اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو تین روز میں فیض آباد میں دھرنا ختم کرانے کی ایک اور ڈیڈ لائن دے دی۔ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر وفاقی وزیر داخلہ کوشوکا زنوٹس بھی جاری کر دیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیض آباد دھرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس شوکت صدیقی نے ابتک عدالتی حکم پر علمدرآمد نہ ہونے پرشدید برہمی کا اظہارکیا۔ سیکریٹری داخلہ نے موقف اپنایا کہ ضرورت پیش آنے پر ریاست پوری طاقت کا استعمال کر سکتی ہے تا ہم ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے خون خرابہ ہوسکتا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ابھی تک توکچھ بھی نہیں ہو رہا۔ عدالت کے سوال پر چیف کمشنر نے بتایا کہ حکومت نے اقدام اٹھانے سے روکا ہوا ہے، جسٹس شوکت صدیقی بولے وزیر داخلہ نے کس اتھارٹی کے تحت عدالتی حکم کے باوجود کاروائی سے روکا؟، وفاقی وزیرداخلہ بلکہ وزیراعظم کا عدالتی حکم کے خلاف جانا سمجھ سے بالا ترہے یہ اقدام عدالت حکم کونیچا دکھانے کی کوشش ہے۔
عدالت نے احسن اقبال کوشوکازنوٹس جاری کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو 3 روزمیں فیض آباد خالی کرانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کہا عدالت سیدھی سیدھی گولیاں چلانے یا فائرنگ کرنے کا لائسنس نہیں دے سکتی، آنسو گیس کے شیلز سے بھی آدھے سے زائد لوگ بکھر جائیں گے۔ عدالت نے راجہ ظفرالحق رپورٹ 27 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ پبلک نہیں کریں گے، جن لوگوں کے نام شامل ہیں وہ باہر نہیں جائیں گے، عدالت نے ڈی جی آئی بی اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ فیض آباد دھرنے کے پیچھے ایجنسوں کے ہونے کے تاثر کو ختم کرنا حساس اداروں کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے سماعت 27 نومبرتک ملتوی کر دی۔












