بدھ کوجی 20 بڑی معیشتوں کے گروپ کے واشنگٹن میں ہونے والے ایک اجلاس میں روس کو شرکت کی اجازت دینے کے خلاف احتجاج کے طور پر امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے سینئر رہنما واک آؤٹ کر گئے۔
امریکہ اور جی20 کے دیگر ممبران نےاجلاس کی صدارت کرنے والے ملک انڈونیشیا سے مطالبہ کیا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملہ کرنے پر اجلاس میں شرکت سے روکے۔
وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق روس کو اجلاس میں شرکت کی اجازت یوکرین میں جنگ سے نمٹنے کے معاملے پر جی20 گروپ کے اندر تقسیم کو نمایاں کرتی ہے۔
اگرچہ یوکرین اس گروپ کا رکن نہیں ہے،اس کے وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ سیشن کے آغاز میں یوکرینی وزیر خارجہ ڈی مٹرو کولیبا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یوکرین امن مذاکرات کے حصے کے طور پر اپنا علاقہ روس کو نہیں دے گا۔ کلیبا اور یوکرینی وزیر خزانہسرحی مارچینکو دونوں واک آؤٹ میں شامل ہوئے۔
اپنے تبصرے میں، روس کے وزیر خزانہ انٹن سلوانوف نے رکن ممالک کے درمیان بات چیت کو سیاسی رنگ دینے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جی20 گروپ میں شامل بڑے ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان اور کینیڈا نے یوکرین میں روسی اقدامات کی پر زور مذمت کی ہے اور ماسکو پر سخت اقتصادی پابندیوں کے نفاذ میں بھرپور حصہ لیا ہے۔
لیکن دوسری طرف گروپ میں شامل بہت سے دوسرے ممالک نے ایسا نہیں کیا۔ ان ممالک میں چین، انڈونیشیا، بھارت اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔













