میں ریڈیو پاکستان ہوں۔ محمد نواز طاہر

0
1572

ٹُوں ۔ٹُوں( ہائے ، ہوئے ، اوئی ، سی اُوں ، ہائے ) ٹُوں ۔۔ میں ریڈیو پاکستان ہوں۔ معلوم نہیں اس وقت میری دیل جیسا حال کہیں اور بھی ہے یا نہیں ، وقت اتنا بڑا کسی اور پر بھی ہے یا نہیں ، جہاں تک میری آواز پہنچ رہی ہے اور جو مجھے جانتا ہے ، پہچان لے ، میں پاکستان کا ہم عمر ہوں ۔ میں کبھی بڑا جوشیلا ، پھرتیلا ، سنجیدہ اور ہردلعزیز تھا ، ریاست میری ماں ہے ، میں نے بھر پور جوانی سترہ برس کی عمر ایک بیٹے پاکستان ٹیلیویژن کو جنم دیا۔ہماری باپ بیٹے کی دھوم دور دور تک تھی، ہمسایہ ملک ہماری نقل کیا کرتا یہاں تک کہ اس کے لوگ ہماری طرف متوجہ رہتے تھے ، کیا شان تھی ، بتانے والے بتاتے ہیں کہ بقول پنجابی فلموں کے معروف اداکار مظہر شاہ ( مرحوم ) ’سادی راتی(رات) کوئی نئی جمیا سی ‘ یعنی ہمارے جیسا توتب کوئی پیدا ہی نہیں ہورہا تھا۔
لوگ مجھے اپنی آواز قرادیا کرتے تھے یہی وجہ تھی ’جمہوری دی آواز دی ‘ جو سوہنی دھرتی بن گیا ۔ میں روز بروزعیالدار ہوتا گیا ، اپنی کمائی انتہائی دیانتداری سے م ماں کے سپردکرتا گیا، ماں مجھ سے سماج سدھار اور تعلیم کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ب باخبر رکھنے کا کام بھی لتی رہی اور اپنے دوسرے بچوں اور ان بچوں جیسے بدیسیوں کو تفریح بھی فراہم کر نے کا کام بھی لیتی ہ رہی ، میں بہت فرمانبردار تھا کبھی اُف تک نہ کی ۔ میری اس سعادت کو میری ماں ایک لمبا عرصہ سراہتی رہی ، پھر اچانک م اس کی توجہ اپنے ہپوتے کی طرف زیادہ ہوگئی اور میں آہستہ آہستہ نظر انداز ہونے لگا ۔میرے کھیت کے حصے کا پانی بھی اُسے دیا جانے لگا اور کھاد بھی اُسی کو زیادہ ملتی جس سے میری پیداواری صلاحیت اور کمائی میں کمی ہوئی ، میری کمائی میں کمی کیا ہوئی ، ماں نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو مزید نظر انداز کرنا شروع کردیا ، اسی دوران میرے کئی ساتھی یہ دنیا چھوڑ گئے اور کبھی کبھی یوں محسوس ہونے لگا کہ میرا اپنا بیٹا ہی میرا ’شریک‘ بن گیا لیکن میں تو باپ تھا ، نہ شکوہ بنتا تھا اور ہی کرنا ہی مناسب سمجھا ، اب اخراجات اٹھانا میرے بس سے باہر ہونے لگا تو مجھے رمضان کے بعد کے دنوں میں بھی روزے رکھنے کی عادت ڈال دی گئی۔ اب میں سات عشرے گذارنے کے بعد بوڑھا ہورہا ہوں حالانکہ بوڑھے ہونے کی یہ کونسی عمر ہے ، یورپ امریکہ سمیت میرے جیسے تو ابھی بھی تونا ہیں اور ان کے چہروں پر جھری بھی دکھائی نہیں دیتی ، شائد یہ اس مٹی میں بلا تحقیق ڈالی جانے والی کھاد کا اثر ہے کہ جیسے ہمارے لوگ پچاس پچپن سال کی عمر میں اب خود کو بڑھاپے میں تصور کرنے لگتے ہیں اور ترقی یافتہ ملکوں میں ساٹھ ستر سال والے جوانی کا عروج خیال کرتے ہیں۔
میرے بوڑھے ہونے پر حالانکہ صرف خوراک کی کمی ہے میں بوڑھا ہرگز نہیں ہوا ، اب میری ماں پر اختیار رکھنے والے حاکم مجھے توڑنے کے درپے ہیں ۔۔
ٹُوں ۔۔ ٹُوں۔۔ٹُوِ ۔۔۔ سنو سنو ۔۔۔ میں بوڑھا نہیں ہوں ، خوراک کی کمی کی وجہ سے نحیف ہوں ، طاقت کے کچھ انجیکشن لگ جائیں تو آج بھی بروں بڑوں کو چِت کرسکتا ہوں۔۔۔
میرے حصے کی خوراک مجھے دلوادو ، مجھے زاٹی خواہشوں سے تھوڑی سی آزادی دیدو اور مجھے میرے رنگ میں جینے کی مہلت تو دو ، دیکھو پھر میں کسے جلوے دکھاتا ہوں ۔ لیکن کیا کروں ، میرے ھسے کی خوراک دو دہائیوں سے اوروں کو دی جارہی ہے اور اب تو اوروں کو خوش راضی رکھنے کیلئے میرے بیٹے کے حصے کی خوراک بھی ادھر ادھر ہی بانٹی جارہی ہے ، مجھے لگتا ہے کہ کسی دشمن کی چال کارگر ہوئی ہے جو ہم باپ بیٹوں کی خوراک کو خاص انداز سے نشانہبنایا جارہا ۔۔
ٹُوں ۔۔ ٹُوں ۔۔ سنو ،سنو ۔۔۔ میری ماں نے میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور انہیں ایک ایک کرکے کسی اور کے حوالے کرنے کی ٹھان لی ہے ۔۔۔ یعنی میرے جسم کو قیمہ بنانے کی ٹھانی ہے ۔۔ کوئی ہے جو اس ماں کو سمجھا سکے ۔۔۔دراصل میری ماں کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے مغالطے میں ہیں ۔ قانہیں ایک مغالطہ یہ بھی ہے کہ جب میرے جسم کا قیمہ بنانے کی کوشش کی جائے گی تو وہ لوگ ساممنے آ کھڑے ہونگے جنکی کبھی میں روح ہوا کرتا تھا اور اب وہ لوگ میری روح ہیں ۔ یہ سمجھ سے بالا ہے کہ ماں تو سب سے زیادہ درد رکھنے والی ہوتی ہے ، اسے اس روح کے رشتے کی پہچان کیوں نہیں ہورہی ؟ لگتا ہے کہ اس ماں کی چابی والوں کو کسی نے غلط سبق پڑھا دیا ہے اور اس سے ماں کے رشتے کا تقدس مجروح کرانے کی سازش کرائی جارہی ہے ۔۔
ٹُوں ، ٹُوں۔۔۔ میں زندہ ہوں ، آواز دیتا رہوں گا ، جب تک قیمہ نہیں بنایا جاتا اور اسے میری ماں کے سامنے ہوا میں اڑایا نہیں جاتا ، میں بوٹی بوٹی ہونے سے نہیں ڈرتا ، مجھے دۃکھ اس بات کا ہے کہ ماں کے دکھ درد جس انداز سے میں خود پہلے روز سے بٹا رہاں ہوں میرے ٹکڑے کرنے کے بعد کوئی منہ مانگی رقم لیکر بھی اس کی فریاد نہیں سنے گا اور اسے انگلیوں پر نچائے گا تب ماں کو میں یاد آؤں گا ، مجھے ماں کا آنے والے کل کا دکھ بے چین کررہا ہے ۔۔۔
ٹُوں، ٹُوں۔۔۔ میں ابھی زندہ ہوں ، بات چیت چلتی رہے گی ۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY