کیا ہے کسی کے پاس ان باتوں کا جواب ۔۔۔؟؟، سید عارف مصطفی

0
934

امریکا میں مقیم پی ٹی آئی کے پرانے اور دیانتدار رہنماء محبوب اسلم جنہوں‌نے پارٹی کی کونپل کو درخت بنانے کے لئے بڑی محنت کی تھی اور وہ کافی عرصے تک امریکہ میں بسنے والے پاکستانی حلقہء احباب سے کثیر رقوم کا چندہ لے کر پاارٹی کو بھیجتے رہے تھے مگر بعد میں‌ جب اانہیں پارٹی فنڈز میں بڑی خرد برد کی اطلاعات ملیں تو انہوں نے پاکستان آکر عمران خان سے روبرو ملاقات میں چندے کا حساب مانگ لیا جس پہ انہیں گریبان سے پکڑ کے بنی گالہ سے نکال دیا گیا تھا جس کا ذکر میڈیا میں بھی آیا تھا- ۔۔۔ جس کے بعد سے وہ عمران خان کے ساتھی تو نہیں رہے مگر اکبر شیر بابر کی مانند پرانی پی ٹی آئی کے اصلی انقلابی نظریات کے ساتھ آج بھی مقصدیت اور اصلاح کا چراغ جلائے کھڑے ہیں اور میں بھی تاحال اسی پرانی پی ٹی آئی کا ہی حصہ ہوں ۔۔۔۔
ذیل میں ان کا وہ بالواسطہ تبصرہ ملا حظہ کیجئے کہ جو انہوں‌ نے عمران خان کے کل قوم سے خطاب پہ کیا ہے –

آئیئے ذرا تھوڑی دیر کے لیے سوچتے ہیں کہ ہمارے خان صاحب عوام کو باہر نکالنے کے لیے ایسے کیوں نہیں کہہ رہے کہ
میرے ساتھ نکلو میں نے اپنے چار سالہ دور میں پولیس ریفارمز کیں
میرے ساتھ نکلو میں نے تعلیمی نظام میں انقلاب برپا کیا ہے
میرے ساتھ نکلو میں نے کرپشن کا خاتمہ کیا ہے
میرے ساتھ نکلو میں نے اشیائے خوردونوش کو سستا کیا ہے
میرے ساتھ نکلو میں نے کشمیر فتح کر لیا۔
میرے ساتھ نکلو میں نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ پورا کر دیا ۔ میں نے وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاوسز میں یونیورسٹیاں قائم کر دیں۔
میرے ساتھ نکلو میں نے مزدور اور تنخواہ دار طبقے کی زندگی آسان کردی۔
میرے ساتھ نکلو میں نے ایک کروڑ نوکریاں دیں اور پچاس لاکھ گھر بنا دیئے۔
میں نے اپنی بہن علیمہ خان کی چھ ارب کی جائیداد کا حساب مانگا۔ میں نے جنرل عاصم باجوہ کی بیرون ملک دولت کی منی ٹریل مانگی۔
میرے ساتھ نکلو میں نے توشہ خانے سے لئے جانے والے تحائف کا حساب قوم کے سامنے رکھا۔
میں نے فارن فنڈنگ کیس میں اپنی پاکدامنی ثابت کی۔ میں نے خسرو بختیار ، جہانگیر ترین ، عامر کیانی ، علیم خان ، آعظم سواتی ، پرویز خٹک ، زلفی بخآری ، ندیم بابر کو کرپشن پر سزائیں دلوائیں۔
میرے ساتھ نکلو کہ میں نے اپوزیشن کا احتساب کر کے اربوں روپوں کی وصولیاں کیں۔
میرے ساتھ نکلو کہ میں نے قوم کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کر دیئے۔

ذرا بتائیں تو سہی کہ اور چوروں کو نشان عبرت بنانے کے لیے جب نظام بدلنے کی بات کی جا رہی تھی اس وقت خان صاحب کدھر تھے؟
اب جب اس نظام نے خان صاحب کو دن میں تارے دکھائے ہیں تو موصوف اپنی کارکردگی کی بجائے “مذہب” کا استعمال کر رہے ہیں

میں صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کس “امر بالمعروف” کی وجہ سے آج تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کا نام نہیں لیا؟
کس “امر بالمعروف” کی وجہ سے سب سے بڑا صوبہ ایک نااہل شخص کے حوالے کر رکھا تھا
کس کس “امر بالمعروف” کا ذکر کروں؟

صرف اتنا بتا دیں کہ وزیر اعظم کی سیٹ پر بیٹھ کر کتنی مرتبہ “امر بالمعروف” کے نام پر پارلیمنٹ میں اجلاس بلایا ہے یا نظام بدلنے کی کوشش کی ہے

اب جب کرسی خطرے میں پڑی ہے تو “مذہب” بھی یاد آ گیا ہے اوریکایک “امر بالمعروف” بھی ۔۔۔ کمال ہے بھئی کمال ہے۔۔۔۔۔!

سید عارف مصطفیٰ

SHARE

LEAVE A REPLY