وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ طلب میں بھی اضافہ ہورہا ہےاور 5سال میں بجلی کی طلب 45 فیصد بڑھ گئی ہے۔
یہ بات وزیر اعظم نے اسلام آباد میں توانائی منصوبوں کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی اور کہا کہ رمضان میں شام 6 سے صبح 4 بجے تک 90 فیصد صارفین پر کوئی لوڈشیڈنگ نہیں جبکہ ماضی کی نسبت اس رمضان میں حالات بہت بہتر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2013 میں 6.3ارب یونٹ استعمال ہوئے لیکن اب 2018 میں بجلی کے 9.2 ارب یونٹ استعمال ہوئے ،قومی نظام میں 10 ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی ہے اور اس سال 35 فیصد اضافی بجلی پیدا کی گئی جبکہ اس حکومت نے 11 ہزار 461 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جون میں ڈیمانڈ 22 ہزار 538 میگاواٹ اور پیداوار 22 ہزار 176 میگاواٹ ہوگی اور اگر پانی کے ذخائر میں بہتری آئی تو جون جولائی میں شارٹ فال نہیں ہوگاتاہم ذخائر میں کمی کی وجہ سے پانی سے اس سال آدھی بجلی پیدا ہو رہی ہے۔
شاہد خاقان نے بتایا کہ اگلے 3 سال میں 10 ہزار 687 میگاواٹ اور اگلے 5 سال میں 17 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی سسٹم میں شامل ہوگی اور یہ منصوبے مکمل ہوگئے تو 2025 تک ملک میں بجلی کی کمی نہیں ہوگی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ کل افطار میں بجلی کی طلب 24 ہزار800 میگاواٹ تھی جو ایک ریکارڈ ہے جبکہ اس وقت ہمارے پاس 28 ہزار 400 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔













