ایون فیلڈ ریفرنس ,فیصلہ ہو گیا۔ نواز شریف دس سال اور مریم سات سال قید

0
1153

چوتھی مرتبہ موخر ہونے کے بعد ملکی تاریخ کا ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا جو ایون فیلڈ کی جائیدادوں کے حوالے سے ہے اور جس میں نواز شریف فیملی شامل ہے

فیصلے کے بارے میں نیب کے وکیل استغاثہ نے عدالت سے باہر آ کر میڈیا کو بتاہا جس کے مطابق نواز شیف کو دس سال اور مریم کو سات سال قید با مشقت کی سزا دی گئی

ایون فیلڈ کی جائیداد کو بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات

نواز شریف کو۸ ملین پاونڈ جرمانہ

مریم نواز کو دوملین پاونڈ جرمانہ

کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکو ایک سال قید با مشقت

فیصلہ بند کمرے میں سنایا گیا جس میں فریقین کے وکلا موجود تھے تا ہم میڈیا کو اجازت نہیں دی گئی

عدالت کے اندر اور باہر سخت سیکیورٹی کے انتظامات تھے اور عدالت کا کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اس مقدمے میں ۱۸ گواہ پیش کیئے گئے

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کے خلاف 8 ستمبر 2017 کو عبوری ریفرنس دائر کیا جس میں انہیں ملزم نامزد کیا۔ریفرنس پر 14 ستمبر 2017 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے پہلی سماعت کی اور لگ بھگ ساڑھے 9 ماہ بعد آج اس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

احتساب عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے انہیں ریفرنس سے الگ کیا۔

مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے 26 اکتوبر کو نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جس کے ایک ماہ بعد یعنی ستمبر کو نواز شریف پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے جب کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز 9 اکتوبر کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئیں۔احتساب عدالت نے نواز شریف کے داماد کے ناقابل ضمانت وارنٹ بھی گرفتاری جاری کیے اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایئرپورٹ سے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔

انیس اکتوبر 2017 کو مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی، نواز شریف کی غیر موجودگی کے سبب ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی۔

تین نومبر کو نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر ایک ساتھ عدالت میں پیش ہوئے اور آٹھ نومبر کو پیشی کے موقع پر نوازشریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔ مزید شواہد سامنے آنے پر نیب نے 22 جنوری 2018 کو ضمنی ریفرنس دائر کیا۔ایون فیلڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر 18 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔

گیارہ جون 2018 کو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ ہوگئے اور 19 جون کو وہ احتساب عدالت پہنچے اور دستبرداری کی درخواست واپس لے لی،عدالت نے گواہان پرجرح مکمل ہونے کے بعد نواز شریف کے خلاف فیصلہ آج چھ جولائی جمعے کے روز سنایا گیا

SHARE

LEAVE A REPLY