختم ہو چکا تھا۔

اب وہ اپنی بیوی کو بھی کوس رہا تھا اور موٹرسائیکل کو بھی۔

وہ بار بار لوگوں سے تھوڑا سا پٹرول مانگ رہا تھا تاکہ پٹرول پمپ تک پہنچ سکے۔ لوگ خاموشی سے منظر دیکھ رہے تھے۔ کچھ کے چہروں پر ہمدردی کم اور دلچسپی زیادہ تھی۔

میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اپنی موٹرسائیکل سے تھوڑا پٹرول نکال کر دے دو۔ اس نے ایک بوتل کا انتظام کیا اور چند منٹ کی محنت کے بعد اس شخص کی مدد کر دی۔

اس دوران میں مسلسل اس عورت کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ شرمندگی سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ اس کے اردگرد کھڑے تمام لوگ اس کی بے عزتی کے گواہ بن چکے تھے۔

جب وہ جانے لگا تو میں نے اسے آواز دی۔

وہ رکا۔

میں نے صرف اتنا کہا:

“چھوٹے بھائی، تم یہ سمجھ رہے ہو کہ تم اپنی بیوی کی بے عزتی کر رہے ہو، لیکن حقیقت میں تم اپنی عزت کا تماشہ بنا رہے ہو۔”

وہ خاموش ہو گیا۔

میں نے اس سے مزید کچھ نہیں کہا۔ نہ مجھے اس کا حق تھا۔ لیکن مجھے امید ہے کہ شاید وہ ایک جملہ اس کے ذہن میں کہیں محفوظ ہو گیا ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسے مناظر ہم روز دیکھتے ہیں۔ کبھی سڑکوں پر، کبھی بازاروں میں، کبھی خاندانوں کے درمیان اور کبھی سوشل میڈیا پر۔

شوہر بیوی کی معمولی غلطی کو اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ بیوی کو موقع ملتا ہے تو وہ بھی شوہر کی عزت اچھالنے میں پیچھے نہیں رہتی۔

پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے بچے بدتمیز ہو گئے ہیں، والدین کا احترام نہیں کرتے، زبان دراز ہیں اور رشتوں کی قدر نہیں جانتے۔
سوال یہ ہے کہ وہ سیکھیں گے کہاں سے؟
جب ایک بچہ اپنے والدین کو ایک دوسرے کی عزت پامال کرتے دیکھتا ہے، جب وہ گھر میں رازوں کو مذاق بنتے دیکھتا ہے، جب وہ محبت کے بجائے تحقیر سنتا ہے، تو وہ احترام اور برداشت کے سبق کہاں سے حاصل کرے گا؟
شاید ہم اپنے بچوں کو نصیحتوں سے کم اور اپنے رویّوں سے زیادہ سکھاتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد رشتوں کا احترام کرے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے رشتوں کا احترام کرنا ہوگا۔ کیونکہ گھر کی دیواریں صرف اینٹوں سے نہیں، باہمی عزت اور اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔
میاں بیوی کا رشتہ چند دنوں کی رفاقت نہیں بلکہ پوری زندگی کا سفر ہے۔ اس سفر میں اختلافات بھی ہوں گے، ناراضگیاں بھی، شکوے بھی اور غلطیاں بھی۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود ایک چیز کبھی نہیں مرنی چاہیے، اور وہ ہے ایک دوسرے کی عزت۔
میاں بیوی کے درمیان اختلافات ہونا فطری بات ہے، لیکن اختلافات کو تماشہ بنا دینا فطرت نہیں، کم ظرفی ہے۔ جو رشتہ عزت، اعتماد اور راز داری پر قائم ہو، وہی وقت کی آزمائشوں میں مضبوط رہتا ہے۔ یاد رکھیے، محبت صرف ساتھ نبھانے کا نام نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی عزت بچانے کا نام بھی ہے۔ اور جب عزت ختم ہو جائے تو رشتے بظاہر قائم رہتے ہیں، مگر اپنی روح کھو دیتے ہیں۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

غصہ، وراثت اور ایک خاندان کا بکھراؤ

تحریر: شازمہ نور

دیہات کی زندگی بظاہر سادہ اور پرسکون دکھائی دیتی ہے، مگر اس سادگی کے پردے کے پیچھے اکثر ایسے تنازعات جنم لیتے ہیں جو نسلوں تک خاندانوں کو متاثر کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک دیہی علاقے میں پیش آنے والا واقعہ نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے گاؤں کے لیے صدمے کا باعث بن گیا۔

واقعے کی ابتدائی خبر یہ تھی کہ ایک سترہ سالہ نوجوان نے اپنے دادا کو ٹریکٹر کے نیچے کچل کر قتل کر دیا۔ خبر سنتے ہی پورے علاقے میں خوف، حیرت اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ لوگ اس بات پر ششدر تھے کہ آخر ایک پوتا اپنے ہی دادا کا قاتل کیسے بن سکتا ہے۔

تاہم، جب حقیقت سامنے آئی تو کہانی محض قتل کی نہ رہی بلکہ جائیداد، وراثت، غصے اور خاندانی کشمکش کی ایک تلخ داستان بن گئی۔

معلوم ہوا کہ نوجوان کے والد کا انتقال دادا کی زندگی میں ہو چکا تھا۔ مقامی روایات اور اسلامی وراثتی اصولوں کے مطابق دادا کی زندگی میں فوت ہونے والے بیٹے کی اولاد عام طور پر دادا کی جائیداد میں حصہ دار نہیں بنتی۔ یہی معاملہ اس نوجوان کے ساتھ بھی پیش آیا۔

البتہ زمین کا ایک ٹکڑا ایسا تھا جو اس کے مرحوم والد نے اپنی زندگی میں خود خریدا تھا، لہٰذا شرعی اور قانونی طور پر وہ زمین نوجوان کا حق تھی۔ جرگے میں فیصلہ ہوا کہ زمین کا یہ حصہ نوجوان کو واپس کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق دادا نے فیصلہ قبول تو کیا، مگر خوش دلی سے نہیں۔ خاندان کے اندر اختلافات پہلے ہی موجود تھے، جبکہ نوجوان کی پھوپھیاں اس فیصلے سے ناخوش تھیں۔

کچھ عرصہ بعد نوجوان نے اپنی زمین قابلِ کاشت بنانے کے لیے دادا سے ٹریکٹر اور ہل مانگا تاکہ وہ زمین تیار کر سکے، مگر دادا نے انکار کر دیا۔ بعد ازاں گاؤں کے ایک شخص نے ہمدردی کے تحت اسے اپنا ٹریکٹر اور ہل فراہم کر دیا۔

یہیں سے ایک معمولی تنازعہ ایک سانحے میں تبدیل ہو گیا۔

نوجوان جب اپنی زمین پر ہل چلا کر واپس آ رہا تھا تو دادا، مبینہ طور پر بیٹیوں کے اکسانے پر، راستے میں جا کھڑا ہوا۔ خاندان کو خدشہ تھا کہ نوجوان اپنی زمین کے ساتھ مزید رقبے پر بھی ہل چلا دے گا، حالانکہ بعد میں ثابت ہوا کہ ایسا کوئی ارادہ موجود نہیں تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق دادا نے نوجوان کو روکنے کی کوشش کی، غصے میں گالم گلوچ کی اور پھر ہاتھ میں موجود پتھر نوجوان کی طرف پھینک دیا۔ پتھر نوجوان کے سر پر لگا، جس سے چند لمحوں کے لیے اس کا توازن بگڑ گیا اور ٹریکٹر بے قابو ہو گیا۔

چند ہی لمحوں میں ٹریکٹر دادا پر چڑھ گیا اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔

یوں بظاہر یہ ایک قتل محسوس ہوتا تھا، مگر درحقیقت یہ ایک حادثہ تھا، جس کی بنیاد غصہ، غلط فہمی اور جائیداد کا تنازعہ بنا۔

پولیس نے نوجوان کو حراست میں لیا، مگر گاؤں والوں اور عینی شاہدین کے بیانات کے بعد جلد ہی اسے رہا کر دیا گیا، کیونکہ شواہد سے ثابت ہوا کہ واقعے میں اس کی مجرمانہ نیت شامل نہیں تھی۔

یہ سانحہ کئی سوالات چھوڑ گیا ہے۔

کیا واقعی اس نوجوان کو اپنے دادا کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
یا پھر اصل ذمہ داری ان حالات، خاندانی دباؤ اور ان افراد پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ایک معمولی تنازعے کو اشتعال میں بدل دیا؟

یہ واقعہ اس حقیقت کی تلخ یاد دہانی ہے کہ غصہ ایک لمحاتی کیفیت ضرور ہے، مگر اس کے نتائج پوری زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اکثر انسان ان خدشات اور وسوسوں پر ردِعمل دیتا ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا، مگر انہی غیر حقیقی اندیشوں کی قیمت کبھی کبھی جان کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔

آج نوجوان آزاد ہے، زمین کا مقدمہ اب بھی زیرِ سماعت ہے، مگر ایک خاندان اپنا بزرگ کھو چکا ہے۔

یہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک سماجی سبق ہے:
وراثت کے تنازعات، خاندانی لالچ اور بے قابو غصہ مل کر ایسے سانحات کو جنم دیتے ہیں جن کا خمیازہ پوری نسلیں بھگتتی ہیں۔
مخلص
شازمہ نور

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شازمہ نور 
 “لوگ کیا کہیں گے؟ — ایک فطری حقیقت کا سماجی مسئلہ”
ہمارے معاشرے میں بعض معاملات ایسے ہیں جنہیں ہم نے بلاوجہ پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ ان میں ایک اہم موضوع وہ ہے جب والدین اپنی جوان اولاد کے بعد دوبارہ ماں باپ بننے والے ہوں۔ بظاہر یہ ایک فطری عمل ہے، مگر ہمارے رویّوں نے اسے ایک سماجی مسئلہ بنا دیا ہے—ایسا مسئلہ جس میں خوشی کم اور “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف زیادہ شامل ہوتا ہے۔
آج کے دور میں، جہاں خاندانی منصوبہ بندی کے تصورات عام ہو چکے ہیں، وہاں دو بچوں کو “مثالی تعداد” سمجھا جاتا ہے۔ اس معیار سے ذرا سا ہٹنا بھی بعض اوقات تنقید کا باعث بن جاتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی کے ہاں بڑھاپے میں اولاد ہو جائے تو یہ خبر مبارکباد سے زیادہ حیرت اور تبصروں کا سبب بنتی ہے۔
یہ رویہ نیا نہیں ہے۔ اس کی جڑیں ماضی میں بھی اتنی ہی گہری تھیں۔
میری اپنی زندگی اس کی ایک مثال ہے۔ میں چھ بھائیوں کے بعد پیدا ہونے والی واحد بہن ہوں، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب میرے کچھ بھائی شادی شدہ اور صاحبِ اولاد تھے۔ گویا ایک ہی گھر میں رشتوں کی ترتیب بھی الجھ گئی اور سماجی توقعات بھی۔ اس صورتحال نے میرے والدین کو خوشی کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی جھجھک اور دباؤ میں مبتلا کر دیا۔
یہ دباؤ اس قدر شدید تھا کہ میری آمد کی خبر کو چھپانے کی کوشش کی گئی، بلکہ اسے روکنے کی بھی تدبیر کی گئی۔ مگر زندگی اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔ آج جب میں اس واقعے کو یاد کرتی ہوں تو ایک تلخ سچ سامنے آتا ہے: ہم نے اپنی فطری حقیقتوں کو بھی معاشرتی خوف کے تابع کر دیا ہے۔
اسی سوچ کی ایک جھلک ایک پرانے دیہی واقعے میں بھی ملتی ہے۔ ایک خاتون کے ہاں نومولود بچی تھی اور اسی دوران بڑی بیٹی کی شادی طے تھی۔ بارات آنے والی تھی اور ماں کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں اس “غیر متوقع” بچی کا علم باراتیوں کو نہ ہو جائے۔ چنانچہ اس نے بچی کو بستروں میں چھپا دیا۔ رسمیں ادا ہوئیں، بارات رخصت ہوئی، اور پھر جب بچی کو تلاش کیا گیا تو وہ شدید حالت میں ملی۔
یہ واقعہ بظاہر ایک دیہاتی سادگی یا نادانی لگ سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک اجتماعی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے—ایسی ذہنیت جو “لوگوں کی نظر” کو حقیقت سے زیادہ اہم سمجھتی ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم کس چیز سے خوفزدہ ہیں؟ ایک فطری عمل سے یا لوگوں کی رائے سے؟
حقیقت یہ ہے کہ اولاد کا ہونا، چاہے کسی بھی عمر میں ہو، ایک قدرتی امر ہے۔ اس میں نہ شرمندگی ہونی چاہیے اور نہ ہی اسے چھپانے کی ضرورت۔ لیکن جب معاشرہ اپنی ترجیحات کھو بیٹھتا ہے تو وہ فطرت کے سادہ حقائق کو بھی پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
آج سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ جہاں پہلے باتیں محدود حلقوں تک رہتی تھیں، اب وہی موضوعات عوامی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہر شخص رائے دینے کو تیار ہے، مگر کم ہی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان کی رائے کسی کی زندگی کو کتنا متاثر کر سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اجتماعی سوچ کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر خاندان کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور ہر فیصلہ اپنے مخصوص تناظر میں لیا جاتا ہے۔ ایسے میں دوسروں کی زندگیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ہمیں برداشت، سمجھداری اور خاموشی کو ترجیح دینی چاہیے۔
آخرکار، یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ زندگی “لوگوں” کے معیار پر نہیں بلکہ فطرت کے اصولوں پر چلتی ہے۔ اور فطرت میں نہ شرمندگی ہے، نہ دکھاوا—صرف سچائی ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

کہانی: ایک استاد کی سچائی
ہم اکثر ایسی کہانیاں سنتے ہیں کہ کسی معلمہ نے اپنے طالب علم کو سبق یاد نہ کرنے پر یا کسی اور بات پر تشدد کا نشانہ بنایا، جس پر عوام کی جانب سے اساتذہ کے بارے میں منفی ردعمل سامنے آتا ہے۔ ایسا کبھی کبھار ہوتا بھی ہے، مگر میری تدریسی زندگی میں دو ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ جو کچھ ہم میڈیا یا دوسرے ذرائع سے دیکھتے ہیں، اس کا حقیقت سے کتنا تعلق ہوتا ہے۔ ان دونوں واقعات کو پڑھ کر آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے، اور جو ہمیں دکھایا جاتا ہے، اس میں کتنی سچائی ہے۔
پہلا واقعہ
میرے پچھلے سکول میں ایک محترمہ استاد تھیں جو اب ریٹائر ہو چکی ہیں۔ ان کی شخصیت پر کبھی حالات کا اثر نہیں پڑا تھا۔ ان کی مسکراہٹ، زندہ دلی، اور حسن ہمیشہ برقرار رہتے تھے۔ بریک کے دوران ہم سب مل کر آپس میں کھاتے پیتے اور خوش گپیوں میں مشغول ہوتے تھے۔ بریک کے دوران دو اساتذہ کی ڈیوٹی ہوتی تھی تاکہ بچوں پر نظر رکھی جا سکے، تاکہ کہیں لڑائی جھگڑا نہ ہو جائے یا کوئی بچہ کھیلتے ہوئے زخمی نہ ہو۔ اس دن بھی بریک کے بعد ہم نے اپنے اپنے کاموں میں واپس جانا شروع کر دیا۔ بریک کے بعد دو پیریڈز باقاعدہ پڑھائے جاتے تھے، اور ایک گھنٹے کے بعد ہی چھٹی کی بیل بجتی تھی۔ جیسے ہی چھٹی کی بیل بجی، بچوں کو سکول سے باہر نکالنے کا عمل شروع ہو گیا۔
اچانک گیٹ سے شور اور بلند آوازیں آنے لگیں۔ ہم تمام معلمات بے چین ہو گئیں، اور سوچنے لگیں کہ کہیں کسی بچے کو کچھ ہو تو نہیں گیا؟ چوکیدار دوڑتے ہوئے آیا اور بتایا کہ باہر کچھ لوگ اکٹھے ہیں اور وہ احتجاج کر رہے ہیں کہ ایک استادہ نے ایک بچی پر اتنا تشدد کیا ہے کہ اس کا منہ اور کندھے زخمی ہو گئے ہیں، اور وہ بے ہوش ہو گئی ہے۔ ہم سب حیرت اور پریشانی میں ڈوب گئے، کیونکہ ہم جانتے تھے کہ ہم کبھی کسی بچے کو مارتے نہیں۔ یہ سب کیسے اور کیوں ہو گیا؟
ہماری ہیڈ مسٹریس، جو اکثر ہمارے ساتھ رکشے میں گھر واپس جاتی تھیں، فوراً اس بچی کے والدین اور احتجاج کرنے والوں سے بات کرنے گئیں۔ انہوں نے معاملہ سمجھانے کی کوشش کی کہ چونکہ ابھی چھٹی کا وقت تھا اور بچے اپنے گھروں کو جا چکے تھے، اس لیے معاملے کی نوعیت ابھی واضح نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ بچی کو فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے، اور کل انکوائری کی جائے گی۔ اس دوران، ہمارے ایک بزرگ خاتون ساتھی ٹیچر بھی عجیب سی الرجی کا شکار ہو گئی تھیں، اور ان کے ہاتھوں اور بازوؤں میں شدید جلن اور خارش ہو رہی تھی، جس کی وجہ سے انہیں بھی سکول سے جلدی نکلنے کی ضرورت تھی۔
والدین کو سمجھا کر بچوں کو گھر بھیجنا بہت مشکل تھا، اور وہ رات بے سکونی میں گزری کہ یہ معاملہ کس ٹیچر کے سر جا کر گرے گا۔ میں نے پورے دن کے واقعات اور حالات کو اپنے ذہن میں دہرا کر اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی کسی بچے سے اونچی آواز میں بات نہیں کروں گی۔
واقعتاً کیا ہوا؟
جب بچی کے والدین پہنچے، تو معاملہ کھل کر سامنے آیا۔ وہ بچی جو محض چھ یا سات سال کی تھی، اپنے والد کے ساتھ آئی تھی، اور اس کا چہرہ ابھی بھی سوجا ہوا تھا۔ چہرے اور گردن پر واضح نشانات تھے اور آنکھوں کے ارد گرد سوزش تھی۔ ہماری بزرگ خاتون ٹیچر نے جب اس بچی کو دیکھا، تو فوراً سارا معاملہ سمجھ گئی۔ انہوں نے بچی کے والد کو بتایا کہ کل بریک کے بعد جب وہ ہاتھ دھونے کے لیے گئی تھیں، تو بچی رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اسے کسی چیز نے کاٹ لیا ہے، شاید کوئی زہریلا کیڑا۔ انہوں نے فوراً بچی کا منہ، ہاتھ اور گردن دھلوایا، اس کے بال اور یونیفارم چیک کیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کہیں وہ کیڑا اب بھی اس کے بالوں یا کپڑوں میں تو نہیں ہے۔ بچی شدید خارش کر رہی تھی اور اس کی حالت بہت خراب تھی۔ ہماری بزرگ ٹیچر نے فوراً بچی کی بڑی بہن کو بلایا اور کہا کہ اسے گھر لے جاؤ اور والد سے کہو کہ اس کو فوری طور پر ٹیکہ لگوائیں۔ کچھ وقت بعد، ٹیچر کو اپنے ہاتھوں اور بازوؤں پر بھی خارش شروع ہو گئی، اور سکول سے جانے کے بعد ایمرجنسی میں انہیں تین ٹیکے لگائے گئے۔
بچی کے والدین سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اپنی بچی کو ڈاکٹر کو دکھایا؟ تو وہ بھی حیرانی اور شرمندگی کے ساتھ خاموش رہے۔ بچوں نے بھی گواہی دی جو وہاں موجود تھے کہ بچی کی گردن پر دو تین دانے بن چکے تھے، جو ریشے سے بھرے ہوئے تھے۔ ہماری بزرگ ٹیچر اور ہیڈ معلمہ نے بچی کے والد کو سمجھایا کہ وہ گاؤں کے ڈسپنسر کو چھوڑ کر کسی مستند ڈاکٹر کو دکھائیں۔ والد نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا کریں گے اور چلے گئے، مگر بعد میں یہ پتہ نہیں چل سکا کہ انہوں نے بچی کو دکھایا یا نہیں۔ اس کے بعد، بچی کا حال اور بھی خراب ہو گیا۔ اس کے پورے جسم پر سوجن اور دانے بن گئے تھے، اور وہ اکثر بخار کی وجہ سے سکول نہیں آ پاتی تھی۔ تقریباً ایک ماہ بعد، ایک ڈاکٹر کی ٹیم ہمارے سکول میں کیمپنگ کے لیے آئی۔ ہماری ہیڈ معلمہ نے خاص طور پر اس بچی کو دکھایا اور میڈیسن دی۔ اس کی والدہ کو بلوا کر انہیں سمجھایا کہ یہ دوائیاں باقاعدگی سے دینی ہیں۔ اور پھر یقین کریں، صرف ایک ہفتے میں وہ بچی مکمل طور پر صحت یاب ہو گئی۔
دوسرا واقعہ: والد کا احتجاج اور استاد کی عزت
میرے اپنے سکول میں ایک واقعہ پیش آیا جب میں ہیڈ معلمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ سکول میں صرف تین ٹیچرز کا عملہ تھا، اور گیٹ پر کسی چوکیدار کا انتظام بھی نہیں تھا۔ ایک دن ایک والد محترم موٹرسائیکل پر سیدھے سکول کی حدود میں داخل ہوئے، اور اسمبلی میں جہاں تمام بچیاں اور ہم اساتذہ حجاب کے بغیر کھڑے تھے، انہوں نے آ کر ایک مقامی ٹیچر کو گندی گالیاں دینی شروع کر دیں۔ پھر اپنی دونوں بچیوں کو فوراً بلایا، ان کی کتابیں نکال کر اسمبلی ہال میں پھینک دیں اور بچیوں کو لے کر چل پڑے۔ ہم سب اس صورتحال سے محض حیران تھے، کہ آخر وجہ کیا تھی؟ بعد میں جب میں نے متعلقہ ٹیچر سے پوچھا تو پتہ چلا کہ یہ بچیاں رنگ برنگے کپڑوں میں آ رہی تھیں، اور گزشتہ دو ماہ سے یہی چل رہا تھا۔ اس پر ٹیچر نے انہیں ڈانٹتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آئندہ تم لوگ بغیر یونیفارم کے آئیں تو تمہیں کلاس سے نکال دیا جائے گا۔ چونکہ میں نیا نیا اس سکول میں آئی تھی، تو باقی ٹیچرز نے بتایا کہ گاؤں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ والدین کبھی مائیں اور کبھی باپ آ کر اساتذہ کی بیعزتی کرتے ہیں، اور ہمارے ڈیپارٹمنٹ سے بھی اس معاملے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ میں نے فوراً اپنے کزن کو، جو پولیس میں تھا، کال کی اور انہوں نے کہا کہ “فورا ون فائیو پر کال کرو۔تمہارا سکول (قبولہ مرکز)ہمارے انڈر ہے، ہم ہی بھیجے جائیں گے۔” لیکن اس سے پہلے اپنے ڈیپارٹمنٹ کو اطلاع دے دو۔ میں نے ایسا ہی کیا، اور فوراً ایکشن لیا اور سکول کی طرف سے ایف آئی آر بھی درج کروا دی۔
اس کے بعد، یقین کریں، اس شخص نے مقامی نمبردار کو ملوث کر کے نہ صرف منتیں کیں بلکہ ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔ اس کے بعد، پھر کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ سکول کی بلڈنگ کے تقدس کو پامال کرے۔ گاؤں کے لوگوں نے اساتذہ کو عزت دینی شروع کر دی، اور میں نے ساڑھے چار سال اس سکول میں ہیڈ معلمہ کے طور پر گزارے۔ اس دوران، سکول کی تعداد 70 سے بڑھ کر ساڑھے تین سو تک جا پہنچی۔اختتامیہ:
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیمی ادارے محض علم دینے کی جگہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ اخلاقی تربیت، ذمہ داری، اور انسانیت کے سبق دینے کے بھی مراکز ہیں۔ اساتذہ کے کردار کو صحیح تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ان کے اقدامات کبھی کبھار ایسے حالات کی بنا پر ہوتے ہیں جو بظاہر ہمیں نہیں نظر آتے۔ معاشرتی سطح پر ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہر بچے کی فلاح اور ہر استاد کی عزت دونوں کی حفاظت ضروری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے تعلیمی معیار میں بلند مقام حاصل کریں تو ہمیں اساتذہ کے حقوق اور ذمہ داریوں کا توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ عوامی سطح پر اس بات کا شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ جہاں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی فلاح ضروری ہے، وہاں اساتذہ کی عزت اور ان کے کام کی اہمیت بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ معاشرے کے ہر فرد کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ ہمارے تعلیمی ادارے ایک محفوظ، مؤثر، اور اخلاقی تربیت دینے والی جگہ بن سکیں۔
مخلص شازمہ نور

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

میرا نام زاہدہ پروین ہے اور قلمی نام شازمہ نور ہے۔
میں پیشے کے اعتبار سے ایک معلمہ ہوں۔
مجھے لکھنے کا شوق ہے اور میں اپنے اردگرد پیش آنے والے واقعات، معاشرتی مشاہدات اور سنی سنائی باتوں کو تحریر کی صورت میں بیان کرتی ہوں۔

میری تحریروں کا محور روزمرہ زندگی کے تجربات اور سماجی موضوعات ہوتے ہیں جنہیں میں سادہ اور ادبی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔

……………………………………………..

ترجیحات کا المیہ اور چراغوں کی ضد

تعلیم کو روشنی کہا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں یہ روشنی ہمیشہ سیدھی سمت میں نہیں پھیلتی۔ کہیں یہ کمزور ہاتھوں میں بجھنے لگتی ہے، اور کہیں مضبوط ہاتھوں سے چھین لی جاتی ہے۔
ایک استاد کی حیثیت سے میرا تجربہ انہی متضاد حقیقتوں کی کہانی ہے۔ چند سال قبل جب سکول میں سٹاف کی شدید کمی تھی، تو بیک وقت نویں اور دسویں جماعت کی سائنس کلاسز پڑھانا میری ذمہ داری بنی۔ وسائل محدود تھے، حالات مشکل، مگر طلبہ کا شوق ایسا کہ ہر رکاوٹ بے معنی لگنے لگی۔ مسلسل محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی برسوں تک دسویں جماعت کا نتیجہ تقریباً سو فیصد رہا۔ بائیس میں سے بائیس طلبہ کامیاب ہوئے—صرف دو کو ایک مضمون میں مشکل پیش آئی، وہ بھی ایسے اسباب کے باعث جن کا تعلق ذہانت سے نہیں بلکہ حالات سے تھا۔
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ایک استاد کو اپنے کام کا حقیقی صلہ نظر آتا ہے—شاگردوں کی کامیابی کی صورت میں۔
مگر جیسے ہی سکول میں ایس ایس ٹیز کی آمد ہوئی، تو گویا نظام نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ نویں اور دسویں کی کلاسز ان کے سپرد کر دی گئیں—یہ فیصلہ بظاہر قابلِ فہم تھا۔ مگر اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔
انہی کلاسز کے باقی ماندہ مضامین کے لیے ایک پرائمری ٹیچر سے باقاعدہ درخواست—بلکہ منت—کی گئی کہ وہ یہ ذمہ داری سنبھالے۔ حیرت اس بات پر نہیں کہ اسے ذمہ داری دی گئی، بلکہ اس بات پر ہے کہ اسی وقت ایک ایسی ٹیچر سکول میں موجود تھی جو گزشتہ پانچ سال سے انہی مضامین کو کامیابی سے پڑھا رہی تھی۔
یوں محسوس ہوا جیسے موجود قابلیت کو نظرانداز کرنا بھی کسی پالیسی کا حصہ ہو۔
یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ترجیحات کی ایک ایسی ترتیب تھی جس میں میرٹ خاموشی سے پس منظر میں چلا گیا۔ اور اس سارے عمل کی نگرانی ایک ایسی او پی ایس ہیڈ کے ہاتھ میں تھی جو بیک وقت دو حیثیتیں رکھتی تھیں—مراعات اپنی اصل پوسٹ کی، اور اختیارات مکمل سربراہی کے۔
یہ تضاد محض عہدے کا نہیں، بلکہ فیصلوں کی نوعیت کا بھی عکاس ہے۔
مجھے تیسری جماعت کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ میں نے اسے بھی اسی خلوص سے قبول کیا، کیونکہ میرے نزدیک تدریس کسی خاص جماعت کی محتاج نہیں۔ مگر یہ سوال بہرحال باقی ہے کہ کیا ایک استاد کی مسلسل کارکردگی اور تجربہ اسی طرح نظرانداز کر دیا جانا چاہیے؟ یا یہ سمجھ لیا جائے کہ ہمارے نظام میں بعض اوقات “فیصلے” قابلیت سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں؟
ان سب انتظامی الجھنوں سے ہٹ کر اگر کسی چیز نے ہمیشہ امید زندہ رکھی ہے تو وہ ان بچیوں کا شوقِ تعلیم ہے۔ اس گاؤں کی بیٹیاں، وسائل کی کمی کے باوجود، علم کے لیے ایک غیر معمولی جذبہ رکھتی ہیں۔ مگر افسوس کہ ان کے خواب اکثر سماجی روایات کی نذر ہو جاتے ہیں۔
کم عمری کی شادیاں، گھریلو ذمہ داریاں، اور محدود سوچ—یہ سب ان کے راستے کی دیواریں ہیں۔ نویں جماعت میں داخل ہونے والی چالیس بچیوں میں سے بمشکل پچیس امتحان تک پہنچتی ہیں، اور دسویں تک یہ تعداد مزید کم ہو جاتی ہے۔ یہ صرف اعداد نہیں، بلکہ ادھورے خوابوں کا حساب ہے۔ایک بچی کی آنکھوں میں آنسو تھے جب اس نے بتایا کہ اس کا بھائی اسے مزید پڑھنے نہیں دے گا۔ وجہ؟ خاندان میں ایک لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ اس ایک واقعے نے پورے خاندان کی بیٹیوں سے تعلیم کا حق چھین لیا۔ یہ وہ سوچ ہے جو علم کو خطرہ سمجھتی ہے، حالانکہ علم تو شعور دیتا ہے، تمیز سکھاتا ہے، اور فیصلوں کو بہتر بناتا ہے۔
یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ہم نے تعلیم کو شعور کے بجائے خطرہ سمجھنا شروع کر دیا ہے۔
غربت اس کہانی کا سب سے بھاری باب ہے۔ بیس روپے کی فیس بھی بعض گھروں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے۔ ایک موقع پر ایک بچی کی والدہ جب سکول آئیں تو ان کی داستان سن کر دل لرز اٹھا—گھر میں فاقہ، معذور شوہر، اور بچوں کی بھوک۔
میں انہیں اپنی ہیڈ مسٹریس، مسز ثمینہ علی شیر، کے پاس لے کر گئی، جنہوں نے فوری مدد فراہم کر کے یہ ثابت کیا کہ اگر نظام میں کہیں انسانیت باقی ہو تو اندھیرا مکمل نہیں ہوتا۔
سردیوں میں ننگے پاؤں سکول آنے والے بچے، پھٹے یونیفارم، اور خالی بستے—یہ سب اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یہاں تعلیم حاصل کرنا واقعی ایک جدوجہد ہے۔ اساتذہ اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرتے ہیں، مگر جب مسائل اجتماعی ہوں تو انفرادی کوششیں محدود ہو جاتی ہیں۔
یہ ساری تصویر ایک سوال چھوڑ جاتی ہے:
کیا ہمارا نظام واقعی تعلیم کو فروغ دینا چاہتا ہے، یا صرف اسے چلتا ہوا دکھانا کافی سمجھتا ہے؟
ایک استاد پھر بھی اپنا کام کرتا ہے—خاموشی سے، مستقل مزاجی کے ساتھ۔
چاہے اسے میٹرک کی کلاس سے تیسری جماعت میں بھیج دیا جائے، وہ چراغ جلانا نہیں چھوڑتا۔
فرق صرف اتنا ہے کہ
کبھی اسے روشنی پھیلانے دی جاتی ہے،
اور کبھی صرف جلتے رہنے پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شازمہ نور 
میرے کردار کا نام ہما ہے۔ جس کی عمر 23 سال ہے، اور اس کا تعلق پنجاب کے ایک متوسط گھرانے سے ہے۔
یہ کہانی صرف ہما(فرضی نام) نہیں… بلکہ ان سب کی ہے جو خاموش رہ کر ٹوٹتی رہتی ہیں۔
ہما کا بچپن عام نہیں تھا۔ وہ ہنستی ضرور تھی، مگر اس کی ہنسی کے پیچھے ایک خوف چھپا ہوتا تھا۔ ایک ایسا خوف، جسے وہ نہ بیان کر سکتی تھی، نہ سمجھا سکتی تھی۔
گھر ایک مشترکہ خاندان تھا—لوگ بہت تھے، مگر حدود کم تھیں۔
کمرے مشترک، وقت مشترک… مگر احساسِ تحفظ کہیں کھو گیا تھا۔
اسی ہجوم میں ہما خود کو سب سے زیادہ اکیلا محسوس کرتی تھی۔
بچپن میں پیش آنے والے کچھ واقعات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے اس کے اندر سے اس کا اعتماد چھین لیا۔ وہ ڈرنے لگی، سہمنے لگی، اور آہستہ آہستہ خاموش ہوتی چلی گئی۔ کسی نے اس کی خاموشی کو نہیں پڑھا… سب نے اسے بس بدتمیزی، ضد اور اکھڑ پن کا نام دے دیا۔کئی دفعہ جب بچے اپنا درد بیان نہیں کر پاتے تو وہ ضدی،بدتمیزی اور اکھڑ پن کا شکار ہو جاتے ہیں

اس کے والد سخت مزاج تھے۔ ان کے سامنے بات کرنا ہما کے لیے ممکن نہیں تھا۔ ماں سے بھی وہ کبھی دل کی بات نہ کر سکی… کیونکہ اسے ہمیشہ یہی لگا کہ شاید اسے سمجھا ہی نہیں جائے گا۔
وقت گزرتا گیا…
ہما بڑی ہوتی گئی…
مگر اس کے اندر کا خوف بھی اس کے ساتھ بڑا ہوتا گیا۔
پھر ایک وقت آیا جب اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس نے پڑھائی میں دل لگایا، خود کو مضبوط بنانے کی ٹھانی۔ میٹرک میں 86 فیصد نمبر لیے، اور پہلی بار اسے لگا کہ شاید زندگی اسے ایک موقع دے رہی ہے۔
اس نے عبادت شروع کی، دل کو سکون ملنے لگا…
لگا کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔
مگر زندگی نے ابھی ایک اور امتحان رکھ چھوڑا تھا۔
ایک دن جب وہ کالج سے گھر آئی تو اسے بتایا گیا:
“تمہارا رشتہ آیا ہے…”
یہ سنتے ہی ہما کے دل میں ایک عجیب سا خوف جاگ اٹھا۔
ایک نام… ایک چہرہ… ایک ماضی… سب ایک ساتھ اس کے ذہن میں ابھر آیا۔
اور جب اس نے پوچھا… تو اس کا خوف سچ نکلا۔
یہ رشتہ کسی اور کا نہیں،
بلکہ اسی شخص کا تھا…
جس نے اس کے بچپن کو خوف میں بدل دیا تھا۔
اس لمحے ہما کے لیے وقت جیسے رک گیا۔
یہ صرف ایک رشتہ نہیں تھا…
یہ اس کے ماضی کا وہ سایہ تھا،
جو دوبارہ اس کی زندگی پر مسلط کیا جا رہا تھا۔
اس نے انکار کیا۔
پہلے نرمی سے… پھر مضبوطی سے…
مگر اس کی آواز کمزور پڑ گئی جب بات “خاندان کی عزت” تک پہنچی۔
“لوگ کیا کہیں گے؟”
“باپ کی بات واپس کیسے ہو سکتی ہے؟”
یہ جملے اس کے فیصلے سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئے۔
ہما نے ہمت کر کے اپنی ماں کو سب کچھ بتا دیا۔
وہ چاہتی تھی کہ کوئی تو ہو جو اسے سمجھے… اس کے ساتھ کھڑا ہو۔
مگر جواب میں اسے خاموشی ملی… اور وہی پرانی سوچ۔
اس دن ہما کو شدت سے احساس ہوا کہ بعض اوقات سب سے مشکل جنگ اپنے ہی گھر میں لڑنی پڑتی ہے—
اور بعض اوقات ہجوم میں رہ کر بھی انسان سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔
وہ ٹوٹ رہی تھی…
مگر اس بار وہ اندر ہی اندر ایک اور فیصلہ بھی کر رہی تھی۔
وہ جان گئی تھی کہ اگر وہ آج خود کے لیے کھڑی نہ ہوئی…
تو وہ ہمیشہ کے لیے ہار جائے گی۔
آج ہما ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کے سامنے دو راستے ہیں:
ایک—خاموشی کا، جو اسے دوبارہ اسی اندھیرے میں لے جائے گا…
اور دوسرا—ہمت کا، جو مشکل ضرور ہے، مگر شاید آزادی کی طرف جاتا ہے۔
وہ اب بھی ڈرتی ہے…
مگر اب وہ جان چکی ہے:
“کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں،
جو اگر خود نہ کیے جائیں…
تو زندگی بھر انسان ان کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے…”
ہما ابھی فیصلہ کر رہی ہے…
مگر اس بار…
وہ خود کے لیے کرے گی۔
یہ ایک سچا واقعہ ہے، جس میں رازداری اور مجبوری کے تحت چند حالات و واقعات میں معمولی تبدیلی کی گئی ہے۔
آج یہ کہانی آپ کے سامنے اس امید کے ساتھ رکھ رہی ہوں کہ صاحبِ دل، صاحبِ نظر اور سمجھ رکھنے والے لوگ اسے محض ایک قصہ نہ سمجھیں، بلکہ اس کے پسِ منظر میں چھپے درد کو محسوس کریں۔
براہِ کرم اس پر سنجیدگی سے غور کریں اور اپنی رائے ضرور دیں—
کہ ایسی صورتحال میں اس بچی کو کیا قدم اٹھانا چاہیے؟
اپ کی رائے کا مجھے انتظار رہے گا
اگر اپ کو میری تحریر پسند ا رہی ہیں تو لائک شیئر اور
ری پوسٹ کر دیا کریں
ڈسکلیمر:
یہ کہانی ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہے، رازداری کی خاطر چند تفصیلات تبدیل کی گئی ہیں۔
مخلص شازمہ نور

…………………..……………

بقلم شازمہ نور
قیامت خود بتائے گی کہ قیامت کیوں ضروری ہے
سندھ کے ضلع خیرپور میں انسانیت ایک بار پھر شرم سار ہو گئی ہے۔ گمبٹ کے قریب ٹنڈو مستی کے علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں نوجوان لڑکی روبینہ چانڈیو کو مبینہ طور پر سینکڑوں افراد کے ہجوم کے سامنے بے رحمی سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق روبینہ نے پسند کی شادی کے لیے گھر چھوڑا تھا، تاہم بعد ازاں برادری کے دباؤ پر اسے محض چوبیس گھنٹوں کے اندر واپس لایا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مبینہ طور پر پولیس اس صورتحال سے آگاہ تھی اور اسے علم تھا کہ لڑکی کی جان کو خطرہ لاحق ہے، لیکن اسے کسی محفوظ مقام یا عدالت میں پیش کرنے کے بجائے انہی افراد کے حوالے کر دیا گیا جن سے اس کی جان کو خطرہ تھا۔
عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے مطابق، قتل سے قبل لڑکی بار بار اپنی جان کی امان اور اپنی مرضی سے شادی کے حق کے لیے دہائی دیتی رہی۔ وہ اپنی بے گناہی اور تحفظ کی اپیل کرتی رہی، مگر ہجوم میں موجود افراد نے اس کی فریاد کو نظر انداز کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق وہاں موجود افراد نے اس لرزہ خیز منظر کو روکنے کے بجائے ویڈیوز بنانے کو ترجیح دی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پسند کی شادی کے معاملے میں روایتی غیرت اور فرسودہ رسومات، بالخصوص کاروکاری جیسے غیر انسانی تصورات، آج بھی انسانی جان سے زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ایک نوجوان لڑکی، جو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی خواہش رکھتی تھی، اسی خواہش کی بھینٹ چڑھ گئی۔
اس افسوسناک واقعے نے ریاستی اداروں، قانون نافذ کرنے والے نظام اور معاشرتی ڈھانچے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر متاثرہ لڑکی اور لڑکا دونوں بالغ اور باہمی رضامندی سے رشتہ قائم کرنا چاہتے تھے تو پھر ان کے آئینی و قانونی حق کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں موت کے سپرد کیوں کیا گیا؟
عوامی حلقوں کی جانب سے حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ اور عدلیہ سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور ان پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے جن کی مبینہ غفلت کے باعث ایک قیمتی جان ضائع ہوئی۔
ٹنڈو مستی کا یہ دلخراش واقعہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

 میرپورخاص محمدی میڈیکل کالج کا افسوسناک واقعہ

 میرپورخاص کے محمدی میڈیکل کالج کا وہ چہرہ سامنے آیا ہے جس نے ہر باشعور انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تھرڈ ائیر کی طالبہ فہمیدہ لغاری کا کیس صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی کہانی ہے جو خاموشی کے پردے میں معصوم زندگیوں کو نگل رہا ہے۔ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ورثا کے بیانات اور کالج کی دیگر متاثرہ طالبات سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ جو حقائق سامنے آئے، وہ انتہائی خوفناک ہیں۔ ورثا کی درخواست پر فی الحال وہ اسکرین شاٹس منظرِ عام پر نہیں لائے جا رہے، تاکہ کیس پر کوئی اثر نہ پڑے، لیکن دستیاب معلومات کے مطابق، اس کالج میں کئی سالوں سے ایک منظم گروہ طالبات کو بلیک میل اور ہراساں کرنے میں ملوث رہا ہے۔ ان ناموں میں شامل ہیں: فارماسسٹ عابد لغاری، ڈاکٹر ندیم، ڈاکٹر غلام رسول بھرگڑی اور ڈاکٹر جگدیش۔ کہا جاتا ہے کہ عابد لغاری، جو بظاہر ایک استاد ہے، درحقیقت ایک ایسے کردار میں سامنے آیا جو دیگر افراد کے لیے سہولت کار کا کام کرتا رہا۔ طالبات کو مختلف بہانوں سے دباؤ میں لا کر، انہیں اس گروہ کے سامنے بے بس کر دیا جاتا۔ فہمیدہ لغاری، جو ایک پوزیشن ہولڈر طالبہ تھی، اسے بھی پیپرز اور لیب میں فیل کرنے کی دھمکیاں دے کر نہ صرف مالی طور پر بلیک میل کیا گیا بلکہ اسے ایک ایسے جال میں دھکیل دیا گیا جہاں سے نکلنا اس کے لیے ناممکن ہو گیا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب اس نے اپنے والدین کو آگاہ کیا۔ والدین نے بارہا کالج انتظامیہ، خصوصاً پرنسپل ڈاکٹر شمس کو تحریری شکایات بھی دیں۔ مگر افسوس… کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ ایک اور طالبہ کے مطابق، ایک دوسری طالبہ، جو دوسرے صوبے سے تعلیم حاصل کرنے آئی تھی، کو بھی اسی کالج کے ایک استاد نے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ بار بار شکایت کے باوجود کوئی سنوائی نہ ہوئی۔ جب میڈیا تک جانے کی بات کی گئی تو محض وقتی طور پر تین ماہ کی چھٹی دے کر معاملہ دبا دیا گیا۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ: کیا ایک تعلیمی ادارے میں ہراسمنٹ کے خلاف کوئی نظام نہیں ہونا چاہیے؟ محمدی میڈیکل کالج میں نہ کوئی فعال ہراسمنٹ کمیٹی ہے، نہ ہی شفاف انکوائری کا نظام۔ ایسے میں یہ بھیڑیے کھلے عام معصوم طالبات کا شکار کرتے رہے۔ یہی وہ حالات تھے جنہوں نے ایک 20 سالہ لڑکی کو اس حد تک توڑ دیا کہ اس نے زندگی سے ہی منہ موڑ لیا۔ موجود شواہد کے مطابق، کچھ افراد طالبات سے نازیبا گفتگو کرتے، ان کی جسمانی ساخت پر تبصرے کرتے اور ذہنی اذیت دیتے رہے—جو واضح طور پر ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔

آئی جی سندھ اور وزیر داخلہ کے نوٹس کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج تو کر لی، لیکن سوال اب بھی وہی ہے: ❓ کیا صرف ایف آئی آر کافی ہے؟ ❓ کیا ایسے عناصر واقعی سزا تک پہنچتے ہیں؟ ❓ اور سب سے بڑھ کر… کیا ہماری بچیاں محفوظ ہیں؟ جب تعلیمی ادارے اپنی ساکھ بچانے کے لیے سچ چھپاتے ہیں، تو انصاف کیسے ممکن ہوتا ہے؟ جب بچیاں خواب لے کر نکلیں اور لاشیں بن کر واپس آئیں، تو یہ صرف ایک خاندان کا نہیں، پورے معاشرے کا المیہ ہوتا ہے۔ آج نمرتا… کل فہمیدہ… اور شاید کل کوئی اور؟ ہم کب تک خاموش رہیں گے؟ کب تک یہ سوچتے رہیں گے کہ یہ ہماری بچی نہیں تھی؟ ❗ یاد رکھیں… خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ آئیں، آواز اٹھائیں۔ اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے لیے، انصاف کے لیے، اور ایک ایسے معاشرے کے لیے جہاں تعلیم خوف نہیں، تحفظ کی علامت ہو ۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

 شازمہ نور
کپڑے دھوتے دھوتے شبانہ اختر کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی انجانی طاقت نے اس کے دل کو اپنی طرف کھینچ لیا ہو—ایسا کھنچاؤ جیسے کسی تناور درخت کی شاخ کو جڑ سے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ اس کا ہاتھ صابن پر رکا، بدن ساکت ہو گیا، اور اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لیا۔ اندر کچھ عجیب سا ہلچل مچ رہی تھی… جیسے دل اپنی جگہ سے سرک رہا ہو۔
اچانک اسے پچھلی رات یاد آئی—جب نیند کے عالم میں بھی یہی کیفیت اسے چونکا کر جگا گئی تھی۔ وہ اندھیرے میں بیٹھ کر دیر تک اپنے دل کی دھڑکنیں سننے کی کوشش کرتی رہی تھی، مگر پھر نیند نے اسے دوبارہ اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔
صبح حسبِ معمول شروع ہوئی۔ شبانہ نے گھر کے کام سنبھالے، شوہر کو ناشتہ دیا جو گوجرانوالہ جانے کی تیاری میں تھا، اور چھوٹی بیٹی طلعت اپنے کلینک چلی گئی۔ گھر بظاہر معمول کے مطابق چل رہا تھا، مگر شبانہ کے اندر کچھ ٹوٹ رہا تھا… کچھ بکھر رہا تھا۔
اچانک دل کی وہی کھچاؤ بڑھ گئی۔ گھبراہٹ نے اسے بے قرار کر دیا۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر ننگے پاؤں باہر نکلی اور ہانپتی ہوئی آواز دی،
“طلعت… طلعت…!”
طلعت دوڑتی ہوئی آئی۔ ماں کا زرد چہرہ دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے۔
“امی! کیا ہوا؟”
شبانہ نے لرزتی آواز میں کہا،
“بیٹی… میرا دل ڈوب رہا ہے… جیسے کچھ ہونے والا ہے…”
طلعت نے نبض تھامی، مگر بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔
“امی، میں دوائی لاتی ہوں—”
“نہیں!” شبانہ نے فوراً کہا، “مجھے ڈاکٹر کے پاس لے چلو… ابھی…”
جلدی جلدی رکشہ روکا گیا، اور ماں کو سنبھالتے ہوئے طلعت اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ مگر ڈاکٹر نے دیکھتے ہی ہاتھ کھڑے کر دیے۔
“یہ شدید ہارٹ اٹیک ہے، فوراً ہسپتال لے جائیں!”
“لیکن ڈاکٹر صاحب…” طلعت کی آواز میں التجا تھی، “کچھ تو کریں… وقتی دوا ہی دے دیں…”
ڈاکٹر پیچھے ہٹ گیا،
“وقت ضائع نہ کریں، فوراً لے جائیں!”
یہ الفاظ جیسے کسی فیصلے کی مہر تھے۔ طلعت نے ماں کو رکشے میں بٹھایا، سینے سے لگایا، اور ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئی۔ ہر جھٹکے پر اس کا دل کانپ جاتا، ہر لمحہ اسے محسوس ہوتا جیسے وقت اس کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے۔
ہسپتال پہنچ کر سٹریچر آیا، عملہ جمع ہوا، اور شبانہ کو اندر لے جایا گیا۔ طلعت کو کہا گیا کہ ڈاکٹر کو بلائے۔ وہ دوڑتی ہوئی اوپر گئی، مگر ڈاکٹر ملنے میں ایک گھنٹہ لگ گیا۔
جب وہ ڈاکٹر کو لے کر واپس آئی… تو سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔
ڈاکٹر نے خاموشی سے کہا،
“I am sorry…”
یہ دو لفظ طلعت کی دنیا اجاڑ گئے۔
“امی…! آپ نے انتظار کیوں نہ کیا…؟” وہ چیختی رہی، مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔
ادھر ہسپتال کے عملے میں موجود حنیفاں بیگم اور سراج دین نے ہمدردی کا لبادہ اوڑھے رکھا، مگر ان کی نظریں کسی اور ہی لالچ میں تھیں۔ موقع ملتے ہی انہوں نے شبانہ کی کلائیوں سے سونے کی بارہ چوڑیاں اور انگوٹھیاں اتار لیں… اور پھر ایسے بے خبر بن گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
ادھر گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔ جب غسل کے دوران زیورات کا ذکر آیا تو سب پر جیسے بجلی گر گئی۔
“امی کی چوڑیاں کہاں گئیں…؟”
طلعت کے پاس کوئی جواب نہ تھا… صرف آنسو تھے۔
چند دن بعد دونوں بہنیں ہسپتال پہنچیں، سوال کیے، ہر دروازہ کھٹکھٹایا، مگر ہر طرف ایک ہی جواب ملا:
“ہمیں کچھ یاد نہیں…”
ادھر حنیفاں بیگم وہ زیورات لے کر اپنی بیٹی کے گھر پہنچ گئی۔ بیٹی کے شوہر کو موٹرسائیکل چاہیے تھی۔ اس نے فخر سے چوڑیاں سامنے رکھ دیں،
“بیٹا! یہ سب تمہاری خوشیوں کے لیے ہے…”
مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
چند دن بعد وہی موٹرسائیکل ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ بیٹی اور اس کا معصوم بچہ موقع پر جاں بحق ہو گئے… اور سب سے ہولناک بات یہ کہ کسی نے بیٹی کی کلائی کاٹ کر ساری چوڑیاں غائب کر دیں۔
یہ منظر دیکھ کر حنیفاں کے ہوش اڑ گئے۔ وہ چیختی، روتی، زمین پر گر پڑی—مگر اب کچھ باقی نہ تھا۔
کہتے ہیں اس کے بعد سے ایک پاگل عورت ہسپتال کے پچھواڑے میں نظر آتی ہے۔ ہاتھ میں ایک ٹوٹی گڑیا لیے، لوگوں کے پیچھے بھاگتی ہے اور فریاد کرتی ہے:
“میری بیٹی کا بازو واپس کر دو…”
“چوڑیاں رکھ لو… بس کلائی دے دو…”
لوگ اسے پاگل کہہ کر گزر جاتے ہیں… مگر شاید وہ پاگل نہیں…
بلکہ ایک ایسی ماں ہے جسے اپنے گناہوں کی سزا اسی دنیا میں مل گئی۔
[18:38, 06/04/2026] Safdarhamadani: یہ ہے
[19:08, 06/04/2026] Zahida: Jee

SHARE

LEAVE A REPLY