اکیس دسمبر سال کا وہ دن ہے جب وقت خود کو خاموشی سے سمیٹ لیتا ہے، دن اپنی مختصر ترین صورت میں ڈھل جاتا ہے اور رات اپنی پوری طوالت کے ساتھ زمین پر اتر آتی ہے؛ سورج کی روشنی جیسے تھک کر لوٹ جاتی ہے اور اندھیرے کو غیر معمولی مہلت مل جاتی ہے کہ وہ سوچ، احساس اور یادوں پر اپنی حکمرانی قائم کر لے
یہ دن اور رات کا سنگم محض ایک فلکیاتی واقعہ نہیں بلکہ انسان کے باطن میں اترنے کا لمحہ بھی ہے جہاں خاموشی بولنے لگتی ہے، سردی فضا میں نہیں دلوں میں بھی سرایت کر جاتی ہے، اور طویل رات انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اندھیرا چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، روشنی کے لوٹ آنے کا وعدہ اپنے اندر سمیٹے رکھتا ہے۔
اکیس دسمبر سال کا وہ دن ہے جب زمین اپنے محوری جھکاؤ کے باعث سورج سے اس زاویے پر آ جاتی ہے کہ شمالی نصف کرے میں دن سب سے چھوٹا اور رات سب سے طویل ہو جاتی ہے، جسے سائنس کی زبان میں سرمائی انقلاب (Winter Solstice) کہا جاتا ہے؛ اس روز سورج کی شعاعیں نسبتاً ترچھی پڑتی ہیں، حرارت کم ہو جاتی ہے اور روشنی جیسے مختصر سی مہمان بن کر رہ جاتی ہے، مگر اسی سائنسی حقیقت کے ساتھ یہ دن ایک فکری استعارہ بھی بن جاتا ہے جہاں فطرت انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ تاریکی اپنی انتہا پر پہنچ کر ہی واپسی کی راہ دکھاتی ہے، طویل رات کے دل میں نئے دن کی امید پوشیدہ ہوتی ہے، اور یوں کائنات کے یہ حسابی اصول بھی زندگی کے معنوی سچ سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔
اکیس دسمبر کے بعد دن بتدریج لمبے اور راتیں آہستہ آہستہ چھوٹی ہونے لگتی ہیں، گویا فطرت اندھیرے کی انتہا پر پہنچ کر روشنی کی واپسی کا اعلان کر دیتی ہے











