ہماری بہت بڑی اکثریت کس غلط فہمی کا شکار ہے؟ڈاکٹر نگہت نسیم

1
1008

گزشتہ دو دنوں میں پاکستان میں چھ ڈاکٹر کورونا سے مر گئے ۔۔دہائی جس ملک کے فرنٹ لائن ورکرز یوں بے بسی سے مر رہے ہوں ، وہاں کی حکومت اور عوام کا یہ حال ہو کہ کورونا کو صیہوانی سازش کہہ رہے ہوں اور یہ بھی کہ موت کی یہ سیج بل گیٹس نے اپنی ویکسین بیچنے کے لئے سجائی ہے ۔۔ کس دھڑلے سے کہتے ہیں کہ مغرب کا منہ دیکھنا بند کریں اور قدیم دانش سے کام لیں ۔

دوستو!
آپ زندہ رہیں گے تو کسی سازشی تھیوری کو بےنقاب کر پائیں گے ناں۔۔۔ !
حقائق سے آنکھیں چرانے سے دنیا کی کوئی مصبیت کبھی ختم نہیں ہوتی وہ چاہے وبا ہو یا گھریلو حالات ۔ جب سے کورونا شروع ہوا ہے تب سے تجزیہ کاروں ، ماہرین دانشوروں اور مشورے دینے والوں کی ایک ایسی نسل پیدا ہوئی ہے جس کو شائد وائرس کا مفہوم پتہ نہ ہو اور نہ وہ وائرس کے بارے میں بنیادی معلومات رکھتے ہوں ۔

دعا سے انکار نہیں ہے ۔ لیکن دعا سے پہلے کے درجن بھر مراحل ہیں وہ کون کرے گا ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت کس غلط فہمی کا شکار ہے ۔
کیا ہم دنیا کی سب سے بڑی معشیت ہیں ؟
کیا دنیا کی نوے فیصد ایجادات کا سہرا ہمارے سر ہے ؟
کیا پی ایچ ڈییز سب سے زیادہ مسلمان ملکوں کے ہیں ؟
کیا انسانی حقوق کا ریکارڈ سب سے اچھا مسلمان ملکوں کا ہے ؟
کیا آپ میں سے کسی نے ویکسین کی ٹیسٹنگ کے لئے خود کوپیش کیا ؟

اگر یہ سب کچھ ہوتا تو ہم مان لیتے کہ مغرب ، صہونیت اور نصرانی ہر بار ہمارے خلاف سازش کرتے ہیں ۔

ہم اپنے خول میں اپنی دانش میں اس لیئے بند رہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں باہر کی دنیا نظر نہ آئے ۔ کبھی سوچا آپ نے جس فیس بک پر بیٹھ کر آپ سب کچھ لکھتے اور اپنی بقراطی جھاڑتے ہیں وہ مسلمانوں کی ایجاد نہیں ہے اور نہ ہی کسی مسلم ملک نے اس میں کوئی پیسہ لگایا ہے ۔ جس چین کی آپ مثال دیتے ہیں اس نے فیس بک اور ٹوئٹر“ اپنا “ بنایا ہوا ہے اور ویکسین پر بھی وہ ڈبلیو ایچ او کا آسرا نہیں کرتا ۔

عمرے ، حج، اعتکاف کرنے والوں نے کیا کبھی بھی اس جانب توجہ دی ہے

میری بات کا آپ سب برا نہ منایئں تو عرض کروں حج اور عمرے سے واپس آتے ہوئے تحفے کے طور جو جائے نماز اور تسبیح لے کر آتے ہیں وہ بھی چین ہیکی بنی ہوئی ہیں ۔ چین نے اس وبا پر سب سے پہلے ننانوے فیصد قابو پایا ہے اور اسکی باقی عوامل کے علاوہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے جواحکامات جاری کیئے اس پر عوام کو ایک ہزار فیصد عمل کرنا پڑا ورنہ حکومت نے سزایئں دیں ۔ چین میں مولوی اور نام نہاد علماء  کا نہ ہونا خیر و برکت کی علامت ہے  ۔

پاکستان میں تاجر ، مولوی حضرات ، اور دیگر مفاداتی طبقے میں سے کون ہے جو حکومت کے احکامات پر عمل درآمد کرتا ہے ۔ اور پھر وہ حکومتیں جن کی اپنی کوئی رٹ نہ ہو ، جنہیں عوام شعور سے عاری ملے ہوں وہاں اس وبا کا پورا زور ابھی چند ہفتوں میں ظاہر ہونے والا ہے جو عید کے بعد کے اثرات ہونگے ۔ یاد رکھئے موت برحق ہے لیکن خودکشی حرام ہے ۔

ایک اور طبقہ کہہ رہا کہ کورونا کی وجہ سے گھر بیٹھے رہے تو معاشی طور پر بھوک سے مر جائیں گے ۔ جس پر پاکستان سے برادر یوسف وٹو نے فیس بک پر میری پوسٹ کے تبصرے میں لکھا کہ “ بھوک سے مرنے والی تھیوری بھی حاکم وقت کی اختراع ہے.. روٹی بہرحال عوام کو ملتی ہے.. ہماری 65 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے. وہاں گندم ہر گھر میں ہوتی ہے. 35 فیصد شہری آبادی میں گلی محلے کی سطح پر پلاننگ سے چند گھرانوں میں راشن دیا جا سکتا ہے. درحقیقت حاکم کی معاشی پالیسیوں نے معیشت کو تباہ کر دیا.۔۔“

ہم انسان تسبیح کے دانوں کی طرح پروئے ہوئے ایک دوسرے پر انحصار کرنے والی معاشرت میں رہتے ہیں ۔ اگر کوئی اس بیماری کو یہود و نصاری  کی سازش بھی سمجھ رہے ہیں ان پر بھی شدید ذمیداری ہے کہ ان کی زندگیوں اور صحت کا خیال رکھے جو کرورنا کو واقعی وبا سمجھتے ہیں ۔

ویکسین کے آنے میں جتنا بھی عرصہ لگے قدیم دانش کیا کہتی ہے ۔۔ یہی کہ جس جگہ وبا ہو وہاں نہ جاؤ اور جو تم اس جگہ ہو تو وہاں سے نہ نکلو ( حدیث مبارک) ۔ اور قدیم دانش یہ بھی کہتی ہے صفائی نصف ایمان ہے ( حدیث مبارک) ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس وبا سے بچنے کے لئے بھی یہی تو درکار ہے ۔۔ اس پر عمل کرنے میں کیا مشکل ہے ۔

کچھ لوگ کورونا کو سازشوں سے جوڑ کر اکثریت کو کیوں گمراہ کر رہے ہیں ؟ ؟ ۔ جن ملکوں کو آپ سازشی کہہ رہے ہیں ان ملکوں میں بھی تو لوگ مر رہے ہیں اور آپ سے زیادہ بڑی تعداد میں مر رہے ہیں ۔ آپ سب کیوں سمجھ نہیں رہے کہ یہ وبا ابھی گئی نہیں ہے بلکہ عالمی ادارہ صحت نے سخت انتباہ کیا ہے کہ اسکی دوسری اور تیسری لہر کا بھی شدید خطرہ ہے۔

یاد رکھیں اگر کبوتر آنکھیں بند کر لے تو بلی بھاگ نہیں جاتی بلکہ بند آنکھوں والے کبوتر کو آسانی سے شکار کرتی ہے

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. جی یہاں پاکستان میں کرونا کی وبا کو سنجییدگی سے نہیں لیا جارہا, افسوس اس بات کا ہے کہ جہاں ایک طرف
    حکومت وقت تذبذب کا شکار ہےفیصلہ سازی میں اعتماد
    کمی اور ناکامی نظر آتی ہے تو دوسری طرف عوام میں بھی شعور کی کمی اور جہالت کافی شدت میں موجود ہیں خدا نخواستہ آنے والے دنوں میں کیا وبائی طوفان آنے والا ہے سوچ کر ہی دہشت طاری ہورہی ہے, اللّہ ہم پر رحم فرماۓ

LEAVE A REPLY